{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreiefexoioa2qfao5lyfff3vlrjcsko5n3364254rtxznvl7pcjztw4",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mnvh2v65n7r2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreigsvz3da37oufmpmhlp72dhgheywcbyufkr6bo5vv2kg5kfr7h2qu"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 43457
},
"path": "/node/186240",
"publishedAt": "2026-06-09T05:13:52.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"pic.twitter.com/5DDgHAscBj",
"June 9, 2026",
"ایران",
"امریکہ",
"اسرائیل",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"دنیا",
"news",
"@araghchi"
],
"textContent": "**ایران کی سرحدوں کے قریب موجود غیر ملکی افواج علاقہ چھوڑ دیں: عباس عراقچی**\n\nایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے منگل کو کہا ہے کہ ایرانی حدود کے قریب موجود غیر ملکی افواج کو اپنے ہی انسانی غلطیوں، عام حادثات یا ممکنہ طور پر کراس فائر کی زد میں آنے کے باعث مسلسل خطرات لاحق ہیں، لہٰذا انہیں وہاں سے چلے جانا چاہیے۔\n\n> Foreign forces in proximity to our territory are at constant risk on account of their own human errors, plain accidents, or potentially being caught in crossfire.\n>\n> To reduce risk, best solution is for them to leave.\n>\n> We prefer language of diplomacy but speak other languages too. pic.twitter.com/5DDgHAscBj\n>\n> — Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) June 9, 2026\n\nایکس پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ خطرات میں کمی کا بہترین حل یہی ہے کہ یہ غیر ملکی افواج علاقہ چھوڑ دیں۔\n\nان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران آبنائے ہرمز میں گشت کرنے والے ایک امریکی ہیلی کاپٹر کو گرائے جانے کا ذمہ دار ہے اور واشنگٹن کو اس کا جواب دینا ہوگا۔ (روئٹرز)\n\n* * *\n\n**ایران نے امریکی ہیلی کاپٹر گرایا: ٹرمپ**\n\nامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا کہ ایران نے رات کے دوران آبنائے ہرمز میں گشت کرنے والے ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کو مار گرایا ہے۔\n\n\n\n\nان کا کہنا تھا ’امریکہ کو اس حملے کا ہر صورت جواب دینا ہو گا۔‘ روئٹرز\n\n* * *\n\n**برطانیہ کا اپنے شہریوں اور کمپنیوں کو غیر قانونی اسرائیلی بستیوں میں کاروبار نہ کرنے پر زور**\n\nبرطانیہ کی حکومت نے منگل کو برطانوی کاروباری اداروں اور شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم ان اسرائیلی بستیوں میں مالی اور تجارتی سرگرمیوں سے گریز کریں جنہیں بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی قرار دیا جاتا ہے۔\n\nبرطانوی وزیر خارجہ ویٹ کوپر نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’میں نے کاروباری اداروں کے لیے جاری کیے گئے خطرات سے متعلق رہنما اصولوں کو مزید سخت اور واضح بنا دیا ہے۔\n\nمقبوضہ مغربی کنارے کے شہر نابلس کے جنوب میں واقع گاؤں بیٹا میں 18 جون، 2021 کو احتجاج کے بعد اسرائیلی آبادکاروں کی حال ہی میں قائم کی گئی چوکی کے سامنے فلسطینی پرچم لہرا رہا ہے (اے ایف پی)\n\n\n\n\n’اگر آپ برطانوی شہری یا کاروباری ادارہ ہیں تو آپ کو غیر قانونی اسرائیلی بستیوں میں کسی بھی قسم کی معاشی یا مالی سرگرمی نہیں کرنی چاہیے۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا ’ہم سمجھتے ہیں کہ پرتشدد آبادکار گروہوں کو ان زمینوں سے فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے جو انہوں نے فلسطینیوں سے قبضے میں لی ہیں۔‘\n\nویٹ کوپر کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حکومت نے بعض آبادکاروں کے تشدد کی مذمت تو کی ہے ’لیکن جب ان واقعات پر جوابدہی نہ ہونے کے برابر ہو تو ایسی مذمت کھوکھلی محسوس ہوتی ہے۔‘اے ایف پی\n\n* * *\n\n**اسرائیلی وزیر خزانہ کے فرانس میں داخلے پر پابندی**\n\nفرانس نے اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ کو ملک میں داخلے سے روک دیا۔\n\nفرانسیسی وزیر خارجہ کے مطابق یہ اقدام فلسطینیوں کے خلاف آبادکاروں کے تشدد کے تناظر میں دیگر ممالک کے ساتھ مربوط پابندیوں کے تحت کیا گیا۔\n\nفرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے ایکس پر کہا فرانس کی یہ پابندیاں برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، ناروے اور نیوزی لینڈ کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ لگائی گئی ہیں، جن کا ہدف مغربی کنارے میں آبادکاری کی سرگرمیوں میں اضافے اور تشدد کے ذمہ دار افراد ہیں۔\n\nانہوں نے کہا سموٹریچ ’مغربی کنارے کے انضمام کو فعال طور پر فروغ دیتے ہیں، جس کا وہ کھل کر اعلان کرتے ہیں، وہ مغربی کنارے میں نئی آبادیاں قائم کرنے، غزہ کی دوبارہ آبادکاری، فلسطینی اتھارٹی کی معاشی تباہی اور فلسطینی آبادی پر اس کے منفی اثرات کی حمایت کرتے ہیں۔‘\n\nاسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ 14 اگست، 2025 کو مقبوضہ مغربی کنارے میں واقع آبادکاری ماعالی ادومیم کے قریب ایک علاقے کا نقشہ دکھا رہے ہیں (اے ایف پی)\n\n\n\n\nانہوں نے مزید لکھا کہ یہ ایسی پالیسی ہے جسے بین الاقوامی برادری کی بھاری اکثریت، جو دو ریاستی حل کی مضبوط حامی ہے، قبول نہیں کر سکتی۔\n\nسموٹریچ حالیہ مہینوں میں فرانس میں داخلے پر پابندی کا سامنا کرنے والے اسرائیلی حکومت کے دوسرے وزیر ہیں۔\n\nاس سے قبل قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر پر 23 مئی کو پابندی عائد کی گئی تھی، جب انہوں نے غزہ جانے والے امدادی فلوٹیلا سے گرفتار کارکنوں کا تمسخر اڑایا تھا۔\n\nفرانس نے آبادکار تنظیموں کے چار رہنماؤں اور 21 پرتشدد آبادکاروں پر بھی پابندی عائد کی ہے۔ اے ایف پی\n\n* * *\n\n**اسرائیل کو ’پسند آئے نہ آئے‘، ایران سے متعلق امریکہ اپنا مفاد دیکھے گا: وینس**\n\nامریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پیر کو کہا ہے کہ اگرچہ امریکہ اور اسرائیل کے مفادات میں بہت سی مشترکات ہیں، لیکن ایران کے حوالے سے واشنگٹن کی پالیسی اس بات سے طے ہوگی کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے لیے کیا بہتر سمجھتے ہیں۔\n\nفاکس نیوز کے مطابق جے ڈی وینس کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب میڈیا رپورٹس میں بنیامین نتن یاہو اور امریکی انتظامیہ کے درمیان ایران پر میزائل حملوں کے معاملے پر اختلافات کا ذکر کیا جا رہا ہے۔\n\nرپورٹس کے مطابق نیتن یاہو ایران کے خلاف زیادہ سخت مؤقف کے حامی ہیں۔\n\nامریکی نائب صدر نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بہت سے مشترکہ مفادات ہیں۔‘\n\nامریکی نائب صدر 28 مئی، 2026 کو میری لینڈ پہنچنے پر صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے (اے ایف پی)\n\n\n\n\nتاہم انہوں نے مزید کہا کہ ’کچھ معاملات ایسے بھی ہیں جہاں ہمارے مفادات مختلف ہو سکتے ہیں، اور صدر نے اس معاملے میں بالکل واضح کیا ہے کہ اگرچہ اسرائیل کے اپنے مقاصد ہیں، لیکن ایران کے حوالے سے امریکہ کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔‘\n\nوینس نے کہا کہ گذشتہ ڈیڑھ سال کے دوران ایسے حالات پیدا کیے گئے ہیں جن کی بدولت صدر ٹرمپ کو یقین ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے مسئلے کا ایک دیرپا حل نکالا جا سکتا ہے۔\n\nانہوں نے کہا کہ ’صدر کا ماننا ہے، اور میرے خیال میں وہ درست ہیں، کہ اب ہمارے پاس ایران کے جوہری مسئلے کا طویل المدتی تصفیہ حاصل کرنے کا موقع موجود ہے۔‘\n\nوینس کے مطابق ’اسرائیل کو یہ پسند آئے یا نہ آئے، لیکن بنیادی طور پر ہم سمجھتے ہیں کہ یہ امریکہ کے بہترین مفاد میں ہے۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن اسی مقصد کے حصول کی کوشش جاری رکھے گا کیونکہ ’امریکہ کے صدر کو اسی کام کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔‘\n\n* * *\n\n**آبنائے ہرمز کے قریب امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ**\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nامریکی فوج کا ایک اپاچی گن شپ ہیلی کاپٹر پیر کو آبنائے ہرمز کے قریب گر کر تباہ ہو گیا، تاہم اس میں سوار دونوں عملے کے ارکان کو بحفاظت بچا لیا گیا۔\n\nنیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق واقعے سے آگاہ دو ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ہیلی کاپٹر ایرانی فائرنگ کا نشانہ بنا، کسی فنی خرابی کا شکار ہوا، یا کسی اور وجہ سے حادثے کا شکار ہوا۔\n\nخبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس واقعے پر وائٹ ہاؤس، امریکی محکمہ خارجہ اور امریکی سینٹرل کمانڈ نے فوری طور پر تبصرے کی درخواستوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔\n\nایران\n\nامریکہ\n\nاسرائیل\n\nدوسری جانب برطانیہ نے اپنے شہریوں اور کاروباری اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم ان اسرائیلی بستیوں میں مالی سرگرمیوں سے گریز کریں جنہیں عالمی قانون کے تحت غیر قانونی قرار دیا جاتا ہے۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nمنگل, جون 9, 2026 - 22:00\n\nMain image:\n\n> <p>ٹرمپ نو جون، 2026 کو نیویارک کے جان ایف کینیڈی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایئر فورس ون میں سوار ہونے سے پہلے صحافیوں سے گفتگو کر رہے ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nدنیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nامریکہ میں اسرائیلی جاسوسی کا ’انتہائی سنگین‘ خطرہ: رپورٹ\n\nپاکستان کے ذریعے امریکہ سے پیغامات کا تبادلہ جاری: ایران\n\nحملہ آوروں کو آج رات جواب مل گیا: مشیر ایرانی سپریم لیڈر\n\nSEO Title:\n\nایران نے امریکی ہیلی کاپٹر گرایا، جواب دینا ضروری ہے: ٹرمپ\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "ایران نے امریکی ہیلی کاپٹر گرایا، جواب دینا ضروری ہے: ٹرمپ"
}