{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreiddoev6rh5xfsqo3jh4bczanarjwmnz57637v4dm2te7rlupu3gxm",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mnvh2ghr42f2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreigmfjnwh5djhlw4tmlnk422imhdkyyqxt4jam7btdmq5kmgktsuta"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 172574
},
"path": "/node/186245",
"publishedAt": "2026-06-09T12:02:10.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"خیبر پختونخوا",
"پشاور",
"ایف سی اہلکار",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"پاکستان",
"news"
],
"textContent": "**پاکستان کے سکیورٹی حکام نے منگل کو بتایا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے عسکریت پسندوں نے پشاور کے مضافات میں ایک چیک پوسٹ پر حملہ کر کے چھ ایف سی اہلکاروں کو قتل کر دیا جبکہ آٹھ کو اغوا کر لیا۔**\n\nایک سکیورٹی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ پیر کو ٹی ٹی پی کے درجنوں ارکان نے پشاور کے مضافات میں ایک چیک پوسٹ پر آتشیں اسلحہ، دستی بموں اور مارٹر گولوں سے حملہ کیا۔\n\nایک اور سکیورٹی اہلکار نے کہا ’فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) کے چھ اہلکار اس حملے میں شہید جبکہ چار دیگر زخمی ہوئے۔‘\n\nانہوں نے مزید بتایا حملہ آور آٹھ ایف سی اہلکاروں کو اغوا کر کے نامعلوم مقام پر لے گئے۔\n\nخیبر پختونخوا پولیس نے ایک پریس ریلیز میں بتایا کہ حملہ آوروں نے حسن خیل میں ایف سی کی چیک پوسٹ پر قبضے کی ناکام کوشش کی اور سکیورٹی اہلکاروں کی جوابی کارروائی میں آٹح حملہ آور مارے گئے۔\n\nبیان کے مطابق حملے کی اطلاع پر سکیورٹی فورسز کے اضافی دستے بھی موقعے پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے کر کارروائی شروع کر دی تھی۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nٹی ٹی پی نے اپنے سوشل میڈیا چینل پر اغوا کیے گئے اہلکاروں کی تصویر جاری کرتے ہوئے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔\n\nپاکستان اپنے مغربی سرحدی علاقوں میں بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی سے نبرد آزما ہے، جو افغانستان سے ملحق ہیں۔\n\nاسلام آباد افغانستان پر عسکریت پسندوں کو پناہ دینے کا الزام عائد کرتا ہے۔ تاہم کابل ان الزامات کی بارہا تردید کر چکا ہے۔\n\nگذشتہ ماہ خیبر پختونخوا میں مختلف حملوں کے دوران عسکریت پسندوںنے 26 افراد کو مار دیا تھا۔\n\nعسکریت پسندی سے متعلق الزامات کے باعث حالیہ مہینوں میں کابل اور اسلام آباد کے تعلقات میں شدید کشیدگی پیدا ہوئی ہے، جو سفارتی تناؤ سے بڑھ کر مہلک سرحد پار جھڑپوں تک جا پہنچی ہے۔\n\nخیبر پختونخوا\n\nپشاور\n\nایف سی اہلکار\n\nسکیورٹی حکام نے اے ایف پی کو بتایا کہ حملہ آور حسن خیل میں چیک پوسٹ پر حملے کے دوران آٹھ لوگوں کو اغوا کر کے لے گئے۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nمنگل, جون 9, 2026 - 16:45\n\nMain image:\n\n> <p style=\"direction:rtl\">سکیورٹی اہلکار 24 نومبر، 2025 کو پشاور میں بارڈر فورس ہیڈکوارٹر کے باہر خودکش حملے کی جگہ کا معائنہ کر رہے ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nکوئٹہ ٹرین دھماکہ بلوچستان میں عسکریت پسندی کا بدلتا انداز\n\nشمالی وزیرستان میں 27 عسکریت پسند مارے گئے: پاکستان فوج\n\nریاست دشمن ٹی ٹی پی کو ہر صورت ختم کریں گے: پاکستان\n\nافغانستان ٹی ٹی پی، بی ایل اے کے خلاف اقدامات اٹھائیں: پاکستان\n\nSEO Title:\n\nپشاور کے قریب ٹی ٹی پی کا حملہ، 6 ایف سی اہلکار جان سے گئے: سکیورٹی حکام\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "پشاور کے قریب ٹی ٹی پی کا حملہ، 6 ایف سی اہلکار جان سے گئے: سکیورٹی حکام"
}