{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreigotlxun5pxtxnsoqgjb3iu75gpjzkaedz3srt2tleewnmga7y2qi",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mnvh25yqqcl2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreiehlhhruspnz6wgnxtfsdsdvokdlqquivwriqh6wh7a3wbqpyn2iq"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 98888
  },
  "path": "/node/186247",
  "publishedAt": "2026-06-09T13:28:35.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "پنجاب",
    "بجٹ 2026",
    "وفاقی بجٹ",
    "این ایف سی ایوارڈ",
    "ترقیاتی منصوبے",
    "ارشد چوہدری",
    "معیشت",
    "news"
  ],
  "textContent": "**وفاقی وزیر احسن اقبال نے قومی مالیاتی کمیشن کے ذریعے اس سال دوسرے صوبوں کے مقابلے میں کم حصہ ملنے کا عندیہ دیا ہے جس پر ماہرین معیشت کے مطابق پنجاب میں حکومتی منصوبے متاثر ہوسکتے ہیں۔**\n\nپاکستان میں پیپلز پارٹی کے دور حکومت 2010 میں وفاق کی جانب سے قانون سازی کے ذریعے صوبوں میں وسائل کی تقسیم کے لیے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ تشکیل دیا گیا تھا۔\n\nجس کے بعد ہر وفاقی اور چاروں صوبوں کے سالانہ بجٹ کے موقع پر اس حوالے سے بحث معمول بنی ہوئی ہے۔\n\nکیونکہ بعض ماہرین معیشت کے خیال میں این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے صوبوں کو وسائل تقسیم کر کے وفاق کے پاس بجٹ بہت کم بچتا ہے، جس سے اخراجات پورے نہ ہونے پر قرضے واپس کرنے کے لیے بھی قرض لینا پڑتا ہے۔\n\nجبکہ بعض ماہرین کے مطابق وفاق اور صوبے اگر موجودہ وسائل بھی منظم طریقے سے خرچ کریں تو ملک بھر میں مسائل حل ہوسکتے ہیں۔\n\nوفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے گذشتہ روز پیر کو پارلیمنٹ میں میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ ’آئندہ مالی سال میں وفاقی حکومت ترقیاتی فنڈز کا زیادہ حصہ چھوٹے صوبوں کو مختص کرے گی۔ سب سے زیادہ فنڈز بلوچستان، اس کے بعد سندھ اور خیبر پختونخوا کا نمبر ہوگا، جبکہ پنجاب کو وفاقی ترقیاتی بجٹ میں سب سے کم حصہ ملے گا۔‘\n\nاس بارے میں محکمہ خزانہ پنجاب کی ترجمان امبر جبیں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’صوبائی وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن اس بارے میں وفاقی حکومت سے بات کریں گے، کیونکہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت پنجاب کو کم فنڈز ملنے سے پنجاب کے ترقیاتی منصوبے متاثر ہوں گے۔\n\nلہٰذا پنجاب کا جو حصہ بنتا ہے وہ ملنا چاہیے تاکہ یہاں کے عوام کی حق تلفی نہ ہوسکے۔ فنڈز کم ملنے پر پنجاب کا بجٹ بھی گذشتہ سال کی نسبت کم رہے گا۔‘\n\n**صوبوں میں وسائل کی تقسیم اور وفاق کی مشکلات**\n\nماہر معیشت فرخ سلیم نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے صوبوں میں وسائل کی تقسیم سے وفاق کو مالی مشکلات کا سامنا ضرور کرنا پڑتا ہے، لیکن اگر وسائل کو منظم اور شفافیت کے ساتھ خرچ کیا جائے تو بہت سے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔‘\n\nمعیشت دان الماس حیدر کے بقول، ’جب سے این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو وسائل کی تقسیم کا فارمولا لاگو ہوا، وفاق مالی مشکلات سے دوچار ہے۔ نہ ہی انتظامی اخراجات پورے ہوتے ہیں، نہ ہی بیرونی قرضوں کے بغیر وفاقی بجٹ تیار ہوتا ہے۔ اس فارمولے کے تحت وفاق صوبوں میں فنڈز تقسیم کر کے خود قرضوں کی واپسی کے لیے بھی قرضہ لینے پر مجبور ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر بجٹ میں ٹیکس بڑھا کر عوام پر بوجھ ڈال دیا جاتا ہے۔‘\n\nہر سال بجٹ کے موقع پر عوامی حلقوں میں ریلیف کی بجائے ٹیکسوں کے عائد ہونے پر مہنگائی بڑھنے کی شکایات سامنے آتی ہیں۔\n\nبقول فرخ سلیم: ’ہر سال وفاق اور صوبوں میں مالی تقسیم ہوتی ہے جس کے ثمرات پوری طرح عوام تک نہیں پہنچتے۔ اس سال وفاقی حکومت نے بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر چار ہزار تین سو ارب روپے مختص کیے ہیں، جن میں سے تین ہزار تین سو ارب روپے صوبوں کو جبکہ ایک ہزار ارب روپے سے زائد وفاق کو ملیں گے۔\n\nلاہور میں 23 فروری 2024 کو پنجاب اسمبلی کے ایک اجلاس کا منظر (ارشد چوہدری)\n\n\n\n\nلہٰذا وفاقی اور صوبائی حکومتیں اگر شفاف طریقے سے ملک کے 169 اضلاع میں فی ضلع 24 ارب روپے کے ترقیاتی کام کرادیں تو صحت، تعلیم، سیوریج سمیت بہت سے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔‘\n\n**پنجاب کا بجٹ کتنا متاثر ہوگا؟**\n\nانڈپینڈنٹ اردو کو دستیاب محکمہ خزانہ کے دستاویزات کے مطابق گذشتہ سال 2025-26 میں پنجاب کے بجٹ کا کل حجم پانچ ہزار تین سو ارب سے زائد رکھا گیا تھا، لیکن اس سال اسمبلی میں پیش کیے جانے سے قبل 2026-27 کے بجٹ میں مختلف ترقیاتی سکیموں اور انتظامی اخراجات کے لیے پانچ ہزار ایک سو 31 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nامبر جبیں کے بقول، ’اگر پنجاب کے حصے میں فنڈز کم کیے جائیں گے تو بجٹ میں مختص فنڈز میں کمی بھی یقینی ہوگی۔ یہاں بہت سے جاری منصوبے اور نئے منصوبے بھی متاثر ہوں گے۔‘\n\nالماس حیدر نے کہا کہ ’این ایف سی ایوارڈ سے وسائل کی تقسیم کے مسائل سب کو نظر آتے ہیں، لیکن جس طرح اسے لاگو کیا گیا تھا اسی طرح سیاسی گفتگو کے ذریعے تبدیل کیوں نہیں کیا جاسکتا؟‘\n\nفرخ سلیم کے بقول: ’این ایف سی ایوارڈ کے بعد 17 بجٹ آ چکے ہیں لیکن عوام کے لیے ان میں کچھ نیا نہیں ہوتا سوائے اس کے کہ وزیر خزانہ قومی اسمبلی اور صوبوں کے وزرائے خزانہ اپنی اسمبلیوں میں ہزاروں ارب کے بجٹ کا اعلان کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے لوگوں کو خوفزدہ کردیا جاتا ہے۔\n\nہر بار خطیر فنڈز جاری ہوتے ہیں اور چند منصوبے بغیر منصوبہ بندی کے شروع کیے جاتے ہیں۔ کچھ مکمل ہوجاتے ہیں، کچھ کئی کئی سال بنتے رہتے ہیں۔‘\n\nوفاقی حکومت نے ابھی تک اس سال کے بجٹ کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا تاہم پنجاب کے وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے میڈیا سے گفتگو میں موجودہ حکومت کا تیسرا بجٹ 16 جون کو پیش کرنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔\n\nپنجاب\n\nبجٹ 2026\n\nوفاقی بجٹ\n\nاین ایف سی ایوارڈ\n\nترقیاتی منصوبے\n\nوفاقی حکومت کی جانب سے ترقیاتی فنڈز کی ممکنہ نئی تقسیم کے بعد پنجاب کے حصے میں کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے جس پر ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے صوبے کے ترقیاتی منصوبے متاثر ہو سکتے ہیں۔\n\nارشد چوہدری\n\nمنگل, جون 9, 2026 - 18:30\n\nMain image:\n\n> <p>پاکستان کے وفاقی بورڈ آف ریونیو کے اہلکار 10 جون 2025 کو پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر بجٹ کے بکس منتقل کر رہے ہیں (فائل فوٹو/ اے ایف پی)</p>\n\nمعیشت\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nپاکستان کا بجٹ 12 جون کو پیش کیے جانے کا امکان\n\nبجٹ 2026: کاروبار دوست اقدامات اٹھائے جائیں: تاجر\n\nبجٹ سے آگے: معیشت کے بنیادی مسائل کب حل ہوں گے؟\n\nکے پی حکومت کا الزام رد، این ایف سی فنڈز بروقت جاری کیے: وزارت خزانہ\n\nSEO Title:\n\nبجٹ 2026: پنجاب کو سب سے کم حصہ ملنے سے صوبے پر کیا اثر ہو گا؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "بجٹ 2026: پنجاب کو سب سے کم حصہ ملنے سے صوبے پر کیا اثر ہو گا؟"
}