{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreifb6h7uuaq5vd7bnmps222ewoxfuwayfz37gzuor4gao2f4bjpos4",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mnvgzu3bcmo2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreib5ws2hemsql3f7xbpt6mtn6n446dbvo6bvtojcncxthoxmcx7sku"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 120025
  },
  "path": "/node/186249",
  "publishedAt": "2026-06-09T16:05:50.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "View this post on Instagram",
    "A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)",
    "pic.twitter.com/MmSv3W9Vsm",
    "June 9, 2026",
    "پاکستان کے زیر انتظام کشمیر",
    "کالعدم تنظیم",
    "مظاہرے",
    "تشدد",
    "گرفتاریاں",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "پاکستان",
    "news",
    "@PTVNewsOfficial"
  ],
  "textContent": "**پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے منگل کو کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے چار روپوش رہنماؤں کی گرفتاری پر ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان کیا ہے۔**\n\nپولیس کے مطابق شوکت نواز میر، عمر نذیر کشمیری، خواجہ مہران اور امان کشمیری کی گرفتاری کے لیے مسلسل چھاپے مارے جا رہے ہیں۔\n\nتاہم ان کی عدم گرفتاری کے بعد حکومت نے فیصلہ کیا کہ ان افراد کی گرفتاری یا درست نشاندہی کرنے والے کو ایک کروڑ روپے انعام دیا جائے گا۔\n\nایس ایس پی ریاض مغل نے گرفتاری کے لیے انعام کے نوٹیفکیشن کی تصدیق کی ہے۔\n\n**مطلوب افراد کون ہیں؟**\n\nدارالحکومت مظفرآباد سے تعلق رکھنے والے شوکت نواز میر ایک تاجر ہیں اور بک ڈپو چلاتے ہیں۔\n\nوہ مرکزی انجمن تاجران مظفرآباد آزاد کشمیر کے صدر ہیں۔\n\nوہ 2022 میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے منسلک ہوئے اور بعد ازاں مظفرآباد ڈویژن میں اس کے اہم رہنماؤں میں شمار ہونے لگے۔\n\nماضی میں مظفرآباد میں ہونے والے بڑے احتجاجی مظاہروں کی قیادت بھی وہ کرتے رہے ہیں۔\n\nعمر نذیر کشمیری کا تعلق ضلع راولاکوٹ سے ہے اور وہ انجمن تاجران راولاکوٹ کے سینیئر نائب صدر ہیں۔\n\nوہ جے اے اے سی کے تحت راولاکوٹ میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کی قیادت کے ساتھ ساتھ ہائی پاور کمیٹی کے ساتھ مذاکرات میں بھی شریک رہے۔\n\nپولیس کے مطابق عمر نذیر کشمیری تین روز قبل کھائی گلہ کے مقام پر ہونے والے ایک تصادم میں شدید زخمی ہوئے تھے اور اس وقت سے روپوش ہیں۔\n\n> View this post on Instagram\n>\n> A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)\n\nڈوڈیال میرپور سے تعلق رکھنے والے خواجہ مہران کا تعلق آزادی پسند سیاسی جماعت لبریشن فرنٹ سے بتایا جاتا ہے۔\n\nانہوں نے جے اے اے سی کے احتجاجی دورانیے میں کہا تھا کہ وہ مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کرتے ہوئے قانون ساز اسمبلی تک جائیں گے۔ وہ بھی گذشتہ تین روز سے روپوش ہیں۔\n\nسردار امان کشمیری ضلع پلندری سے تعلق رکھتے ہیں اور لبریشن فرنٹ کے مرکزی رہنماؤں میں شمار کیے جاتے ہیں۔\n\nجے اے اے سی کو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد وہ بھی منظر عام سے غائب ہیں۔\n\nدوسری جانب محکمہ اطلاعات نے ایک پریس ریلیز میں کہا ہے کہ حکومت نے شوکت نواز میر اور خواجہ مہران کے خلاف بغاوت کے مقدمات درج کرنے کا حکم دیا ہے۔\n\nنوٹیفکیشن کے مطابق دونوں رہنماؤں پر الزام ہے کہ انہوں نے تقاریر، تحریری مواد، ویڈیوز اور آڈیوز کے ذریعے بغاوت پر اکسانے کی کوشش کی۔\n\nان کے خلاف ضابطہ فوجداری کی دفعہ 196 کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔\n\n**گرفتاریاں**\n\nسرکاری ٹی وی کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مظفرآباد کے علاقے چہلہ میں خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے پانچ مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا۔\n\nکارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے لیپ ٹاپ، موبائل فونز اور دیگر مواصلاتی آلات برآمد کیے گئے۔\n\nپی ٹی وی نے ایکس پر جاری اپنی پوسٹ میں حکام کے حوالے سے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق برآمد ہونے والے ڈیجیٹل آلات سے مشکوک روابط اور حساس نوعیت کا مواد ملا ہے۔\n\n> مظفرآباد میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کامیاب کارروائی، پانچ مشتبہ افراد گرفتار،لیپ ٹاپ، موبائل فونز اور دیگر مواصلاتی آلات برآمد\n>\n>  قانون نافذ کرنے والے اداروں نے خفیہ اطلاع پر چہلہ کے علاقے میں ٹارگٹڈ آپریشن کیا، ابتدائی تحقیقات میں ڈیجیٹل آلات سے مشکوک روابط اور حساس نوعیت کا مواد… pic.twitter.com/MmSv3W9Vsm\n>\n> — PTV News (@PTVNewsOfficial) June 9, 2026\n\nمزید بتایا گیا کہ تفتیش کے دوران ایک ملزم کی نشاندہی پر اسلحے کا بڑا ذخیرہ بھی برآمد کیا گیا، جس میں سات خودکار ہتھیار، متعدد گرینیڈز اور دیگر عسکری ساز و سامان شامل ہے۔\n\nحکام کے مطابق حساس تنصیبات کے نقشے، مبینہ حملوں کے منصوبے اور متعلقہ دستاویزات بھی برآمد ہوئی ہیں جبکہ ایک مبینہ دشمن انٹیلی جنس ایجنسی سے روابط کے شواہد بھی تحقیقات کا حصہ ہیں۔\n\nبرآمد شدہ موبائل فونز، لیپ ٹاپس اور دیگر مواد کا فرانزک اور تکنیکی تجزیہ جاری ہے۔\n\nاس کے ساتھ ساتھ ممکنہ سہولت کاروں، مالی معاونت کے ذرائع اور اس مبینہ نیٹ ورک کی وسعت کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔\n\n**دکانیں اور کاروبار بند**\n\nجوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی ہڑتال کی کال کے بعد آج خطے میں دکانیں اور کاروبار بند رہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ مکمل طور پر معطل رہی۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nامریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اتوار کو راولاکوٹ میں تنظیم کے حامیوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم سات افراد مارے گئے تھے۔\n\nیہ پرتشدد صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کے لیے مخصوص 12 قانون ساز نشستیں آئینی طور پر برقرار رہیں گی اور انہیں کسی آئینی ترمیم کے بغیر ختم نہیں کیا جا سکتا۔\n\nجے اے اے سی، جو 2003 میں قائم ہوئی، خطے کے عوام کے لیے زیادہ سیاسی حقوق اور مہاجر نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتی ہے۔\n\nدارالحکومت مظفرآباد اور دیگر شہروں کے رہائشیوں کے مطابق آج بیشتر بازار بند اور بس اڈے ویران رہے۔\n\nتاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ شٹر ڈاؤن ہڑتال میں شمولیت کے باعث تھا یا ممکنہ جھڑپوں کے خوف سے شہری گھروں تک محدود رہے۔\n\nتنظیم نے حالیہ تشدد سے قبل راولاکوٹ سے مظفرآباد تک لانگ مارچ اور ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق میرپور میں ہزاروں افراد جمع ہوئے تاکہ راولاکوٹ جا کر مارچ میں شامل ہو سکیں۔\n\nحکام نے مظاہرین کو روکنے کے لیے اضافی پولیس اور سکیورٹی اہلکار تعینات کیے ہیں جبکہ بڑے شہروں میں انٹرنیٹ سروس بھی معطل ہے۔\n\nپولیس اور علاقائی حکومت نے الزام عائد کیا ہے کہ اتوار کی جھڑپوں کے دوران جے اے اے سی کے مسلح حامیوں نے سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کی، جو حالیہ برسوں میں خطے کا سب سے مہلک واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔\n\nگذشتہ سال بھی اسی نوعیت کے احتجاج کے دوران متعدد اہلکاروں کو اغوا کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔\n\nعلاقائی حکومت نے گذشتہ ہفتے جے اے اے سی کو امن و امان اور سکیورٹی خدشات کے باعث کالعدم قرار دیتے ہوئے اس کے درجنوں حامیوں کو حراست میں لیا تھا۔\n\nخطے کے وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور نے پیر کو کہا کہ حکومت تنظیم کے نمائندوں سے بات چیت کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق بیشتر مطالبات پر پہلے ہی پیش رفت ہو چکی ہے، تاہم مہاجر نشستوں کے خاتمے اور بعض سرکاری مراعات جیسے معاملات آئینی دائرہ کار کے باعث قانون ساز اسمبلی ہی میں طے ہو سکتے ہیں۔\n\nیہ مہاجر نشستیں ان افراد کے لیے مختص ہیں جو دہائیوں قبل انڈیا کے زیر انتظام کشمیر سے ہجرت کر کے پاکستان آئے تھے اور ان کا مقصد متاثرہ برادریوں کی نمائندگی کو یقینی بنانا ہے۔\n\nتاہم جے اے اے سی کے مطابق یہ نشستیں خطے سے باہر رہنے والے افراد کو غیر متناسب سیاسی اثر و رسوخ فراہم کرتی ہیں۔\n\nپاکستان کے زیر انتظام کشمیر\n\nکالعدم تنظیم\n\nمظاہرے\n\nتشدد\n\nگرفتاریاں\n\nپاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے جے اے اے سی کے چار روپوش رہنماؤں کی گرفتاری پر ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان کیا ہے۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nمنگل, جون 9, 2026 - 21:30\n\nMain image:\n\n> <p>سکیورٹی اہلکار نو جون، 2026 کو مظفرآباد میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کی ریلی کے دوران گشت کر رہے ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nکشمیر میں احتجاج کرنے والے غدار نہیں، اپنے لوگ ہیں: وزیراعظم\n\nکشمیر کمیٹی کے صرف 3 مطالبے پورے کرنے کا تاثر غلط: حکومت\n\nایکشن کمیٹی سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں: کشمیری وزیراعظم\n\nپاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 72 گرفتاریاں، انٹرنیٹ بند، سکیورٹی سخت\n\nSEO Title:\n\nپاکستانی کشمیر: کالعدم جوائنٹ کمیٹی کے 4 رہنماؤں کی گرفتاری پر انعام کا اعلان\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "پاکستانی کشمیر: کالعدم جوائنٹ کمیٹی کے 4 رہنماؤں کی گرفتاری پر انعام کا اعلان"
}