{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreifw3erjncuphjms47o66o5eunatgwdbvjve2yqdfxwi2kmw4cr3gu",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mnspvkvsj4c2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreiaehkhk3tgakuc66s5lplkimejnavf3rmf2t7w6h35haz35occxl4"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 145543
},
"path": "/node/186224",
"publishedAt": "2026-06-08T05:04:16.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"شی جن پنگ",
"کم جونگ ان",
"بیجنگ",
"شمالی کوریا",
"اے ایف پی",
"ایشیا",
"news"
],
"textContent": "**چین کے صدر شی جن پنگ سات سال بعد پیر کو شمالی کوریا پہنچ گئے ہیں جہاں انہوں نے پیانگ یانگ کے ساتھ ’ناقابل شکست دوستی‘ کو سراہا۔**\n\nبیجنگ میں مسلسل دو سربراہی ملاقاتوں کی میزبانی کے بعد یہ اس سال ان کا پہلا غیر ملکی دورہ ہے۔\n\nچین، جو واشنگٹن کا بڑا جغرافیائی سیاسی حریف ہے، کئی دہائیوں سے شمالی کوریا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار رہا ہے اور متعدد عالمی پابندیوں کا سامنا کرنے والے اس ملک کے لیے سفارتی اور معاشی مدد کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے۔\n\nچینی خبررساں ادارے شنہوا کی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شمالی کوریا کے فوجی افسر سرخ قالین کے کنارے پر قطار بنائے کھڑے ہیں جب شی جن پنگ کو لے کر ایئر چائنہ کا طیارہ پہنچا۔ یہ 2019 کے بعد ان کا شمالی کوریا کا پہلا دورہ ہے۔\n\nایئرپورٹ پر چینی اور شمالی کوریائی پرچموں کے نیچے ایک بینر آویزاں تھا، جس پر لکھا تھا: ’ہم کامریڈ شی جن پنگ کا گرم جوشی سے خیرمقدم کرتے ہیں۔‘ بینر میں دونوں ملکوں کی ’اٹوٹ دوستی‘ کو سراہا گیا۔\n\nشی جن پنگ نے یہ دورہ ایسے وقت کیا ہے جب وہ بیجنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روس کے ولادی میر پوتن کی الگ الگ میزبانی کر چکے ہیں، جب کہ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔\n\nوائٹ ہاؤس نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ شی جن پنگ اور ٹرمپ نے بیجنگ میں اپنی ملاقات کے دوران ’شمالی کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے مشترکہ ہدف کی تصدیق کی۔‘\n\nتاہم شمالی کوریا کے رہنما کِم جونگ اُن کی بااثر بہن نے شی جن پنگ کی آمد سے ایک دن پہلے کہا کہ شمالی کوریا کا جوہری ہتھیاروں کا پروگرام ’واپسی کی حد سے آگے‘ ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nڈی پال یونیورسٹی میں سفارت کاری کی پروفیسر من سیون کو، نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’بیجنگ شاید شمالی کوریا کو جوہری ریاست کے طور پر قبول کر چکا ہے۔‘ لیکن شی جن پنگ ’ممکنہ طور پر کم جونگ ان سے کہیں گے کہ چین سب سے بڑھ کر استحکام چاہتا ہے۔‘\n\nمن سیون کو نے کہا کہ چین نے ’ہمیشہ استحکام کو ترجیح دی ہے اور اس وقت وہ امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات اور اختلافات کو سنبھالنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘\n\nہارورڈ یونیورسٹی ایشیا سینٹر کے وزٹنگ سکالر سیونگ ہیون لی نے بھی کہا کہ بیجنگ شمالی کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے پر مجبور کرنے کی بجائے اس کی حکومت کے استحکام کی ضمانت دینے کی طرف بڑھ رہا ہے۔\n\nان کا کہنا تھا کہ ’چین کی وسیع تر علاقائی حکمت عملی کو ایک مستحکم، بھاری ہتھیاروں سے لیس اور اتحادی بفر ریاست سے فائدہ ہوتا ہے، جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی فوجی توجہ کو مبذول کرائے رکھتی ہے۔‘\n\nشی جن پنگ\n\nکم جونگ ان\n\nبیجنگ\n\nشمالی کوریا\n\nہارورڈ یونیورسٹی کے سکالر سیونگ ہیون لی کے مطابق بیجنگ شمالی کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے پر مجبور کرنے کی بجائے اس کی حکومت کے استحکام کی ضمانت دینے کی طرف بڑھ رہا ہے۔\n\nاے ایف پی\n\nسوموار, جون 8, 2026 - 11:00\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">آٹھ جون 2026 کو سیئول کے ایک ریلوے سٹیشن پر لگے ٹیلی ویژن پر صدر شی جن پنگ اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ کے درمیان 2019 کی ملاقات کی فوٹیج نشر کی جا رہی ہے (اے ایف پی)</p>\n\nایشیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nچینی صدر سات سال بعد شمالی کوریا جائیں گے\n\nشی جن پنگ اور جنوبی کورین صدر کے فونز میں ’بیک ڈور‘ پر قہقہے\n\nچین۔شمالی کوریا سمٹ سے دونوں ملکوں کو کیا ملے گا؟\n\nشمالی کوریا کے ہیکرز نے تاریخ کی سب سے بڑی چوری کیسے کی؟\n\nSEO Title:\n\n’ناقابل شکست دوستی‘: چینی صدر سات سال بعد شمالی کوریا پہنچ گئے\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "’ناقابل شکست دوستی‘: چینی صدر سات سال بعد شمالی کوریا پہنچ گئے"
}