{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreib2k6r25y4lbfo3fviooh7piu7kq7viktx7bnbzo55frpsfuhee4u",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mnspveyyc3m2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreiel2e34qgmhtgeteebhmjlu6fysd7ecgk5lx2qx7zh2b4lf25dn3e"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 160468
  },
  "path": "/node/186225",
  "publishedAt": "2026-06-08T05:33:05.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "پاکستان کے زیر انتظام کشمیر",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "پاکستان",
    "news"
  ],
  "textContent": "**پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں پولیس کا کہنا ہے کہ اتوار کو راولاکوٹ میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے حامیوں اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم چار پولیس اہلکار جان سے گئے جبکہ 20 زخمی ہوئے ہیں۔**\n\nجوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو حکومت نے جمعے کو کالعدم قرار دیا تھا جس کے بعد نو جون کو دی گئی احتجاج کی کال پر تین روز قبل ہی عمل شروع کر دیا گیا تھا۔\n\nحکام نے ممکنہ احتجاج کے پیشِ نظر مظفرآباد شہر میں پیراملٹری فورسز اور پولیس کی اضافی نفری تعینات کی تاکہ امن و امان کی صورت حال برقرار رکھی جا سکے۔\n\nجوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی گذشتہ تین برسوں سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں عوامی حقوق اور مختلف مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک چلا رہی ہے۔ گذشتہ برس کمیٹی کے ریاست گیر لانگ مارچ کے دوران سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں کئی افراد جان سے گئے تھے جبکہ درجنوں زخمی ہوئے تھے۔\n\nاب اتوار کی رات کشمیر پولیس کے سربراہ لیاقت علی ملک کے دفتر سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ مظاہرین نے سی ایم ایچ راولاکوٹ پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں چار پولیس اہلکار جان سے گئے۔\n\nبیان میں اس واقعے کو ’کھلی دہشت گردی‘ قرار دیتے ہوئے عزم ظاہر کیا گیا کہ شہریوں کی سلامتی اور عوامی امن کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nانسپکٹر جنرل پولیس کے بیان کے مطابق ان جھڑپوں کے دوران کئی شہریوں اور اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔\n\nدوسری جانب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس نے پیر کی صبح ایک بیان میں کہا ہے کہ علاقے میں کاروباری سرگرمیوں کا آغاز ہو چکا ہے جبکہ ٹریفک بھی بحال کر دی گئی ہے۔\n\nاس سے قبل اتوار کو وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا تھا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے 38 مطالبات میں سے 35 پر عمل درآمد ہو چکا ہے۔\n\nانہوں نے مزید کہا تھا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سرگرم عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ گذشتہ سال اکتوبر میں طے پانے والے معاہدے کے تحت بیشتر مطالبات پر عمل درآمد کیا جا چکا ہے اور باقی معاملات بھی مذاکرات کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں۔\n\nپاکستان کے زیر انتظام کشمیر\n\nکشمیر پولیس کے سربراہ لیاقت علی ملک کے دفتر سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ مظاہرین نے سی ایم ایچ راولاکوٹ پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں چار پولیس اہلکار جان سے گئے۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nسوموار, جون 8, 2026 - 10:30\n\nMain image:\n\n> <p>مظفرآباد میں 7 جون 2026 کو عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کی کال کے پیش نظر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے (اے ایف پی)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nکشمیر کمیٹی کے صرف 3 مطالبے پورے کرنے کا تاثر غلط: حکومت\n\nایکشن کمیٹی سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں: کشمیری وزیراعظم\n\nمظفرآباد: عوامی کمیٹی کا احتجاج، سکیورٹی کے سخت انتظامات\n\nSEO Title:\n\nراولاکوٹ: عوامی ایکشن کمیٹی اور پولیس میں جھڑپیں، چار اہلکار جان سے گئے\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "راولاکوٹ: عوامی ایکشن کمیٹی سے جھڑپ میں چار پولیس اہلکار جان سے گئے"
}