{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreids6zkhfr2lqtbymfmchfwygc5nzmbzm7pnf6truoeiiodtcvpjse",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mnspv3bgn452"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreifxt6wpxfwtkynek3ndfonsdqd2zpgn32gvlf2dwbvkfwtmqkw3my"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 80317
},
"path": "/node/186227",
"publishedAt": "2026-06-08T08:21:24.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"کھلاڑی",
"ریٹائرمنٹ",
"سرینا ولیمز",
"اے ایف پی",
"کھیل",
"news"
],
"textContent": "امریکی ٹینس کی عظیم کھلاڑی سرینا ولیمز پیشہ ورانہ ٹینس میں واپسی کرنے جا رہی ہیں۔ 44 سال کی عمر میں وہ اس ماہ کے آخر میں کوئینز کلب میں ڈبلز مقابلوں میں حصہ لیں گی۔\n\nاے ایف پی سپورٹس نے ایسے پانچ دیگر بڑے کھلاڑیوں کا جائزہ تیار کیا ہے جنہوں نے کھیلوں میں دوبارہ واپسی کی، اور بعض کے لیے واقعی یہ کہاوت سچ ثابت ہوئی کہ زندگی چالیس برس کے بعد شروع ہوتی ہے۔\n\n**ایلیسن فیلکس**\n\nامریکی ایتھلیٹ ایلیسن فیلکس پیرس 2024 اولمپینز کی جانب سے آئی او سی ایتھلیٹس کمیشن کی نئی رکن کے طور پر پیرس 2024 اولمپک گیمز کی اختتامی تقریب میں 11 اگست 2024 کو سینٹ ڈینس میں منعقدہ سٹاڈ ڈی فرانس میں منعقدہ افتتاحی تقریب میں ہاتھ ہلا رہی ہیں (فرانک فائف / اے ایف پی)\n\n\n\n\nاولمپک ایتھلیٹکس کی تاریخ میں 11 تمغوں کے ساتھ سب سے زیادہ اعزازات حاصل کرنے والی خاتون کھلاڑی ہونے کے باوجود ایلیسن فیلکس مزید کامیابیوں کی خواہش رکھتی ہیں اور 2028 میں اپنے آبائی شہر لاس اینجلس میں واپسی کا ارادہ رکھتی ہیں۔\n\nچالیس سالہ امریکی ایتھلیٹ کے پاس انفرادی مقابلوں میں صرف ایک طلائی تمغہ ہے، جو انہوں نے 2012 کے لندن اولمپکس میں 200 میٹر دوڑ میں جیتا تھا۔ اپریل میں انہوں نے ٹائم میگزین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’یہ زندگی میں صرف ایک بار ملنے والا موقع ہے کہ میں اپنے شہر میں کھیل میں واپسی کروں۔‘\n\nایلیسن نے عالمی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں ریکارڈ 20 تمغے بھی جیتے، جن میں چار انفرادی عالمی اعزاز شامل ہیں۔ تاہم وہ اپنی صلاحیتوں کے بارے میں حقیقت پسند رہیں۔\n\nانہوں نے کہا: ’میں جانتی ہوں کہ 40 سال کی عمر میں میں اپنی بہترین فارم میں نہیں ہوں۔ اس بارے میں مجھے کوئی غلط فہمی نہیں۔‘\n\n**لنڈسے وون**\n\nامریکی سکیئنگ کی لیجنڈ لنڈسے وون کی واپسی کا اختتام اگرچہ اس سال کے سرمائی اولمپکس میں ایک خوفناک حادثے کے بعد ہسپتال کے بستر پر ہوا، جہاں ان کی بائیں ٹانگ کٹنے کے قریب تھی، لیکن کچھ عرصے تک ایسا لگتا تھا کہ ان کی کہانی کا اختتام کسی پریوں کی کہانی جیسا ہوگا۔\n\n2010 کی اولمپک ڈاؤن ہِل چیمپئن وون تقریباً چھ سال کے وقفے کے بعد 40 سال کی عمر میں ریٹائرمنٹ ختم کرکے واپس آئیں اور گذشتہ سیزن میں ورلڈ کپ کی دو ڈاؤن ہِل ریسیں جیتیں۔\n\nتاہم، میلانو-کورٹینا اولمپکس میں پہنچتے وقت ان کے بائیں گھٹنے کے پٹھے پہلے ہی پھٹے ہوئے تھے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nاپریل میں انہوں نے کہا کہ انہیں اپنی واپسی پر کوئی پچھتاوا نہیں اور اگر موقع ملا تو وہ ’یہ سب دوبارہ کریں گی۔‘\n\nای ایس پی این سے گفتگو میں انہوں نے کہا: ’میں اپنی عمر کے باوجود مضبوط تھی اور مکمل طور پر تیار تھی۔‘\n\n**جارج فورمین**\n\nجارج فورمین 1973 میں ہیوی ویٹ عالمی اعزاز جیتنے کے وقت ایک سخت مزاج شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے۔ انہوں نے اسی سال ’سموکن جو‘ فریزیئر کو ان کی پہلی شکست دی، لیکن ایک سال بعد انہیں اس وقت کے زائیر میں ہونے والے تاریخی مقابلے ’رمبل اِن دی جنگل‘ میں محمد علی کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔\n\n’بگ جارج‘ نے 1977 میں باکسنگ چھوڑ دی، لیکن 10 سال بعد 38 سال کی عمر میں دوبارہ رنگ میں اترے۔ نہ صرف ان کے مکے اب بھی طاقتور تھے بلکہ ان کی شخصیت بھی بدل چکی تھی۔ سخت مزاجی کی جگہ خوش مزاجی اور حاضر جوابی نے لے لی تھی۔\n\n45 سال کی عمر میں وہ دوبارہ ہیوی ویٹ عالمی چیمپئن بن گئے جب انہوں نے اپنے سے 19 سال کم عمر مائیکل مورر کو شکست دی۔\n\n2023 میں اپنے دونوں عالمی اعزازات کو یاد کرتے ہوئے فورمین نے کہا: ’جب آپ ہیوی ویٹ عالمی چیمپئن شپ کے لیے لڑتے ہیں تو یہ ناقابلِ یقین محسوس ہوتا ہے، جیسے شاید یہ سب ایک خواب ہو۔\n\n’آپ سوچتے ہیں کہ ابھی آنکھ کھل جائے گی اور آپ کا ان بڑے باکسرز کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔\n\nدوسری مرتبہ میں ان خیالات سے نمٹنے کے قابل تھا۔ یہ لمحہ خاص تھا، شاید اس فتح سے بھی زیادہ خاص جو میں نے فریزیئر کے خلاف حاصل کی تھی۔‘\n\n**مائیکل شوماکر**\n\nجرمن فارمولا ون لیجنڈ مائیکل شوماکر نے بہت سوں کو حیران کر دیا جب تین سال کے وقفے کے بعد انہوں نے 41 سال کی عمر میں 2010 کے سیزن کے لیے واپسی کا اعلان کیا۔\n\nان کی واپسی جرمن موٹر ریسنگ کی ایک اور بڑی طاقت ’مرسیڈیز‘ کے ساتھ ہوئی، جو خود بھی 1955 کے بعد پہلی بار فارمولا ون میں واپس آئی تھی۔\n\nمرسیڈیز کے ساتھ اپنے تین سیزن کے دوران وہ ایک اور عالمی اعزاز جیتنے میں کامیاب نہ ہو سکے، لیکن 2012 کے یورپی گراں پری میں 43 سال کی عمر میں تیسری پوزیشن حاصل کرکے وہ 1970 کے بعد سب سے معمر ڈرائیور بن گئے جو پوڈیم تک پہنچا۔\n\nبہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ انہوں نے واپسی کرکے غلطی کی، جن میں ان کے سابق مینیجر ولی ویبر بھی شامل تھے۔\n\nویبر نے 2020 میں کہا: ’بعد میں سوچیں تو یہ شاید سب سے غیر دانش مندانہ فیصلہ تھا جو وہ کر سکتے تھے۔‘\n\n**لیسٹر پگٹ**\n\nبہت سے ماہرین کے نزدیک تاریخ کے عظیم ترین جوکی لیسٹر پگٹ نے 54 سال کی عمر میں 1990 کے بریڈرز کپ مائل میں ’رائل اکیڈمی‘ پر سوار ہو کر ایک یادگار کامیابی حاصل کی۔\n\nاس ایک ملین ڈالر انعامی ریس میں ان کی فتح نے نیویارک ریاست کے بیلمونٹ پارک میں موجود تماشائیوں کو جذباتی کر دیا اور بہت سے لوگوں کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، اگرچہ خود پگٹ کی آنکھیں نم نہ ہوئیں۔\n\nالبتہ انہوں نے مسکرا کر شائقین کا پرجوش استقبال قبول کیا، کیونکہ وہ صرف 12 دن پہلے ہی پانچ سال کے وقفے کے بعد دوبارہ گھڑ دوڑ میں واپس آئے تھے۔ ان پانچ برسوں میں سے ایک سال انہوں نے ٹیکس چوری کے جرم میں جیل میں گزارا تھا۔\n\nپگٹ نے کہا: ’یہاں تک پہنچنے کے لیے بھی مجھے قسمت کی بڑی مدد درکار تھی۔‘\n\nکھلاڑی\n\nریٹائرمنٹ\n\nسرینا ولیمز\n\nپانچ بڑے کھلاڑی جنہوں نے کھیلوں میں دوبارہ واپسی کی، اور بعض کے لیے واقعی یہ کہاوت سچ ثابت ہوئی کہ زندگی چالیس برس کے بعد شروع ہوتی ہے۔\n\nاے ایف پی\n\nسوموار, جون 8, 2026 - 13:15\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">نیوزی لینڈ کے شہر آکلینڈ میں 12 جنوری 2020 کو سرینا ولیمز آکلینڈ کلاسک ٹینس ٹورنامنٹ میں جیسیکا پیگولا کے خلاف فائنل میچ جیتنے کے بعد اپنی بیٹی اولمپیا کے ساتھ (اے ایف پی)</p>\n\nکھیل\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\n40 سال قبل چرنوبل کی تابکاری کیا پاکستان بھی پہنچی تھی؟\n\nپی ایس ایل 11: ٹرافی کے علاوہ کس کھلاڑی کو کیا ملا؟\n\nچاند کے گرد تاریخی سفر کے بعد آرٹیمس ٹو مشن کی زمین پر واپسی\n\nسرینا ولیمز کی چار سال غیرحاضری کے بعد برلن میں واپسی کی تیاری\n\nSEO Title:\n\nوہ پانچ بڑے کھلاڑی جنہوں نے 40 برس کی عمر میں شان دار واپسی کی\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "وہ پانچ بڑے کھلاڑی جنہوں نے 40 برس کی عمر میں شان دار واپسی کی"
}