{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreiaptdl5fg6tewoqtk67dmijsaanmxoft2m35f3zld26pw3om5i4jq",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mnspum7m4432"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreib6yf64fxq4f4oczrgenhu4ikf3qnprlet5f4frhfo2rdy5ae3rum"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 89557
},
"path": "/node/186232",
"publishedAt": "2026-06-08T15:25:39.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"کاروبار",
"بجٹ",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"معیشت",
"news"
],
"textContent": "**مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر کاشف چوہدری نے دیگر تاجر رہنماؤں کے ہمراہ پیر کو ایک اہم پری بجٹ پریس کانفرنس میں ملکی معیشت کی صورتحال کو ’آئی سی یو‘ میں قرار دیا ہے۔**\n\nانہوں نے واضح کیا کہ ملک اس وقت قرضوں کے بوجھ، انتظامی بدانتظامی، کرپشن اور مہنگائی کی لپیٹ میں ہے، جس کی وجہ سے آئندہ وفاقی بجٹ سے کسی قسم کے ریلیف کی امید رکھنا حقیقت پسندانہ نہیں لگتا۔\n\nکاشف چوہدری نے حکومت کے 15 ہزار ارب روپے کے ٹیکس ہدف پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جو حکومت گذشتہ سال کا ہدف پورا نہیں کر سکی، وہ اب یہ ہدف کیسے حاصل کرے گی؟\n\nان کے مطابق، نئے ٹیکسوں کا نفاذ دم توڑتی معیشت کے لیے مزید مشکلات پیدا کرے گا۔\n\nانہوں نے اس تاثر کی نفی کی کہ لوگ ٹیکس نہیں دیتے بلکہ ان کا کہنا تھا کہ ہر پاکستانی پیدائش سے موت تک ٹیکس ادا کر رہا ہے۔\n\n’اس وقت تاجر برادری 27 مختلف اقسام کے ٹیکس، لائسنس فیسیں اور دیگر سرکاری مطالبات پورے کر رہی ہے۔‘\n\nایف بی آر کے نظام پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تاجروں کو محض ٹیکس کلیکشن ایجنٹ بنا دیا گیا ہے اور ’ہراسانی کا ایک نظام رائج ہے۔‘\n\nپوائنٹ آف سیل (پی او ایس) کے ذریعے چھاپوں اور معمولی غلطیوں پر دکانیں سیل کرنے کو انہوں نے ’معاشی دہشت گردی‘ سے تعبیر کیا۔\n\nانہوں نے کہا کہ تاجروں کا مطالبہ ہے کہ انکم ٹیکس کے 45 سے 60 فیصد کے سلیب کم کیے جائیں اور ٹیکس چھوٹ کی حد کو 15 لاکھ روپے تک بڑھایا جائے۔\n\nپریس کانفرنس کے دوران صنعت و تجارت کی بحالی کے لیے تاجر رہنماؤں نے بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں کمی کو ناگزیر قرار دیا ہے۔\n\nکاشف چوہدری نے بجلی کے بلوں میں موجود ٹیکسوں اور سلیب سسٹم، خاص طور پر 200 اور 201 یونٹ کے درمیان قیمت کے بڑے فرق کو عوام پر ظلم قرار دیا۔\n\nانہوں نے آئی پی پیز کو دی جانے والی 2500 ارب روپے کی ’کیپسٹی پیمنٹس‘ کو روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے تجویز دی کہ مزید مہنگے معاہدوں کی بجائے ہائیڈرل، ونڈ اور نیوکلیئر جیسے سستے ذرائع پر توجہ دی جائے۔\n\nپریس کانفرنس میں سودی نظام کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی رقم کا ایک بڑا حصہ، یعنی تقریباً 87 ہزار ارب روپے سود کی ادائیگیوں میں چلا جاتا ہے۔\n\nتاجروں نے مطالبہ کیا کہ شرح سود کو فوری طور پر چھ فیصد پر لایا جائے تاکہ حکومتی اخراجات میں 3500 ارب روپے کی کمی ہو سکے۔\n\nان کا کہنا تھا کہ شرح سود میں صرف ایک فیصد اضافہ عوام پر 562 ارب روپے کا بوجھ ڈالتا ہے۔\n\nحکومتی فضول خرچیوں پر تنقید کرتے ہوئے کاشف چوہدری نے کہا کہ ایک طرف عوام مہنگائی سے متاثر ہیں اور دوسری طرف اشرافیہ شاہانہ پروٹوکول اور مراعات سے لطف اندوز ہو رہی ہے۔\n\nانہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض افسران ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد کی تنخواہ اور مراعات لے رہے ہیں جو ملک کے لیے بوجھ ہیں۔\n\nتاجروں نے مطالبہ کیا کہ وی آئی پی کلچر اور بیرونی دوروں پر پابندی لگائی جائے۔\n\nمزید برآں، ملک میں انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے بنانے کی تجویز دی گئی تاکہ وفاق کو مضبوط بنایا جا سکے۔\n\nانہوں نے ترقیاتی بجٹ میں 50 فیصد کمی کی تجویز بھی دی کیونکہ ان کے بقول اس کا 70 فیصد حصہ کرپشن کی نذر ہو جاتا ہے۔\n\nدوسری جانب کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) نے ایک پریس ریلیز میں مالیاتی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ کے حوالے سے انتہائی اہم اور دور رس مطالبات پیش کیے ہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nچیمبر کی قیادت نے واضح کیا ہے کہ ملکی معیشت کی بہتری کے لیے حکومت کو اپنی ترجیحات میں بنیادی تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔\n\nکراچی چیمبر کا سب سے بڑا مطالبہ یہ ہے کہ بجٹ میں شامل تمام ایسے اقدامات کو فوری طور پر واپس لیا جائے جو کاروبار اور صنعت کی ترقی میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔\n\nچیمبر کے مطابق ’کاروبار مخالف اقدامات‘ نہ صرف سرمایہ کاری کو متاثر کرتے ہیں بلکہ موجودہ صنعتی ڈھانچے کے لیے بھی خطرہ پیدا کر دیتے ہیں۔\n\nپریس ریلیز میں زبیر موتی والا اور ریحان حنیف نے زور دیا کہ ٹیکسوں کا بوجھ بڑھانے یا پیچیدہ ریگولیٹری اقدامات کی بجائے سہولت کاری پر توجہ دی جانی چاہیے۔\n\nپریس ریلیز کا ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ حکومت کو ماضی کی معاشی پالیسیوں کو دہرانے سے گریز کرنا چاہیے۔\n\nچیمبر کی قیادت کا ماننا ہے کہ ماضی میں بار بار کی جانے والی غلطیوں نے ملکی صنعت کو نقصان پہنچایا، اس لیے اب وقت آ گیا ہے کہ ان غلطیوں کا ازالہ کیا جائے۔\n\n’کاروبار دوست اقدامات کو ترجیح دینا ہی وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے معیشت کو پٹڑی پر لایا جا سکتا ہے۔‘\n\nکراچی چیمبر کی کلیدی قیادت نے، بشمول زبیر موتی والا اور ریحان حنیف، حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ پالیسی سازی کے عمل میں سٹیک ہولڈرز، خاص طور پر تاجر برادری، کو شامل کرے۔\n\nان کے مطابق جب تک پالیسیاں زمینی حقائق اور کاروباری ضروریات کے مطابق نہیں ہوں گی، وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکیں گی۔\n\nان کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ مالیاتی پالیسیوں کا مرکز ’پروڈکشن‘ اور ’ایکسپورٹ‘ ہونا چاہیے تاکہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آ سکے۔\n\nکاروبار\n\nبجٹ\n\nتاجر تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ پیداوار اور برآمدات پر مبنی کاروبار دوست پالیسیاں وضع کی جائیں تاکہ ملک کو معاشی بحران سے نکالا جا سکے۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nسوموار, جون 8, 2026 - 20:00\n\nMain image:\n\n> <p>سات جولائی، 2025 کو لاہور کے نواح میں ایک فیکٹری میں مزدور کام کر رہا ہے (اے ایف پی)</p>\n\nمعیشت\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nاچھا بجٹ اب بھی ممکن ہے لیکن۔۔\n\nبجٹ سے آگے: معیشت کے بنیادی مسائل کب حل ہوں گے؟\n\nبجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات شامل ہوں گے: وزیر اعظم\n\nکتاب، کاپی اور قلم پر 80 فیصد ٹیکس، نئے بجٹ میں تعلیم بھی مہنگی ہوگی؟\n\nSEO Title:\n\nملکی معیشت ’آئی سی یو‘ میں، کاروبار دوست اقدامات کو ترجیح دی جائے: تاجر تنظیمیں\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "ملکی معیشت ’آئی سی یو‘ میں، کاروبار دوست اقدامات کو ترجیح دی جائے: تاجر تنظیمیں"
}