{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreicljjoffyguq5nozxmssbtbfaggvp2cfweopsrdgl4fp6v45znw2u",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mnplb7xrgq42"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreiav2j7h4grw5fifi4hlchtmp3xjsh4njoo5qwjgikhrzkcedz5i2u"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 86735
  },
  "path": "/node/186217",
  "publishedAt": "2026-06-07T14:17:14.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "لارڈز کرکٹ گراونڈ",
    "ٹیسٹ",
    "بین سٹوکس",
    "اے پی",
    "کرکٹ",
    "news"
  ],
  "textContent": "**انگلینڈ کے کپتان بین سٹوکس نے اتوار کو خبردار کیا کہ ٹوئنٹی 20 کرکٹ کے بڑھتے ہوئے اثرات کے باعث خطرے سے دوچار ٹیسٹ کرکٹ کو بہتر وکٹوں کی ضرورت ہے نہ کہ ایسی پچوں کی، جیسی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں دیکھنے کو ملی، جہاں انگلینڈ نے 115 رنز سے کامیابی حاصل کی۔**\n\nکرکٹ کے تاریخی میدان لارڈز میں کھیلا جانے والا یہ ٹیسٹ صرف 166 مکمل اوورز میں ختم ہو گیا، جو یہاں کھیلے گئے 150 ٹیسٹ میچوں میں دوسرا مختصر ترین ٹیسٹ تھا۔\n\nدونوں ٹیموں نے مجموعی طور پر صرف 617 رنز بنائے۔ بلے بازوں کے لیے اس انتہائی مشکل اور غیر متوقع پچ پر ہر 25 گیندوں کے بعد ایک وکٹ گری۔\n\nبی بی سی کے مطابق انگلینڈ میں 1907 کے بعد یہ سب سے کم اوسط تھی۔ 40 آؤٹ ہونے والے بلے بازوں میں سے 24 یا تو بولڈ ہوئے یا ایل بی ڈبلیو قرار پائے جو انگلینڈ میں کسی بھی ٹیسٹ میچ کا ایک ریکارڈ ہے۔\n\nمیچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے سٹوکس نے، جو ٹیسٹ کرکٹ کے بڑے حامیوں میں شمار ہوتے ہیں، کہا کہ اس قسم کا میچ ٹیسٹ فارمیٹ کے لیے اچھا تاثر نہیں چھوڑتا جسے بہت سے لوگ زوال پذیر سمجھتے ہیں۔\n\nانہوں نے کہا ’مجھ سے اکثر ٹیسٹ کرکٹ کے مستقبل کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے، یہ بھی پوچھا جاتا ہے کہ اسے مزید ترقی دینے اور مستقبل میں مضبوط رکھنے کے لیے کیا کرنا چاہیے۔‘\n\nاپنی طویل گفتگو کے اختتام پر انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا ’ایک ایسے شخص کے طور پر جو ٹیسٹ کرکٹ سے محبت کرتا ہے، میرا سوال یہ ہے کہ کیا ایسی صورتحال ٹیسٹ کرکٹ کے مستقبل کے لیے فائدہ مند ہے؟ میرے خیال میں نہیں۔‘\n\nاگرچہ میچ چوتھے دن تک پہنچا لیکن اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ تیسرے دن کا تقریباً پورا کھیل بارش کی نذر ہو گیا تھا۔\n\nسٹوکس نے کہا ’اگر آپ کے پاس پہلے دن کا ٹکٹ تھا تو یقیناً آپ نے خوب لطف اٹھایا ہوگا۔ ہر طرف وکٹیں گر رہی تھیں، گیندیں بے قابو ہو رہی تھیں کیونکہ بلے بازوں نے محسوس کیا کہ رنز بنانے کا یہی بہترین طریقہ ہے۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا ’لیکن دوسری جانب اگر بارش نہ ہوتی تو میچ بہت جلد ختم ہو جاتا۔ کیا ہم واقعی یہی چاہتے ہیں؟\n\nنیوزی لینڈ کے ولیمسن چار جون، 2026 کو لارڈز میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں سٹوکس کو آؤٹ کرنے کے بعد خوشی منا رہے ہیں (اے ایف پی)\n\n\n\n\n’میرا خیال ہے کہ ہمیں دونوں انتہاؤں کے درمیان کوئی متوازن راستہ تلاش کرنا چاہیے۔‘\n\nتاہم سٹوکس نے اپنی ٹیم کو خراج تحسین پیش کیا کہ اس نے انتہائی مشکل پچ کے مطابق خود کو ڈھالا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nصورتحال یہ تھی کہ کئی بلے باز آؤٹ ہونے کے بعد ڈریسنگ روم واپس جاتے ہوئے ہنس رہے تھے کیونکہ انہیں خود سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ گیند کس طرح حرکت کر رہی ہے اور ان کی فٹ ورک میں کیا خرابی رہ گئی۔\n\nخود سٹوکس بھی دوسری اننگز میں صرف تین گیندیں کھیل کر صفر پر آؤٹ ہوئے۔ نیتھن سمتھ کی ایک گیند اندر آتی ہوئی اچانک سیدھی ہوئی اور آف سٹمپ کے اوپری حصے سے ٹکرا گئی۔\n\nآؤٹ ہونے کے بعد سٹوکس کو مایوسی سے سر ہلاتے دیکھا گیا۔ ’اس سے ہماری کارکردگی کی اہمیت کم نہیں ہوتی۔ ہم یہاں آئے، ہم نے انہی حالات کے مطابق کرکٹ کھیلی اور اسی انداز نے ہمیں کامیابی دلائی۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا ’ممکن ہے اگلے ہفتے ہم میدان میں آئیں اور حالات بالکل مختلف ہوں، تب ہمیں مختلف حکمت عملی اپنانا ہو گی۔‘\n\nاس مؤقف کی حمایت نیوزی لینڈ کے کپتان ٹام لیتھم نے بھی کی، جن کی ٹیم 17 جون سے اوول میں شروع ہونے والے دوسرے ٹیسٹ میں انگلینڈ کا سامنا کرے گی۔\n\nلیتھم نے کہا ’میرے خیال میں ضروری ہے کہ ہم اس میچ میں زیادہ نہ الجھیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ اوول میں حالات یہاں کے مقابلے میں کہیں بہتر ہوں گے۔‘\n\nلارڈز کرکٹ گراونڈ\n\nٹیسٹ\n\nبین سٹوکس\n\nلارڈز میں کھیلا جانے والا یہ ٹیسٹ صرف 166 مکمل اوورز میں ختم ہو گیا، جو یہاں کھیلے گئے 150 ٹیسٹ میچوں میں دوسرا مختصر ترین ٹیسٹ تھا۔\n\nاے پی\n\nاتوار, جون 7, 2026 - 19:15\n\nMain image:\n\n> <p>نیوزی لینڈ کے بیٹر میٹ ہینری سات جون، 2026 کو لارڈز میں انگلش بولر اٹکینسن کی گیند پر بولڈ ہوتے ہوئے (اے ایف پی)</p>\n\nکرکٹ\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nسوریا ونشی غیر ملکی دورے پر والدین کو لے جا سکتے ہیں\n\nپاکستان نے آسٹریلیا کو تیسرے ون ڈے میں ہرا کر سیریز اپنے نام کر لی\n\nبگ بیش کی ٹیمیں نیلام کریں یا نہیں؟ کرکٹ آسٹریلیا بند گلی میں\n\nپیٹ کمنز نے کن 2 بولرز کو کسی بھی ’کپتان کا خواب‘ قرار دیا\n\nSEO Title:\n\nہر 25 گیندوں کے بعد وکٹ، لارڈز ٹیسٹ جیت کر بھی انگلش کپتان ناخوش\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "ہر 25 گیندوں کے بعد وکٹ، لارڈز ٹیسٹ جیت کر بھی انگلش کپتان ناخوش"
}