{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreicmfjax4t2jj2jl5xpku5ob4rfjffsdjsfdkm2a47xey6fleyddwm",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mnpekyrjvv62"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreid4e3kkt3di7ckb23yonhbfnt72phpbudqs5aebdzh45hx76wfs4u"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 71064
  },
  "path": "/node/186213",
  "publishedAt": "2026-06-07T12:52:34.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "پاکستان کے زیر انتظام کشمیر",
    "سیاست",
    "پاکستان",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "news"
  ],
  "textContent": "**وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے اتوار کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے 38 مطالبات میں سے 35 پر عمل درآمد ہو چکا ہے۔**\n\nانہوں نے مزید کہا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سرگرم جے اے اے سی کے ساتھ گذشتہ سال اکتوبر میں طے پانے والے معاہدے کے تحت بیشتر مطالبات پر عمل درآمد کیا جا چکا ہے اور باقی معاملات بھی مذاکرات کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں۔\n\nانہوں نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ حکومت نے صرف تین مطالبات پورے کیے ہیں۔ ان کے بقول بعض حلقے اس حوالے سے ’منفی پروپیگنڈا‘ کر رہے ہیں۔\n\nوفاقی وزیر نے کہا کہ مسائل کا حل پرتشدد احتجاج میں نہیں بلکہ مذاکرات میں ہے۔ ’جب ہم مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی بات کرتے ہیں تو ان کی جانب سے پرتشدد مظاہروں کا جواب آتا ہے، یہ دونوں ایک دوسرے کے متضاد رویے ہیں۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا کہ جن شقوں پر ابھی تک مکمل عمل درآمد نہیں ہو سکا، ان پر بھی فریقین بیٹھ کر بات چیت کر سکتے ہیں۔\n\nجوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی گذشتہ تین برسوں سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں عوامی حقوق اور مختلف مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک چلا رہی ہے۔ گذشتہ برس کمیٹی کے ریاست گیر لانگ مارچ کے دوران سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں کئی افراد جان سے گئے تھے جبکہ درجنوں زخمی ہوئے تھے۔\n\nاس بحران کے حل کے لیے وزیراعظم شہباز شریف نے ایک اعلیٰ اختیاراتی مذاکراتی کمیٹی مظفرآباد بھیجی تھی، جس کے بعد وفاقی حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا۔ تاہم جے اے اے سی مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ حکومت نے معاہدے کی تمام شقوں پر عمل درآمد نہیں کیا۔\n\nگذشتہ ہفتے مظفرآباد میں اسلام آباد کی ہائی پاور کمیٹی اور جے اے اے سی کے درمیان کئی گھنٹوں تک مذاکرات ہوئے، تاہم وہ کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔ اس کے بعد عوامی ایکشن کمیٹی نے نو جون کو تمام اضلاع سے مظفرآباد کی جانب مارچ اور قانون ساز اسمبلی کے سامنے دھرنے کی اپنی کال برقرار رکھی۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nطارق فضل چوہدری نے پریس کانفرنس کے دوران سوال اٹھایا کہ آیا موجودہ بے چینی پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کو الگ الگ اکائیوں کے طور پر پیش کرنے کی کوشش تو نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے جے اے اے سی کے مطالبات کو کبھی نظرانداز نہیں کیا۔\n\nپریس کانفرنس کے آغاز میں وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا کہ 27 جولائی کو آزاد کشمیر میں ہونے والے انتخابات سے قبل بعض عناصر خطے میں بدامنی کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔\n\nدوسری جانب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر پولیس کے ترجمان نے چھ جون کو ایک بیان میں کہا تھا کہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کالعدم قرار دی گئی جے اے اے سی سے وابستہ 72 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق گرفتار افراد سے اسلحہ اور مواصلاتی آلات بھی برآمد کیے گئے، تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ گرفتاریاں کن شہروں سے کی گئیں۔\n\nادھر کشمیر حکومت کی درخواست پر وفاقی حکومت کی جانب سے بھیجی گئی پولیس، رینجرز اور فرنٹیئر کور (ایف سی) کی اضافی نفری اور گاڑیاں مختلف شہروں میں پہنچ چکی ہیں، جبکہ کئی مقامات پر فلیگ مارچ بھی کیے جا رہے ہیں۔\n\nاس تمام صورت حال پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے بھی اسلام آباد میں جموں کشمیر ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یقین دہانی کروائی ہے کہ حکومت نے عوامی ایکشن کمیٹی کے 38 مطالبات میں سے 37 کو مکمل یا جزوی طور پر تسلیم کر لیا ہے۔\n\nپاکستان کے زیر انتظام کشمیر\n\nسیاست\n\nپاکستان\n\nوفاقی وزیر طارق فضل چوہدری کے مطابق جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 38 مطالبات میں سے 35 پر عمل درآمد ہو چکا۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nاتوار, جون 7, 2026 - 17:45\n\nMain image:\n\n> <p>چار نومبر 2025 کو وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری سینیٹ میں خطاب کر رہے ہیں (اے پی پی)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nمظفرآباد: عوامی ایکشن کمیٹی کی احتجاج کی کال، سکیورٹی کے سخت انتظامات\n\nایکشن کمیٹی سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں: کشمیری وزیراعظم\n\nپاکستانی کشمیر کی عوامی ایکشن کمیٹی کالعدم قرار\n\nپاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 72 گرفتاریاں، انٹرنیٹ بند، سکیورٹی سخت\n\nSEO Title:\n\nکشمیر ایکشن کمیٹی کے صرف 3 مطالبے پورے کرنے کا تاثر غلط: حکومت پاکستان\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "کشمیر ایکشن کمیٹی کے صرف 3 مطالبے پورے کرنے کا تاثر غلط: حکومت پاکستان"
}