{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreibz5chrtnn7wywwn5e234miyil6nv5n5ivej544hynvtgcbbfigqy",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mnowxpjlvpn2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreigdrppfihgrm6ut3pe47c6gsd3fip2442o2ai5qq7dntzrysxmwg4"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 80093
},
"path": "/node/186211",
"publishedAt": "2026-06-07T08:18:38.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"کم جونگ ان",
"شی جن پنگ",
"بیجنگ",
"شمالی کوریا",
"کم ٹونگ ہیونگ اور ہوئی زونگ وو",
"ایشیا",
"news"
],
"textContent": "**چین کے صدر شی جن پنگ تقریباً سات سال میں شمالی کوریا کے اپنے پہلے دورے پر روانہ ہونے والے ہیں۔ یہ ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے اور کم جونگ اُن کو ان تیزی سے جارحانہ ہوتی ہوئی خارجہ پالیسی کو پیش کرنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔**\n\nیہ دورہ پیانگ یانگ کی اپنے روایتی سرد جنگ کے اتحادیوں کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کرنے کی حکمت عملی کو اجاگر کرتا ہے۔\n\nجبکہ توقع ہے کہ شمالی کوریا کے لیے اہم اقتصادی شہ رگ کی حیثیت رکھنے والا بیجنگ ایک ایسی حکومت پر اپنا اثر و رسوخ دوبارہ قائم کرے گا جس کا جھکاؤ حال ہی میں روس کی طرف رہا ہے۔\n\nپیر کو شروع ہونے والا یہ تین روزہ دورہ، ستمبر 2025 میں دوسری عالمی جنگ کی ایک تقریب کے لیے کم کے دورہ بیجنگ کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان پہلا براہ راست رابطہ ہے۔\n\nتوقع ہے کہ اس انتہائی اہم بات چیت میں دونوں ممالک کے مختلف جیو پولیٹیکل اور اقتصادی مقاصد پر غور کیا جائے گا۔\n\n**کم جونگ ان کو کیا حاصل ہو سکتا ہے؟**\n\nروس کو ترجیح دینے کے ایک عرصے کے بعد، جس میں شمالی کوریا نے یوکرین پر ماسکو کے حملے کی حمایت کے لیے ہزاروں فوجی اور گولہ بارود بھیجا، کم اب چین کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کے خواہاں ہیں۔\n\nاس اقدام کا مقصد بین الاقوامی تنہائی سے مزید باہر نکلنا، ’نئی سرد جنگ‘ کے تصور کو اپنانا، اور پیانگ یانگ کو امریکہ کے خلاف ایک متحدہ محاذ کے حصے کے طور پر کھڑا کرنا ہے۔\n\nتاریخی طور پر، شمالی کوریا نے بیجنگ اور ماسکو کے درمیان ’مساوی فاصلے‘ کی پالیسی برقرار رکھی ہے، جو ایک ایسی حکمت عملی ہے جسے پچھلے رہنماؤں نے اپنے دو اہم سرپرستوں سے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا تھا۔\n\nچینی صدر شی جن پنگ اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان تین ستمبر 2025 کو بیجنگ کے گریٹ ہال آف دی پیپل میں دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے 80 سال مکمل ہونے پر استقبالیہ تقریب میں شریک ہیں (روئٹرز)\n\n\n\n\nاگرچہ وہ روس کی جنگی کوششوں کی حمایت کرنے پر اس سے اہم مدد حاصل کر رہے ہیں، جس میں ممکنہ طور پر فوجی ٹیکنالوجی اور امداد شامل ہے، لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ کم چین کی خاطر خواہ اقتصادی امداد کے بغیر اپنے عوام کا معیار زندگی بلند کرنے کا وعدہ پورا نہیں کر سکتے۔\n\nسیئول کے انسٹی ٹیوٹ آف نیشنل یونیفکیشن کے سابق صدر کوہ یو ہوان وضاحت کرتے ہیں کہ ’شمالی کوریا ایک خود انحصار اقتصادی نظام کو برقرار رکھنے اور اپنی ایٹمی صلاحیتوں کو آگے بڑھانے پر توجہ مرکوز کرنے کا عہد کرتا ہے، لیکن حقیقت میں صرف اندرونی وسائل کو بروئے کار لا کر معیار زندگی کو بلند کرنا تقریباً ناممکن ہے۔‘\n\nکم جونگ ان اور شی جن پنگ ملاقات کے دوران ممکنہ بات چیت میں شمالی کوریا کے لیے چینی سیاحت کی بحالی اور دریائے یالو پر واقع اس پل کو کھولنا شامل ہو سکتا ہے، جو مکمل ہونے کے بعد سے برسوں تک استعمال نہیں ہوا۔\n\nدونوں رہنما شمالی کوریا، چین اور روس کے مشترکہ سرحدی علاقوں میں اقتصادی ترقی کے مشترکہ منصوبوں کا بھی جائزہ لے سکتے ہیں۔\n\nیہ دورہ اس حوالے سے بھی سوالات اٹھاتا ہے کہ آیا کم واشنگٹن کے ساتھ دوبارہ بات چیت کے لیے اپنی بہتر سفارتی حیثیت کا فائدہ اٹھائیں گے؟\n\nامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ان کی پچھلی بات چیت 2019 میں شمالی کوریا پر پابندیوں سے متعلق اختلافات کی وجہ سے ناکام ہو گئی تھی۔\n\nپیانگ یانگ نے امریکی صدر کے اپنی دوسری مدت میں داخل ہونے کے بعد ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی پیشکشوں کو مسترد کر دیا ہے، اور اس بات پر اصرار کیا ہے کہ واشنگٹن پہلے ایک شرط کے طور پر شمالی کوریا کے ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے کا اپنا مطالبہ ترک کرے۔\n\nکم نے 2018 اور 2019 میں سنگاپور اور ویتنام میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنے سربراہی اجلاسوں سے قبل شی سے ملاقات کی تھی، ان اقدامات کو وسیع پیمانے پر ان کی سودے بازی کی پوزیشن کو مضبوط بنانے کی کوششوں کے طور پر دیکھا گیا۔\n\nسیئول کی ایوا یونیورسٹی کے پروفیسر پارک وون گون نے بتایا: ’شمالی کوریا کے نقطہ نظر سے، یہ مانا جاتا ہے کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے وقت چین کی حمایت حاصل ہونے سے سکیورٹی اور اعتماد کا احساس ملتا ہے۔‘\n\n**شی جن پنگ کے مقاصد**\n\nچین کے لیے یہ دورہ ایک روایتی اتحادی کو اپنے دائرہ اثر کے مزید قریب لانے کا موقع فراہم کرتا ہے، جو ممکنہ طور پر اقتصادی مراعات اور خوراک کی امداد کی پیشکش کے ذریعے ہو سکتا ہے، یہ امداد کی وہ روایتی شکلیں ہیں جو بیجنگ شمالی کوریا کو فراہم کرتا رہا ہے۔\n\nسی این این کے سابق صحافی اور مصنف مائیک چنائے نے کہا کہ ’میرے خیال میں چینی نجی طور پر کم جونگ ان اور ولادی میر پوتن کے بڑھتے ہوئے تعلقات پر قدرے بے چین ہیں، کیوں کہ شمالی کوریا کا جھکاؤ واقعی بہت زیادہ روس کی طرف ہو گیا ہے۔ شی جن پنگ کے ہدف کا ایک حصہ اس توازن کو درست کرنا ہے۔‘\n\nشی جنگ پنگ کا یہ دورہ 2026 میں ان کی بیرون ملک پہلی مصروفیت ہے، وہ عالمی وبا کے بعد سے سرکاری دوروں کے بارے میں کافی محتاط ہو گئے ہیں۔\n\nٹرمپ اور پوتن دونوں کے ساتھ الگ الگ مصروفیات کے بعد، اس دورے کے وقت کو سٹریٹجک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔\n\nجارج ایچ ڈبلیو بش فاؤنڈیشن فار یو ایس چائنہ ریلیشنز کے ایک سینیئر فیلو سیونگ ہیون لی نے تبصرہ کیا ہے کہ ’یہ دورہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ان کی رضامندی کے بغیر کوئی بھی جزیرہ نما کے سکیورٹی ڈھانچے کو نئی شکل نہیں دے سکتا۔‘\n\nبیجنگ بھی کم کے واضح جوہری عزائم کے حوالے سے زیادہ حقیقت پسندانہ رویہ اپناتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔\n\nاپریل میں چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے پیانگ یانگ کے دورے کے دوران، مبصرین نے سرکاری بیان سے ’ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے‘ کے لفظ کی نمایاں غیر موجودگی کو نوٹ کیا، جو جزیرہ نما کوریا کے ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے کی وکالت کرنے والے چین کے معمول کے موقف سے انحراف ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nلی نے مزید وضاحت کی کہ ’اس دورے کی سب سے نمایاں علامت ایک خاموشی ہو سکتی ہے: اگر چین کے سرکاری بیان میں ’ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے‘ کے لفظ کو چھوڑ دیا جاتا ہے، تو بیجنگ نے عملی طور پر شمالی کوریا کو ایک ایٹمی ملک تسلیم کر لیا ہے، اور اس مسئلے کو امریکہ کے خلاف اپنی وسیع تر بفر حکمت عملی کا حصہ بنا لیا ہے۔‘\n\nاس کے بدلے میں، چین دریائے تومن کے دہانے تک زیادہ رسائی حاصل کر سکتا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان سرحد کا حصہ بنتا ہے، اور جزیرہ نما کوریا کے مشرقی ساحل کے پانیوں میں جہاز رانی کے حقوق طلب کر سکتا ہے۔\n\nاگرچہ توقع ہے کہ کم شی کا شاندار اور پرتپاک استقبال کریں گے، ماہرین کا خیال ہے کہ چین کے لیے تیزی سے پر اعتماد ہوتے ہوئے شمالی کوریا کے رہنما سے اہم مراعات حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔\n\nمائیک چنائے نے کہا کہ ’وہ شی جن پنگ کا اپنے ایک دیوہیکل پڑوسی ملک کے سربراہ مملکت کے شایان شان استقبال کرنے والے ہیں، لیکن وہ ایک فرمانبردار ’چھوٹے بھائی‘ کا کردار ادا نہیں کریں گے۔‘\n\nکم جونگ ان\n\nشی جن پنگ\n\nبیجنگ\n\nشمالی کوریا\n\nچینی صدر شی جن پنگ تقریباً سات سال میں پہلی بار شمالی کوریا کا دورہ کر رہے ہیں جو شمالی کوریائی رہنما کم جونگ کی جارحانہ پالیسی کے لیے سٹیج فراہم کرے گا۔\n\nکم ٹونگ ہیونگ اور ہوئی زونگ وو\n\nاتوار, جون 7, 2026 - 11:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">شمالی کوریا کے رہنما کِم جونگ اُن اور چینی صدر شی جن پنگ چار ستمبر 2025 کو بیجنگ سمٹ کے موقعے پر دن ہاتھ ملا رہے ہیں (روئٹرز)</p>\n\nایشیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nکم جونگ نے شمالی کورین خواتین کو ’کمزور‘ قرار دے دیا\n\nپوتن کا ’گولہ بارود کے بدلے‘ کم جونگ ان کو ’گھوڑوں کا تحفہ‘\n\nشی جن پنگ اور جنوبی کورین صدر کے فونز میں ’بیک ڈور‘ پر قہقہے\n\nمعاف کیجیے جناب صدر، اب دنیا شی جن پنگ چلا رہے ہیں\n\nSEO Title:\n\nچین۔شمالی کوریا سمٹ سے دونوں ملکوں کو کیا ملے گا؟\n\ncopyright:\n\nIndependentEnglish\n\norigin url:\n\nhttps://www.independent.co.uk/asia/east-asia/china-xi-jinping-north-korea-visit-kim-jong-un-summit-b2991209.html\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "چین۔شمالی کوریا سمٹ سے دونوں ملکوں کو کیا ملے گا؟"
}