{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreihi2cmqycvuttlda3fexooxwr5dehmcmewedjfoihx2hjapbn62ge",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mnoak6p7unf2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreih3yqfpqqfkc3xfixzdsc3altl3jvx32nkglya4t3wr3phkqr352y"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 34818
  },
  "path": "/node/186171",
  "publishedAt": "2026-06-07T01:15:49.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "عرب نیوز",
    "پاکستان",
    "انڈیا",
    "پاکستان بھارت کشیدگی",
    "جنگ",
    "مذاکرات",
    "آپریشن سندور",
    "معرکہ حق",
    "بنیان مرصوص",
    "آصف درانی",
    "نقطۂ نظر",
    "news"
  ],
  "textContent": "**پاکستان اور انڈیا کے درمیان گذشتہ سال مئی کی مختصر جنگ کے ایک سال بعد، جنوبی ایشیا کی سٹریٹجک بحث میں خاموشی سے ایک اہم تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔**\n\nہندو قوم پرست تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے رہنما دتاتریہ ہوسابالے نے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’انڈیا کو پاکستان کے ساتھ مکالمے کی کوششیں جاری رکھنی چاہییں۔‘\n\nان کے اس بیان نے نہ صرف انڈیا اور پاکستان دونوں کو حیران کیا بلکہ شدید ردعمل کو بھی جنم دیا تاہم ایک بات اب کافی واضح ہو رہی ہے اور وہ یہ کہ فوجی برتری اور سزا پر مبنی ڈیٹرینس (punitive deterrence) کی بیان بازی آہستہ آہستہ ایک زیادہ سنجیدہ حقیقت پسندی میں بدل رہی ہے۔\n\nانڈیا اور نہ ہی پاکستان ایک دوسرے کے سٹریٹیجک رویے، سیاسی استحکام یا جغرافیائی اہمیت کو بنیادی طور پر تبدیل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔\n\nانڈیا کے سابق سفیر ٹی سی اے راگھون اور شرت سبھروال کی باتوں اور پاکستانی ماہرین کے ردعمل سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں طرف صرف اختلاف نہیں بلکہ ایک بات پر اتفاق بھی ہے اور وہ یہ کہ پاکستان اور انڈیا جیسے دو جوہری ممالک کے درمیان بار بار بحرانوں کو سنبھالنا کوئی مستقل حل نہیں ہے۔ یہاں تک کہ کٹر سوچ رکھنے والے لوگ بھی اب سمجھنے لگے ہیں کہ اگر صرف دباؤ ڈالا جائے اور بات چیت نہ ہو تو کشیدگی کبھی ختم نہیں ہوگی بلکہ بار بار یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔\n\nآج سب سے بڑی رکاوٹ سفارتی ذرائع کی کمی نہیں بلکہ سیاسی اعتماد کا خاتمہ اور دونوں جانب اندرونی سیاسی گنجائش کا سکڑ جانا ہے۔\n\nبرسوں کی قوم پرستانہ مہم، میڈیا کی تقسیم اور سکیورٹی بیانیے نے محدود رابطوں کو بھی سیاسی طور پر خطرناک بنا دیا ہے۔\n\nتاہم تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ انڈیا اور پاکستان نے اکثر شدید محاذ آرائی کے بعد ہی مذاکرات دوبارہ شروع کیے ہیں جیسے کارگل کے بعد جنگ بندی کے عمل سے لے کر جامع مذاکراتی فریم ورک اور بعد ازاں بیک چینل مذاکرات تک۔\n\nموجودہ لمحہ ایک بار پھر جذباتی بیان بازی سے نکل کر سٹریٹجک حقیقت پسندی کی طرف جانے کا تقاضا کر سکتا ہے۔\n\nحالیہ بحرانوں سے پہلا سبق یہ ملتا ہے کہ صرف فوجی اشارے سیاسی حل پیدا نہیں کر سکتے۔ آپریشن سندور نے شاید انڈیا کی جانب سے قیمت چکانے پر مجبور کرنے کی صلاحیت دکھائی ہو، جبکہ پاکستان کے ردعمل نے اپنی ڈیٹرینس کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ لیکن ڈیٹرینس صرف مکمل جنگ سے بچاؤ فراہم تو کرتی ہے لیکن یہ پائیدار امن قائم نہیں کر سکتی۔ نہ ہی یہ بنیادی تنازعات حل کر سکتی ہے، علاقائی عدم استحکام کم کر سکتی ہے یا معاشی مواقع کو کھول سکتی ہے۔\n\nدوسرا سبق بھی اتنا ہی اہم ہے۔ عالمی ماحول بدل چکا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا وہ فریم ورک، جس نے کبھی جنوبی ایشیا کی سفارت کاری کو شکل دی تھی، اب کمزور پڑ چکا ہے۔\n\nبڑی طاقتیں اب ریاستوں کو ایک مسئلے تک محدود بیانیے کے بجائے وسیع تر جغرافیائی و سیاسی تناظر میں دیکھتی ہیں۔\n\n2026 کے ایران-امریکہ بحران کے دوران پاکستان کا کردار اس حقیقت کی مثال ہے۔ اسلام آباد کی ایران، امریکہ، چین، سعودی عرب، ترکی، مصر اور دیگر علاقائی قوتوں کے ساتھ بیک وقت روابط برقرار رکھنے کی صلاحیت اس کی مسلسل جغرافیائی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔\n\nلہٰذا سوال یہ ہے کہ مکالمے کے لیے ایسا عملی روڈ میپ کیسے تیار کیا جائے جو ماضی کی ناکامیوں سے بچ سکے۔\n\nابتدا توقعات کو محدود رکھنے سے ہونی چاہیے۔ ماضی میں انڈیا-پاکستان امن اقدامات کی ایک بڑی کمزوری یہ رہی ہے کہ مذاکرات پر حد سے زیادہ بوجھ ڈال دیا جاتا تھا۔\n\nمخالف ریاستوں کے درمیان پائیدار سفارت کاری عموماً بڑے معاہدوں سے شروع نہیں ہوتی بلکہ چھوٹے، قابلِ حصول اقدامات سے شروع ہوتی ہے جو آہستہ آہستہ اعتماد اور پیش گوئی کی صلاحیت کو بحال کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ کیسے ممکن ہو؟\n\nپہلی اور فوری ضرورت مستقل رابطہ چینلز کی بحالی ہے۔ کشیدگی کے دوران بھی فوجی سطح پر رابطے اور سفارتی تعلقات بحران سے بچاؤ کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔\n\nدونوں ممالک کو چاہیے کہ ڈائریکٹرز جنرل ملٹری آپریشنز کے درمیان باقاعدہ رابطے کو ادارہ جاتی شکل دیں اور میڈیا کے دباؤ سے آزاد بیک چینل سفارت کاری کو دوبارہ فعال کریں۔ خاموش سفارت کاری اکثر اسی لیے کامیاب ہوتی ہے کہ یہ عوامی بیانات سے ہٹ کر لچک فراہم کرتی ہے۔\n\nدوسرا، لائن آف کنٹرول پر 2021 کی جنگ بندی کی مفاہمت کی توثیق اور توسیع کی جانی چاہیے۔ یہ حالیہ برسوں میں اعتماد سازی کے چند کامیاب اقدامات میں سے ایک ہے۔ سرحدی کشیدگی میں کمی سے شہریوں کی سکیورٹی بہتر ہوتی ہے اور غیر ارادی تصادم کے خطرات کم ہوتے ہیں۔\n\nتیسرا، انسانی اور عوامی سطح کے اقدامات کو وسیع سیاسی تنازعات سے فوری طور پر جوڑے بغیر بحال کیا جانا چاہیے۔\n\nبٹے ہوئے خاندانوں، مریضوں، ماہرین تعلیم، فنکاروں، تاجروں اور مذہبی زائرین کے لیے ویزا میں نرمی آہستہ آہستہ سماجی روابط کو بحال کر سکتی ہے۔ انسانی رابطہ اسٹریٹجک تنازعات حل نہیں کرتا، لیکن طویل دشمنی سے پیدا ہونے والی دوری کو کم ضرور کرتا ہے۔\n\nچوتھا، تجارت ایک اور عملی راستہ فراہم کرتی ہے۔ دو طرفہ تجارت کے خاتمے سے پہلے دونوں ممالک محدود تجارتی روابط سے فائدہ اٹھا رہے تھے۔\n\nمخصوص شعبوں، خصوصاً ادویات، زرعی مصنوعات، ٹیکسٹائل اور ضروری اشیا میں تجارت کی بحالی استحکام کے لیے معاشی مفادات پیدا کرے گی۔ جنوبی ایشیا جغرافیائی فوائد کے باوجود دنیا کے کم ترین معاشی طور پر مربوط خطوں میں سے ایک ہے۔\n\nپانچواں، رابطہ کاری (کنیکٹیویٹی) کو طویل مدتی علاقائی وژن کا مرکز بنایا جانا چاہیے۔ پاکستان کا جغرافیہ اسے جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے درمیان ایک پل بنا سکتا ہے۔\n\nانڈیا کی معیشت اور ٹیکنالوجی کی صلاحیت اس نظام کو تقویت دے سکتی ہے۔ توانائی راہداریاں، ٹرانزٹ معاہدے اور علاقائی انفراسٹرکچر منصوبے تنازع کم کرنے کے لیے مشترکہ معاشی مفادات پیدا کریں گے۔\n\nاہم بات یہ ہے کہ ان اقدامات کے لیے کسی بھی فریق کو اپنے بنیادی سیاسی مؤقف سے دستبردار ہونے کی ضرورت نہیں۔ سفارت کاری کی تاریخ بتاتی ہے کہ ریاستیں اکثر تنازعات کے باوجود عملی تعاون کرتی ہیں۔\n\nدونوں فریقین کے درمیان جموں و کشمیر کا مسئلہ بدستور مرکزی حیثیت رکھے گا۔ تاہم موجودہ سیاسی حالات میں فوری حتمی حل کی توقع غیر حقیقی ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nزیادہ عملی طریقہ یہ ہوگا کہ سافٹ بارڈرز، لائن آف کنٹرول کے پار روابط، معاشی تعاون اور تدریجی استحکام پر مبنی سابقہ مفاہمتوں کو بحال کیا جائے۔\n\nدہشت گردی کے خلاف تعاون بھی کسی سنجیدہ مکالمے کا حصہ ہونا چاہیے۔ مخصوص سرحد پار خطرات کے حوالے سے منظم انٹیلی جنس شیئرنگ مستقبل میں محدود مگر بامعنی تعاون کا ذریعہ بن سکتی ہے۔\n\nتاہم فیصلہ کن عنصر سیاسی قیادت ہی رہے گی۔ جہاں وزیر اعظم مودی کو مذاکرات کی بحالی کے لیے کوئی قابلِ قبول جواز درکار ہوگا، وہیں پاکستان کو بھی مسلسل اور بلا تعطل مکالمے کے لیے ماحول تیار کرنا ہوگا۔\n\nجنوبی ایشیا میں سب سے خطرناک غلط فہمی یہ ہے کہ مستقل دشمنی کو غیر معینہ مدت تک سنبھالا جا سکتا ہے۔ اب یہ خطہ جدید فوجی ٹیکنالوجی، سائبر جنگ، ڈرونز، تیز رفتار فیصلوں اور ایٹمی روک تھام کے ماحول میں کام کر رہا ہے۔\n\nآئندہ بحران ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے بڑھ سکتے ہیں، جہاں کشیدگی کم کرنے کا وقت بہت کم ہوگا۔\n\nانڈیا اور پاکستان کے درمیان مکمل امن شاید ابھی دور ہو۔ لیکن منظم بقائے باہمی ممکن ہے۔ مقصد رومانوی مفاہمت نہیں بلکہ مستحکم حقیقت پسندی ہونا چاہیے۔\n\nیہ عمل اسی وقت شروع ہو سکتا ہے جب دونوں فریق ایک بنیادی حقیقت کو تسلیم کریں اور وہ یہ کہ جغرافیہ نے انہیں مستقل ہمسایہ بنایا ہے، لیکن سٹریٹجک بلوغت یہ طے کرے گی کہ وہ کس نوعیت کے ہمسایہ بننا چاہتے ہیں۔\n\n_بشکریہ عرب نیوز_\n\n_نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے اور ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔_\n\nپاکستان\n\nانڈیا\n\nپاکستان بھارت کشیدگی\n\nجنگ\n\nمذاکرات\n\nآپریشن سندور\n\nمعرکہ حق\n\nبنیان مرصوص\n\nمسلسل بحرانوں کے تناظر میں ماہرین اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ اعتماد کی بحالی، محدود تعاون، تجارت اور مسلسل مکالمہ ہی دونوں جوہری ہمسایوں کے درمیان مستحکم تعلقات کی بنیاد بن سکتے ہیں۔\n\nآصف درانی\n\nاتوار, جون 7, 2026 - 07:30\n\nMain image:\n\n> <p>عسکری ذرائع کے مطابق پاکستان نے آپریشن بنیان مرصوص میں فتح اول میزائل استعمال کیے (سکیورٹی ذرائع)</p>\n\nنقطۂ نظر\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nمعرکہ حق میں پاکستانی فضائیہ کے کردار سے دنیا حیران: وزیراعظم\n\nآپریشن سندور 2 کی تیاری کر رہے ہیں:انڈین آرمی چیف\n\nپاکستان نے بھارت کے ساتھ بیک ڈور مذاکرات کی تصدیق کر دی: اخبار\n\nبار بار گھر اجڑنا، بسانا آسان نہیں، ایل او سی کے رہائشیوں کی مشکل\n\nSEO Title:\n\nپاکستان-انڈیا تعلقات: دباؤ کی پالیسی ناکام، مکالمہ ناگزیر\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "پاکستان-انڈیا تعلقات: دباؤ کی پالیسی ناکام، مکالمہ ناگزیر"
}