{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreibcw7c5h435byrzeuw7f4nm3s5ed7lwxbvj242kooypjqnuap3fxy",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mnoak233d3z2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreiacpq4kb3eo2rydi2zcgaoj5lj6g56ed6pbewkx6ngogaoiembi6a"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 145729
  },
  "path": "/node/186206",
  "publishedAt": "2026-06-07T02:39:25.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "گلگت بلتستان الیکشن",
    "گلگت بلتستان",
    "الیکشن",
    "پولنگ",
    "اظہار اللہ",
    "سیاست",
    "news"
  ],
  "textContent": "**پاکستان کے زیر انتظام گلگت بلتستان میں قانون ساز اسمبلی کی 24 نشستوں پر انتخابات کے لیے آج اتوار کو ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔ ووٹروں کی تعداد نو لاکھ سے زائد ہے، جن میں پانچ لاکھ سے زائد مرد اور چار لاکھ 54 ہزار سے زائد خواتین شامل ہیں جب کہ 400 سے زائد امیدواران میدان میں ہیں۔**\n\nپولنگ صبح آٹھ بجے شروع ہو کر شام پانچ بجے تک جاری رہے گی۔\n\nعلاقے میں انتخابی مہم گذشتہ رات ختم ہو گئی تھی۔ مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے گلگت بلتستان بھر میں بینرز اور جھنڈے آویزاں کیے گئے ہیں۔\n\nانتخابات کے لیے سکیورٹی کے بھی سخت انتظامات ہیں۔ یہاں موجود صحافی انور زیب کے مطابق پولنگ سٹیشنوں کے اندر اور باہر پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تعینات ہیں۔\n\nگلگت بلتستان پولیس کے مطابق پولنگ کے دن 17 ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکار خدمات انجام دے رہے ہیں جن میں گلگلت بلتستان پولیس، سندھ پولیس، فرنٹیئر کانسٹبلری اور پنجاب رینجرز کے اہلکار شامل ہیں۔\n\nمقامی صحافی انور زیب نے انڈپینڈنٹ اردو کو گلگت شہر سے بتایا کہ سب سے زیادہ امیدواران پاکستان پیپلز پارٹی نے کھڑے کیے ہیں۔ 24 عام نشستوں پر 23 امیدواران کھڑے کیے گئے ہیں جب کہ دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ امیدواران پاکستان مسلم لیگ ن کے ہیں جو 22 ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حمایت یافتہ 14 امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔\n\nپی ٹی آئی کے امیدواران آزاد حیثیت سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے مجلس وحدت المسلمین کے ساتھ اتحاد کیا ہے کیوں کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے ان کو پارٹی کا انتخابی نشان الاٹ نہیں کیا گیا۔\n\nماضی میں گلگت بلتستان مین نتخابات میں یہ رجحان دیکھا گیا کہ وفاق میں جس سیاسی جماعت کی حکومت ہوتی ہے، تو اسی سیاسی جماعت کو عام انتخابات میں ووٹ ملتے ہیں۔\n\nاسی طرح بعض تجزیہ کاروں کے مطابق یہ رجحان بھی دیکھا گیا ہے کہ گلگت بلتستان میں سیاسی جماعتوں کو کم اور شخصیات کو زیادہ ترجیح دی جاتی ہے کیوں کہ ماضی میں بعض کامیاب امیدواروں نے مختلف سیاسی جماعتیں تبدیل کی ہیں لیکن انتخابات میں وہ مختلف سیاسی جماعتوں یا آزاد حیثیت سے کامیاب ہوئے ہیں۔\n\n**گلگت بلتستان میں انتخابات کی تاریخ**\n\nتقسیم ہند سے پہلے یہ گلگلت ایجنسی یا گلگلت وزارت تھی۔ برطانوی راج نے تقسیم ہند کے وقت 1947 میں گلگلت ایجنسی کو مہاراجہ کے حوالے کر دیا۔ تاہم اس وقت گلگت کے عوام نے ڈوگرہ راج کے خلاف مسلح جدوجہد کا آغاز کیا تھا اور 1949 میں اس علاقے کو جموں اور کشمیر کے ساتھ کراچی معاہدے کے تحت پاکستان کے زیر انتظام چلایا جانے لگا جس کا انتظام وفاقی حکومت کے پاس ہوتا تھا۔\n\nاس کے بعد مختلف اوقات میں اصلاحات کی گئیں۔ سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں قانون ساز کونسل کو قانون ساز اسمبلی میں تبدیل کر دیا گیا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\n2009 میں گلگت بلتستان ایمپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر جاری کیا گیا جس میں گلگلت بلتستان میں قانون ساز اسمبلی کے لیے راہ ہموار ہوئی۔\n\nاس کے بعد اسی اسمبلی کی درخواست پر 2018 میں بڑی اصلاحات کی گئیں اور گلگلت بلتستان کو دیگر صوبوں کے برابر لانے کے لیے قانون بنایا گیا۔ تاہم اس پر تنقید بھی کی گئی کیوں کہ اس آرڈر میں وزیر اعظم کو بہت زیادہ اختیارات دیے گئے تھے۔\n\nآخری عام انتخابات 2020 میں ہوئے تھے جس میں پی ٹی آئی کے خالد خورشید وزیراعلیٰ منتخب ہوئے تھے۔ تاہم گلگت بلتستان کی عدالت نے 2023 میں خالد خورشید کو جعلی ڈگری کیس میں نااہل قرار دے دیا تھا۔ اس کے بعد پی ٹی آئی کے ناراض ارکان، پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی نے اتحادی حکومت قائم کی جس کی مدت 24 نومبر 2025 کو ختم ہو گئی تھی۔\n\nگلگت بلتستان الیکشن\n\nگلگت بلتستان\n\nالیکشن\n\nپولنگ\n\nگلگت بلتستان پولیس کے مطابق پولنگ کے دن 17 ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکار خدمات انجام دے رہے ہیں جن میں گلگلت بلتستان پولیس، سندھ پولیس، فرنٹیئر کانسٹبلری اور پنجاب رینجرز کے اہلکار شامل ہیں۔\n\nاظہار اللہ\n\nاتوار, جون 7, 2026 - 08:00\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">15 نومبر 2020 کو گلگت بلتستان کے شہر سکردو میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے دوران ایک پولنگ سٹیشن پر شہری ووٹ ڈالنے کے لیے قطار میں کھڑے ہیں (سید مہدی شاہ / اے ایف پی)</p>\n\nسیاست\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nگلگت بلتستان انتخابات پر انڈیا کا بیان مسترد کرتے ہیں: پاکستان\n\nگلگت بلتستان الیکشن: انتخابی مہم جاری، عوام کی بڑی امید کیا ہے؟\n\nگلگت بلتستان: تالیداس گاؤں میں ’پراسرار دھماکوں‘ کی آوازیں: معاملہ کیا ہے؟\n\nگلگت بلتستان انتخابات: 26 خواتین کے کاغذات نامزدگی جمع\n\nSEO Title:\n\nگلگلت بلتستان عام انتخابات آج، نو لاکھ سے زائد ووٹرز نئی حکومت کا فیصلہ کریں گے\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "گلگلت بلتستان عام انتخابات آج، نو لاکھ سے زائد ووٹرز نئی حکومت کا فیصلہ کریں گے"
}