{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreiet5qe6oggibaho4eqsm4hyvg2revjjfystdabkun4wiqwm3a2jhi",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mnnzulgjxfa2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreicghl5fiu3jlmu3l4zb7sd4l7lpcsukr6s3quqh33wbx4bsfjh6tm"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 78491
  },
  "path": "/node/186196",
  "publishedAt": "2026-06-06T04:02:12.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "رپورٹ",
    "صدر ڈونلڈ ٹرمپ",
    "اسرائیل",
    "نتن یاہو",
    "امریکہ",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "دنیا",
    "news"
  ],
  "textContent": "**امریکی نیوز چینل ’این بی سی‘ نے دو امریکی حکام اور ایک سابق امریکی عہدیدار کے حوالے سے ہفتے کو رپورٹ کیا ہے کہ پینٹاگون نے امریکہ میں اسرائیل کی بڑھتی ہوئی جاسوسی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انسداد جاسوسی خطرے کی سطح کو بلند ترین درجے تک بڑھا دیا ہے۔**\n\nپینٹاگون کے ماتحت ادارے ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی (ڈی آئی اے) نے حالیہ ہفتوں میں انسداد جاسوسی خطرات سے متعلق ایک نئی رپورٹ جاری کی ہے۔ حکام کے مطابق یہ رپورٹ اسرائیل اور امریکہ کے درمیان ایران کے ساتھ جنگ کے حوالے سے آئندہ لائحۂ عمل پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں جاری کی گئی۔\n\nحکام کا کہنا ہے کہ ڈی آئی اے نے ایک داخلی پیغام میں، جسے موجودہ امریکی حکام میں سے ایک نے دیکھا، اسرائیل سے متعلق خطرے کی سطح بڑھا کر اسے ’کریٹیکل‘ یعنی انتہائی سنگین قرار دیا ہے۔\n\nحکام نے بتایا کہ یہ درجہ بندی پینٹاگون کے اندر ان خدشات کی بنیاد پر کی گئی ہے کہ اسرائیل امریکی اعلیٰ حکام کی نگرانی کے لیے خاص کوشش کر رہا ہے تاکہ ٹرمپ انتظامیہ کی مشرق وسطیٰ کے تنازعات سے متعلق اندرونی مشاورت اور فیصلہ سازی کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکیں۔\n\nایک موجودہ امریکی عہدیدار کے مطابق ڈی آئی اے کے جائزے میں سات صفحات کی ایک دستاویز شامل ہے اور اس میں ایک چارٹ بھی موجود ہے۔ عہدیدار کے مطابق دستاویز میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے بارے میں اندازہ یہ ہے کہ انسانی جاسوسی اور تکنیکی معلومات جمع کرنے کی اس کی صلاحیت ’سنگین سطح‘ پر ہے۔\n\nعہدیدار نے بتایا کہ اس میں کئی مخصوص واقعات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جن سے امریکہ کی تشویش بڑھی۔\n\nدوسری جانب واشنگٹن ڈی سی میں اسرائیلی سفارت خانے کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ یہ بات ’مکمل طور پر غلط‘ ہے کہ اسرائیل امریکہ کی جاسوسی کرتا ہے۔\n\nترجمان نے کہا: ’اسرائیل امریکی اداروں کے بارے میں خفیہ معلومات جمع نہیں کرتا، امریکی حکومتی عہدیداروں کی بات تو دور ہے۔ اسرائیل کی انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے کی کوششیں اس کے دشمنوں کے خلاف ہوتی ہیں، اتحادیوں کے خلاف نہیں۔ اس کے برعکس کوئی بھی دعویٰ یا تو غلط معلومات پر مبنی ہے یا سیاسی مقصد کے تحت کیا گیا ہے۔‘\n\nرپورٹ کے مطابق پینٹاگون نےاس ضمن میں تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔\n\nوائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے ایک بیان میں کہا کہ ’یہ پوری کہانی غلط ہے اور ایسے شخص کے حوالے سے دی گئی ہے جسے یہ علم ہی نہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔‘\n\nنیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر کے دفتر نے، جو ڈی آئی اے سمیت امریکہ کی تمام انٹیلی جنس ایجنسیوں کی نگرانی کرتا ہے، تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nاگرچہ دنیا بھر میں اتحادیوں اور مخالفین کا ایک دوسرے کی جاسوسی کرنا عام بات ہے، لیکن موجودہ اور سابق امریکی حکام نے کہا کہ اسرائیل کی حالیہ کوششیں معمول اور متوقع جاسوسی سے بہت آگے جا چکی ہیں۔ حکام کو یہ معلوم نہیں تھا کہ آیا کسی خاص واقعے نے ڈی آئی اے کو انسداد جاسوسی خطرے کی سطح بڑھانے پر مجبور کیا۔\n\nاین بی سی نیوز نے رپورٹ کیا کہ یہ بڑھا ہوا الرٹ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو ایران کے ساتھ جنگ اور لبنان میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے معاملے پر اختلافات کا شکار ہوئے ہیں، جن میں گذشتہ ہفتے ایک کشیدہ فون کال بھی شامل ہے، جس کے بعد ٹرمپ نے صحافیوں کے سامنے تسلیم کیا کہ انہوں نے اس کال کے دوران نتن یاہو کو ’پاگل‘ کہا تھا۔ ایسے وقت جب یہ سوالات بڑھ رہے ہیں کہ آیا مشرق وسطیٰ میں دونوں ملکوں کے مقاصد نمایاں طور پر الگ ہونا شروع ہو گئے ہیں۔\n\nمغربی حکام کے مطابق نتن یاہو نے ایران کے خلاف بمباری دوبارہ شروع کرنے پر زور دیا ہے اور ٹرمپ سے اختلاف کیا ہے، جنہوں نے ان پر لبنان میں حزب اللہ کے خلاف حملے کم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا ہے۔\n\nموجودہ اور سابق امریکی حکام اور بیرونی ماہرین کے مطابق اسرائیل اس بات میں گہری دلچسپی رکھتا ہے کہ آیا ٹرمپ ایران کے خلاف بڑی جنگی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں یا اس تنازعے کو ختم کرتے ہیں۔\n\nصدر ڈونلڈ ٹرمپ\n\nاسرائیل\n\nنتن یاہو\n\nامریکہ\n\nامریکی میڈیا نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ پینٹاگون نے اسرائیل کی جانب سے لاحق انسداد جاسوسی خطرے کی سطح کو بلند ترین درجے تک بڑھا دیا ہے۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nہفتہ, جون 6, 2026 - 09:00\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 29 دسمبر 2025 کو پام بیچ، فلوریڈا میں واقع اپنی رہائش گاہ مار-ا-لاگو پر اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے استقبال کے موقعے پر (جم واٹسن / اے ایف پی)</p>\n\nدنیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nٹرمپ کی سرزنش اور لیک فون کال سے نتن یاہو کو سیاسی دھچکا\n\n’ٹرمپ کبھی نہیں سوتے‘: مارکو روبیو کا ویڈیوز دیکھ کر بھی انکار\n\nجیرڈ کشنر: نتن یاہو جن کے گھر میں ٹھہرا کرتے تھے\n\nنتن یاہو، عرب ممالک نے ٹرمپ سے ایران پر حملہ ملتوی کرنے کو کہا: نیویارک ٹائمز\n\nSEO Title:\n\nامریکہ میں اسرائیلی جاسوسی کے خطرے کی سطح ’انتہائی سنگین‘ قرار: رپورٹ\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "امریکہ میں اسرائیلی جاسوسی کے خطرے کی سطح ’انتہائی سنگین‘ قرار: رپورٹ"
}