{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreidqzm7aflle45bmjw2lmjgnhcynwfmmvjovwmalrvasajprfx3zza",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mnnzucrmauz2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreiais5bu2t6wvw7lj7cwx2vxjis66awpcgjyhxql4jmta4a5tt36qa"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 74774
},
"path": "/node/186192",
"publishedAt": "2026-06-06T06:00:44.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"اسرائیل",
"بن یامین نتن یاہو",
"ایران",
"لبنان",
"اویس توحید",
"نقطۂ نظر",
"news"
],
"textContent": "**لگ بھگ 30 برس سے زائد عرصہ بیت چکا ہے، جب پہلی مرتبہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین اوسلو میں تاریخی امن معاہدہ ہو رہا تھا، وعدے وعید ہوئے کہ کس طرح دونوں ایک دوسرے کے گویا وجود کو تسلیم کر کے پر امن رہیں گے، دو ریاستی فارمولا بھی وجود میں آیا۔**\n\nامریکی صدر بل کلنٹن درمیان میں اور دائیں اور بائیں فلسطینی رہنما یاسر عرفات اور اسرائیل وزیر اعظم یازک رابن۔\n\nاسی دوران اسرائیل میں نتن یاہو جو ان دنوں اپوزیشن لیڈر تھے انتہا پسند جماعتوں کے ساتھ مل کر امن معاہدے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کر رہے تھے۔ ان کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم پر یہودیوں کی ’قربانیوں‘ کا سودا کرنے کے الزامات عائد کیے گئے۔\n\nکچھ ہی دنوں میں وہی امن پسند یازک رابن ایک یہودی انتہاپسند کے ہاتھوں قتل ہوا اورتھوڑے ہی عرصہ میں نتن یاہو پہلی مرتبہ اسرائیل کے وزیراعظم منتخب ہو گئے۔\n\nتین دہائیاں ہو چلی ہیں لیکن آج بھی نتن یاہو امن دشمن اور مشرق وسطی میں جنگی آگ کے شعلے بھڑکانے والے آرکیٹیکٹ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ غزہ میں نہ تھمنے والی فلسطینیوں کی ’نسل کشی‘ ہو یا پھر ایران کے خلاف گذشتہ سال جون میں ہوئی جنگ ہو یا پھر امریکہ کے ساتھ مل کر ایران کے ساتھ حالیہ جنگ ہو۔ ماسٹر مائنڈ نتن یاہو کو ہی سمجھا جاتا ہے۔\n\nماننا ہے کہ ٹرمپ کو ایران میں حکومت کی تبدیلی کی یقینی کامیابی کی پیشگی ضمانت نتن یاہو ہی نے دی تھی۔ آج 100 دن گزر گئے ہیں لیکن ٹرمپ تنازع سے نکل نہیں پا رہے ہیں یا پھر یوں سمجھ لیجیے نتن یاہو امریکہ کو مشرق وسطی کے جنگی چنگل سے آزاد دیکھنا نہیں چاہتے۔ وہی امریکہ اور ایران کے ہونے والی ممکنہ معاہدے میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھے جا رہے ہیں۔\n\nاپریل میں جب امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کا آغاز ہوا، امن کی امید جاگی تو نتن یاہو نے لبنان میں جنگ کا آغاز کر دیا۔ ادھر امریکہ اور ایران کے درمیان امن کی کوششیں ادھر نتن یاہو کے خطرناک جنگی عزائم۔\n\nامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 29 دسمبر، 2025 کو فلوریڈا کے پام بیچ میں اپنے مار-ا-لاگو کلب میں پریس کانفرنس کے دوران اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو سے مصافحہ کر رہے ہیں (اے ایف پی)\n\n\n\n\nجب محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ اور ایران امن معاہدے کے قریب آرہے ہیں تو اسرائیل کی لبنان میں جنگ تیزی پکڑ لیتی ہے۔ گویا جیسے امن کی کوششیں اور جنگی عزائم متوازی خطوط پر ہوں۔\n\nان ہی چند ماہ میں اسرائیلی فوجوں نے جنوبی لبنان کے بڑے حصہ پر قبضہ کر لیا ہے۔ 15 لاکھ باشندے یعنی لبنان کی ایک چوتھائی آبادی گھروں کو چھوڑنے ہو مجبور ہو چکی ہے۔\n\nکہنے کو تو لبنان میں غزہ کی طرح جنگ بندی ہے، لیکن شاید ہی کوئی ایسا روز گزرا ہو جب اسرائیل فوجوں کے ہاتھوں اموات رکی ہوں۔\n\nکچھ ماہ قبل ٹرمپ دنیا کو غزہ کی تعمیر نو کے خواب دکھا رہے تھے اور اب غزہ میں اسرائیلی فوج کا 70 فیصد حصے پر قبضہ ہے۔ گذشتہ ڈھائی برسوں میں 73 ہزار فلسطینیوں کا خون۔ لاکھوں فلسطینی تباہ شدہ غزہ کے کھنڈرات میں رہنے ہپر مجبور۔\n\nحملے جاری رکھنے کا بہانہ اب بھی وہی یعنی حماس کو غیر مسلح کرنے کا۔ غزہ میں بھی ریفری امریکہ اور لبنان میں بھی ریفری کی ذمہ داری امریکہ کی۔ سب کو حیرت ہوتی ہے کہ نتن یاہو کے پاس ایسی کونسی گیدڑ سنگی ہے جو امریکہ ان کا ساتھ نہیں چھوڑتا۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کا اسرائیل کے ساتھ بندھن بہت گہرا ہے-\n\nجب اسرائیل وجود میں آیا تو اس وقت کے امریکی صدر ٹرومین کو تسلیم کرنے میں صرف 11 منٹ لگے تھے۔ اسرائیل کو امریکہ کی جانب سے اب تک تقریباً 260 ارب ڈالر کی امداد مل چکی ہے۔\n\nہر سال تین اعشاریہ آٹھ ارب ڈالر عسکری امداد کی مد میں ملتے ہیں۔ اقوام متحدہ میں ویٹو کی چھتری فراہم کی ہوئی ہے اس کے علاوہ سیاسی، سفارتی اور عسکری امداد کی ایک طویل فہرست ہے۔\n\nاسرائیلی لابی اے پیک کی جڑیں امریکہ کے سیاسی نظام میں کافی مضبوط ہیں۔ نتن یاہو خود بھی امریکی معاشرے، سیاسی اور عسکری ڈھانچے سے واقف ہیں۔\n\nانہوں نے بطور طالب علم اور سفارت کار امریکہ میں لگ بھگ 20 برس گزارے ہیں۔ ایم آئی ٹی اور ہارورڈ جیسے اعلیٰ تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کی ہے۔ نظام میں ذاتی اثر رسوخ بھی رکھتے ہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nبل کلنٹن ہوں یا اوباما یا بائیڈن ہوں یا ٹرمپ ان سب امریکی صدور کے ساتھ نتن یاہو کا تعلق رہا ہے۔ چالاک سیاسی ذہن کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کا استعمال بخوبی کرتے ہیں۔\n\nمانا جاتا ہےکہ نتن یاہو کہ تین بڑے عزائم ہیں۔ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے منصوبہ کو ناکام بنانا۔ ’گریٹر اسرائیل‘ کے عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانا۔ وہ مشرق وسطی کا چہرہ بدلنے کی خواہش رکھتے ہیں۔\n\nغرب اردن کے فلسطینی علاقوں کو نئی نئی یہودی آبادیاں قائم کر کے نگلنا چاہتے ہیں اور نقشے سے فلسطین غائب کرنا چاہتے ہیں۔ نتن یاہو مشرق وسطی میں اسرائیل کے لیے سپر پاور حیثیت کے خواہش مند ہیں۔\n\nامریکہ کی چھتری تلے ایران اور اس کے اتحادی گروہوں یعنی حزب اللہ، حوثی اور حماس کو عسکری کاروائیوں سے کمزور کرنا چاہتے ہیں اور مسلم ممالک کو امریکی اثر رسوخ کے زریعہ ابراہم معاہدہ کے بندھن کے ساتھ تعلقات استوار کرنا چاہتے ہیں۔\n\nتاہم حالیہ ایران جنگ میں نتن یاہو کو اپنے عزائم کی تکمیل کے لیے کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ نہ ایران میں حکومت کی تبدیلی حاصل کر سکے اور نہ ہی خلیجی ممالک اور ایران کے مابین جنگ ہو سکی۔\n\nعرب ممالک کی قیادت بالخصوص سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کے ویژن کے عین مطابق ایران کے خلاف تحمل کا برتاؤ رکھا گیا اور جوابی کاروائیوں سے گریز کیا گیا تاکہ خطے کو انتشار اور اسرائیلی سازش سے بچایا جا سکے۔\n\nنتن یاہو اب 76 برس کے ہو گئے ہیں۔ اکتوبر میں الیکشن کا سامنا ہے۔ کوئی کامیاب کہانی عوام کو دینے کے لیے نہیں ہے۔ نہ ہی ایران اور نہ ہی لبنان۔ سیاسی ساکھ داو پر اور فراڈ اور بدعنوانی کے مقدمہ کا سامنا ہے۔ اگر الیکشن میں شکست ہوئی تو سزا، قید کا سامنا ہے۔\n\nٹرمپ بھی بظاہر ناراض ہیں۔ وائٹ ہاؤس سے لیک ہوئی خبر پوری دنیا میں پھیل گئی کہ کس طرح ٹرمپ اپنے ’عظیم دوست‘ نتن یاہو پر فون کال کے دوران برس پڑے۔ ’تم لبنان میں کیا کر رہے ہو۔ کیسے ایران کے ساتھ ڈیل کو خطرے میں ڈال رہے ہو۔ اگر میں نہ ہوتا تو تم جیل میں ہوتے۔‘\n\nیہاں تک کہ ٹرمپ نے نتن یاہو کو، بقول امریکی میڈیا، ’پاگل‘ تک کہہ دیا۔ ٹرمپ کے کچھ الفاظ ناقابل اشاعت ہیں۔ لیکن ٹرمپ کا نتن یاہو سے الجھنا، بظاہر بوکھلاہٹ اور پریشانی کی علامت ہے۔\n\nٹرمپ ایران کے ساتھ اوباما حکومت کے نیوکلیئر معاہدے سے بہتر ڈیل کے متلاشی ہیں۔ امریکہ میں ٹرمپ کے خلاف دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔\n\nحال میں ہی ایوان نمائندگان نے ایران جنگ خاتمے کے لیے ٹرمپ کے خلاف ایک قرارداد منظور کی ہے جو علامتی اہمیت کی حامل ہے لیکن ٹرمپ کے لیے پریشانی کا باعث ہے کیونکہ اس قرارداد کی حمایت میں ان کی پارٹی کے چند ساتھیوں نے بھی ووٹ دیا ہے۔ ٹرمپ نتن یاہو سے مستقل ناراض نہیں رہ سکتے لیکن موجودہ حالات میں تعلق بھی مہنگا ثابت ہو رہا ہے۔\n\nنتن یاہو کے ساتھ رشتہ اس وقت ٹرمپ کے گلے میں پھنسی اس ہڈی کی مانند ہے۔ جسے نہ اگلا جائے نہ نگلا جائے۔ ٹرمپ خطے میں امریکی اثر رسوخ مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں اور ایران جنگ سے باعزت فرار کا راستہ تلاش کر رہے ہیں تاہم نتن یاہو نے مشرق وسطی میں ’گریٹر اسرائیل‘ کے عزائم کی تکمیل کے لیے جنگ کا راستہ چنا ہے۔\n\nوہ صہیونی تحریک میں اس کے بانی تھیوڈر ہرزل اور اسرائیل کے پہلے وزیراعظم ڈیوڈ بین گوریان کی طرح ایک مقام کے حصول کے خواہش مند ہیں۔ وہ اسرائیلی عوام کی نظروں میں شاید ’ہیرو‘ اور مسلم دنیا بالخصوص فلسطینیوں کے لیے مشرق وسطی کے ایک ’ولن‘ کی شناخت رکھتے ہیں۔\n\nفی الوقت امریکہ ایران معاہدے کے لیے ٹرمپ اور نتن یاہو کے تعلقات کا خاتمہ ضروری ہے۔ جس طرح مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے امریکہ اسرائیل رشتہ کے لیے اگر طلاق ممکن نہیں تو علیحدگی لازمی ہے۔\n\n* * *\n\n_نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے اور ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔_\n\n* * *\n\n_اویس توحید معروف صحافی اور لکھاری ہیں جو جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ پر مہارت رکھتے ہیں۔_\n\n_اویس نے گزشتہ تین دہائیوں پر محیط ایشیا میں جنگ اور تنازعات کی رپورٹنگ کی ہے اور افغانستان میں طالبان کے عروج و زوال کے عینی شاہد ہیں۔ انہوں نے مقبوضہ علاقوں میں فلسطینی تنازع کی رپورٹنگ بھی کی ہے۔ بی بی سی ورلڈ سروس، وی او اے، اے ایف پی اور سی ایس مانیٹر کے لیے کام کیا ہے- اور پاکستان کے کئی ٹی وی چینلز کےسربراہ بھی رہے ہیں۔_\n\nاسرائیل\n\nبن یامین نتن یاہو\n\nایران\n\nلبنان\n\nتین دہائیاں ہو چلی ہیں لیکن آج بھی نتن یاہو امن دشمن اور مشرق وسطیٰ میں جنگ کی آگ کے شعلے بھڑکانے والے آرکیٹیکٹ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔\n\nاویس توحید\n\nہفتہ, جون 6, 2026 - 11:00\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">21مئی 2026 کو اٹلی کے شہر میلان میں ایک مظاہرے کے دوران ایک خاتون ایک تختی اٹھائے ہوئے ہیں، جس پر اسرائیل کے وزیراعظم بن یامین نتن یاہو کی تصویر بنی ہوئی ہے اور اس پر لفظ ’نسل کش‘ لکھا ہوا ہے (اے ایف پی)</p>\n\nنقطۂ نظر\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nٹرمپ کی سرزنش اور لیک فون کال سے نتن یاہو کو سیاسی دھچکا\n\nڈونلڈ ٹرمپ کا ٹیلی فونک گفتگو میں نیتن یاہو کو ’پاگل‘ کہنے کا اعتراف\n\nاسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کا کینسر کے علاج کا انکشاف\n\nجیرڈ کشنر: نتن یاہو جن کے گھر میں ٹھہرا کرتے تھے\n\nSEO Title:\n\nنتن یاہو مشرق وسطیٰ کا ’ولن‘\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "نتن یاہو مشرق وسطیٰ کا ’ولن‘"
}