{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreicc2aqdzplnxphsb7th2evyhkzwtjisboqic4naw2jlhory7dotsi",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mnnzu6vce5g2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreih6rzl3hhrwyxix5wvm6kn37dzm3wlgqh6emoeigbnfguinwwtjbe"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 138738
},
"path": "/node/186199",
"publishedAt": "2026-06-06T06:39:37.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"سوویت یونین",
"افغانستان سے انخلا",
"کابل",
"افغان طالبان",
"ارپن رائے",
"ایشیا",
"news"
],
"textContent": "**روس ایک نئے معاہدے کے تحت افغانستان میں موجود سوویت دور کے ہتھیاروں کی مرمت شروع کرے گا جس سے طالبان کی فوجی طاقت میں اضافہ ہو گا۔**\n\nافغانستان کے لیے روس کے صدارتی نمائندے ضمیر کابلوف نے کہا ہے کہ اس معاہدے پر گذشتہ ہفتے ماسکو میں انٹرنیشنل سکیورٹی فورم میں دستخط کیے گئے۔\n\nیہ معاہدہ صدر ولادی میر پوتن کی طالبان کے ساتھ سفارتی اور فوجی تعلقات مضبوط کرنے کی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو 2021 میں نیٹو کی حمایت یافتہ حکومت سے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے مغرب سے الگ تھلگ ہیں۔\n\nطالبان کو سینکڑوں پرانے ٹینک، ہیلی کاپٹر اور فوجی گاڑیاں وراثت میں ملیں جو ایک دہائی کے قبضے اور لڑائی کے بعد 1989 میں سوویت افواج ملک سے نکلتے وقت پیچھے چھوڑ گئی تھیں۔ اس لڑائی میں کم از کم 13700 سوویت فوجی جان سے گئے اور 40000 سے 50000 زخمی ہوئے تھے۔\n\nروسی ریاست سوویت یونین کی قانونی جانشین ہے۔\n\n2021 میں جب امریکہ کی زیر قیادت نیٹو افواج نے عجلت میں انخلا کیا تو طالبان کے قبضے میں خاصی تعداد میں جدید مغربی فوجی ساز و سامان بھی آ گیا تھا۔\n\nروسی خبر رساں ایجنسی ریا نووستی نے ضمیر کابلوف کے حوالے سے بتایا کہ ’افغان شراکت دار بنیادی طور پر روس کے تیار کردہ مختلف فوجی ساز و سامان کی مرمت اور بحالی میں دلچسپی رکھتے ہیں۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا کہ یہ نئے معاہدے پر عمل درآمد کی جانب ’پہلا عملی قدم‘ ہے۔\n\n13 جنوری 2010 کو دارالحکومت کابل کے قریب ملٹری ٹریننگ کیمپ کے کباڑ خانے میں موجود سوویت دور کی بکتر بند گاڑیاں (اے ایف پی)\n\n\n\n\nوزارت دفاع کے مطابق افغانستان میں سوویت دور کے ہتھیاروں میں ٹی-55 اور ٹی-62 ٹینک، پیادہ فوج کی جنگی گاڑیاں بی ایم پی-ون اور بی ایم پی-ٹو اور ایم آئی-17 اور ایم آئی-24 ہیلی کاپٹر شامل ہیں۔\n\nنیٹو کی حمایت یافتہ حکومت میں فوجی ساز و سامان کے انتظامات دیکھنے والے ایک سابق افغان سکیورٹی اہلکار احمد شجاع جمال نے کہا کہ وزیر دفاع ملا محمد یعقوب کا ماسکو کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرنا ستم ظریفی ہے۔ ملا یعقوب طالبان کے بانی ملا محمد عمر کے بیٹے ہیں۔\n\nانہوں نے کہا: ’نام نہاد وزیر دفاع کے والد سمیت طالبان کے کئی رہنما سوویت فوج یا جنہیں افغانستان میں اکثر روسی کہا جاتا ہے، کے خلاف لڑتے ہوئے جوان ہوئے ہیں۔ اب ان کے بیٹے اسی دشمن کے ساتھ معاہدے کر رہے ہیں جسے ان کے اجداد نے جہاد میں مارنے کی قسم کھائی تھی۔‘\n\nاحمد شجاع جمال نے انڈپینڈنٹ کو بتایا: ’یہ ایک ایسی ستم ظریفی ہے کہ اگر آپ طالبان کو جانتے ہوں تو آپ کو اس پر کوئی حیرت نہیں ہو گی۔ طالبان ایک تضاد کا نام ہیں کیوں کہ وہ ایک طرف تو سختی سے نظریاتی ہیں اور دوسری طرف بے شرمی کے ساتھ مفادات کا لین دین بھی کرتے ہیں۔‘\n\nانہوں نے کہا کہ طالبان حکومت کے پاس ممکنہ طور پر چند ایم آئی-17 ہیلی کاپٹر موجود ہیں جو برسوں سے دیکھ بھال نہ ہونے کے باوجود اب بھی کارآمد ہو سکتے ہیں۔\n\nسوویت دور کے دو انجن والے دیوہیکل فوجی ٹرانسپورٹ طیاروں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ’استعمال نہ ہونے والے کچھ اے این-26 طیارے بھی موجود ہیں، لیکن ان کی تعداد اتنی نہیں کہ وہ کوئی بڑی تبدیلی لا سکیں۔‘\n\nان کا مزید کہنا تھا: ’جو چند طیارے ہمارے پاس تھے، انہیں ہم نے ناکارہ کر کے ان کے پرزے نکال لیے تھے کیوں کہ ہم نظام کو آپس میں مربوط کرنے کے لیے امریکہ کے تیار کردہ فضائی اثاثوں کی جانب منتقل ہو رہے تھے۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nامریکی افواج نے ہیلی کاپٹروں، ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں سمیت اس ساز و سامان کو تباہ یا ناکارہ بنانے کی کوشش کی تھی جو وہ پیچھے چھوڑنے پر مجبور ہو گئی تھیں، اور یہ معلوم نہیں تھا کہ آیا طالبان اس میں سے کسی کو استعمال کرنے کے قابل ہوئے یا نہیں۔\n\nنیٹو کی حمایت یافتہ حکومت میں نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی کے سربراہ احمد ضیا سراج نے کہا کہ مغربی ساز و سامان طالبان کے انحصار کے لیے مناسب نہیں تھا۔\n\nانہوں نے انڈپینڈنٹ کو بتایا: ’یہ ساز و سامان بہت مہنگا، دیکھ بھال میں مشکل اور فعال رکھنا ناممکن ہے، جب تک کہ آپ کو نیٹو کی حمایت حاصل نہ ہو۔\n\n’لہٰذا، تقریباً 18 ماہ قبل طالبان کے رہنما نے سوویت دور میں پیچھے رہ جانے والے روسی ساز و سامان اور سابق حکومت کی جانب سے خریدے گئے روسی ہیلی کاپٹروں جیسے کچھ سامان کی مرمت اور بحالی کا حکم دیا تھا۔‘\n\nان کا دعویٰ ہے کہ مقامی سطح پر پرانے ساز و سامان کی مرمت کی کوششوں میں ناکامی کے بعد نئی حکومت نے مدد کے لیے روس کا رخ کیا۔\n\nاحمد ضیا سراج نے دعویٰ کیا: ’طالبان نے پرانے ٹینکوں اور دیگر قسم کے بھاری ساز و سامان کی مرمت کے لیے سابق حکومتوں کے دوران وزارت دفاع میں کام کرنے والے تقریباً تمام تکنیکی ماہرین کو قندھار میں اکٹھا کیا۔ لیکن روس سے نئے پرزے خریدے بغیر یہ ایک مشکل کام معلوم ہوتا تھا۔ طالبان نے اس نوعیت کا زیادہ تر ساز و سامان قندھار منتقل کر دیا ہے۔‘\n\nاحمد شجاع جمال نے کہا کہ اگر پرانے روسی ہتھیاروں کی کامیابی سے مرمت ہو گئی تو طالبان کا اسلحہ خانہ ’ایم 16 اور ایم 4 جیسے امریکہ کے تیار کردہ چھوٹے ہتھیاروں اور سوویت ورثے کے بھاری ساز و سامان کے کچھ حصے کا ایک عجیب امتزاج‘ بن جائے گا۔\n\nانہوں نے مزید کہا کہ ’طالبان کو ٹی 52 اور بی ایم پی گاڑیاں چلانے کے لیے کافی افغان مل سکتے ہیں۔‘\n\nسوویت یونین\n\nافغانستان سے انخلا\n\nکابل\n\nافغان طالبان\n\nافغان وزارت دفاع کے مطابق سوویت دور کے ٹینک، جنگی گاڑیاں اور ہیلی کاپٹر افغانستان میں موجود ہیں۔\n\nارپن رائے\n\nہفتہ, جون 6, 2026 - 18:30\n\nMain image:\n\n> <p>19 اگست 2021 کو افغانستان کے صوبہ پنجشیر میں طالبان کے خلاف افغان سکیورٹی فورسز کی حمایت کرنے والے افغان مسلح افراد اپنے ہتھیاروں اور ہموی گاڑیوں کے ساتھ کھڑے ہیں (احمد ساحل ارمان / اے ایف پی)</p>\n\nایشیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nسوویت یونین کی افغانستان میں مہم جوئی کی کہانی، پانچ کتابوں کی زبانی\n\n’سوویت جنگ کے بعد پاکستان کو کابلی پلاؤ کا تحفہ ملا‘\n\nروس کا افغانستان سے فوجی معاہدہ، کیا طالبان اب یوکرین میں لڑیں گے؟\n\nافغان طالبان کی حکومت سے ’مکمل شراکت داری‘ قائم کر رہے ہیں: روس\n\nSEO Title:\n\nسوویت دور کے اسلحے کی مرمت کے لیے طالبان۔روس معاہدہ\n\ncopyright:\n\nIndependentEnglish\n\norigin url:\n\nhttps://www.independent.co.uk/asia/south-asia/russia-taliban-afghanistan-soviet-military-equipment-repair-b2989925.html\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "سوویت دور کے اسلحے کی مرمت کے لیے طالبان۔روس معاہدہ"
}