{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreiaxwy3lb23saxtl7fea5q7fjlmi346uetaegifqajkm6vjuebx6ji",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mnnzty2tzgb2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreietaetopwtyp7ecqhwn3txmssby5xkdmpm3wdine7tw57loeswnuq"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 111380
},
"path": "/node/186197",
"publishedAt": "2026-06-06T07:00:27.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"افغان تارکین وطن",
"افغانستان",
"کابل",
"کاروبار",
"افغان طالبان",
"اظہار اللہ",
"خواتین",
"video"
],
"textContent": "**عالمی بینک نے کہا ہے کہ پابندیوں کے باوجود افغانستان میں خواتین کے زیرانتظام کاروبار مردوں کے کاروبار کے مقابلے میں بہتر کارکردگی دکھا رہے ہیں۔**\n\nعالمی بینک نے افغانستان کے حوالے سے مالی سال 2025 اور 2026 کی ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں افغانستان میں کاروباری شعبے سے متعلق کے سروے شامل کیے گئے ہیں۔\n\nرپورٹ کے مطابق مختلف اکائیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ کاروبار جو خواتین چلاتی ہیں، انہوں نے اشیا کی فروخت، روزگار کے مواقع بڑھانے اور سرمایہ کاری میں مردوں کے مقابلے میں بہتر کارکردگی دکھائی ہے۔\n\nسروے میں وہ کاروبار شامل کیے گئے ہیں، جن میں ملازمین کی تعداد پانچ یا اس سے زائد ہے۔ سروے میں مینوفیکچرنگ اور تعمیرات کی بنیادی صنعتیں شامل کی گئی ہیں جو افغانستان کی نجی صنعتوں کا بالترتیب 27 اور 19 فیصد ہیں۔\n\nافغان خاتون دو جون 2014 کو ہرات میں خواتین کے کاروباری مرکز میں واقع دکان میں ملبوسات دیکھ رہی ہیں (اے ایف پی)\n\n\n\n\nعالمی بینک کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2025 اور 2026 میں مردوں کے زیر انتظام کاروبار کی سیل 14 فیصد کے مقابلے میں خواتین کے زیر انتظام کاروبار کی سیل میں 21 فیصد اضافہ دیکھنے کو ملا۔\n\nرپورٹ میں اس بات کا بھی احاطہ کیا گیا کہ خواتین کے زیر انتظام کاروبار میں روزگار کے مواقع 14 فیصد جب کہ مردوں کے کاروبار میں روزگار کے مواقع میں 11 فیصد اضافہ ہوا۔\n\nرپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ معاشرتی پابندیوں، مشکلات اور مارکیٹ تک کم رسائی کے باوجود خواتین کے کاروبار میں فکسڈ اثاثوں یعنی کوئی مشینری خریدنے، عمارت بنانے اور دیگر سامان خریدنے میں مردوں کی قیادت میں جاری کاروبار کے مقابلے میں 58 فیصد اضافہ ہوا۔\n\nتاہم رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2021 کے بعد جب افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہوئی تو نجی شعبے کو نقصان پہنچا اور بعض صنعتوں کی سرگرمیاں بھی روک دی گئیں۔\n\nرپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ مجموعی صنعتوں سمیت خواتین پر پابندیوں کی وجہ سے خواتین کے کاروبار بھی متاثر ہوئے ہیں لیکن جو موجود ہیں تو مردوں کے مقابلے میں وہ کاروبار بہتر کارکردگی دکھا رہے ہیں۔\n\n**کتنی صنعتیں خواتین چلاتی ہیں؟**\n\nاسی سروے کے مطابق افغانستان میں نجی صنعتوں کی بات کی جائے تو اس میں 10.2 فیصد کاروبار خواتین مالکان چلاتی ہیں جس میں سر فہرست مینوفیکچرنگ کا شعبہ ہے اور اس میں سب سے زیادہ 55 فیصد ملبوسات کا شعبہ شامل ہے۔\n\nاسی طرح خوراک کے شعبے کی صنعتوں میں خواتین مالکان 20 فیصد ہیں اور 13 فیصد ٹیکسٹائل کی صنعت سے وابستہ ہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nتاہم رپورٹ کے مطابق خواتین کے زیر انتظام کاروبار کی برآمدگی کی بات کی جائے تو اس میں صرف تقریباً چھ فیصد صنعتیں اپنی مصنوعات برآمد کرتی ہیں۔\n\nآمنہ خان پاکستان میں ہاشو فاؤنڈیشن کے افغان خواتین کے کاروبار کے حوالے سے پروگرام کے ساتھ بطور کمیونیکیشن آفیسر وابستہ رہی ہیں۔\n\nانہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ہم نے جتنی افغان خواتین کے ساتھ کام کیا ہے تو زیادہ تر خواتین کاروبار کے چلنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ خواتین سینٹرک چیزیں بناتی ہیں۔‘\n\nآمنہ نے مزید بتایا: ’خواتین کپڑے، زیورات اور دیگر خواتین کی چیزیں بناتی ہیں اور انہیں پتہ ہوتا ہے کہ خواتین ہی اسے خریدیں گی اور آسانی سے خریدیں گے۔‘\n\nدوسری وجہ آمنہ خان نے یہ بتائی کہ زیادہ تر افغان خواتین گھر میں مختلف اشیا تیار کرتی ہیں۔ انہیں باہر جانے کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔\n\nپاکستان میں افغان خواتین پناہ گزین اپنی مصنوعات بیچنے کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا لیتی تھیں۔\n\nصائمہ منیر خواتین کے حقوق پر کام کرنے والی تنظیم ’عورت فاؤنڈیشن‘ کی پروگرام مینیجر ہیں۔ ان کے مطابق اگرچہ صنعتوں میں خواتین مالکان کا حصہ رپورٹ کے مطابق صرف 10 فیصد ہے لیکن جہاں خواتین ہیں، وہاں وہ بہتر کاردگی دکھا رہی ہیں۔\n\nصائمہ منیر کے مطابق: ’وہاں تعلیم پر پابندی ہے لیکن جہاں پر افغان خواتین کو موقع ملتا تو وہاں وہ کاردگی دکھا رہی ہے، جو روشنی کی ایک کرن ہے اور انہیں مزید مواقع ملنے کی ضرورت ہیں۔‘\n\nافغان تارکین وطن\n\nافغانستان\n\nکابل\n\nکاروبار\n\nافغان طالبان\n\nعالمی بینک کے جائزے کے مطابق وہ کاروبار جو خواتین چلاتی ہیں ان میں مردوں کے مقابلے میں سیل، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع بڑھے۔\n\nاظہار اللہ\n\nہفتہ, جون 6, 2026 - 12:00\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">دو جون 2014 کو صوبہ ہرات کے ایک شہر میں خواتین کے کاروباری مرکز میں ایک افغان خاتون خریداری میں مصروف ہے (اے ایف پی)</p>\n\nخواتین\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nافغان خواتین فٹ بال ٹیم عالمی مقابلوں میں حصہ لے سکتی ہے: فیفا\n\nجنسی استحصال: افغان خواتین فٹ بالرز سابق چیف کی گرفتاری چاہتی ہیں\n\nطالبان سے افغان خواتین پر کام کرنے کی پابندی ختم کرنے کا مطالبہ\n\nسلامتی کونسل میں افغان خواتین پر تازہ پابندیوں پر غور کا امکان\n\nSEO Title:\n\nافغان کاروباری خواتین کی کارکردگی مردوں سے بہتر: عالمی بینک\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "افغان کاروباری خواتین کی کارکردگی مردوں سے بہتر: عالمی بینک"
}