{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreig67akhr4xhpjuyiytteb2eb7ydtflrfctd7cp4ucmz4vd66a67fq",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mnnztnx4c6c2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreigdwnm6xdl3bybaxvohc7ufzaf2ev5yepedcliuxfpyuoerajhndu"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 67595
  },
  "path": "/node/186204",
  "publishedAt": "2026-06-06T14:46:08.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "پاکستان",
    "پاکستان کے زیر انتظام کشمیر",
    "جموں و کشمیر",
    "مظفر آباد",
    "احتجاج",
    "قرۃ العین شیرازی",
    "video"
  ],
  "textContent": "**پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیراعظم فیصل راٹھور نے آج اسلام آباد میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے دوبارہ رابطے کے سوال پر کہا ہے کہ ’اگر معاملہ حل کرنا مطلوب ہے تو بات ہو سکتی ہے۔‘**\n\nوزیر اعظم نے کشمیر کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر انتخابات میں تاخیر سے متعلق کہا کہ ’تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ کیونکہ حالات جس طرف جا رہے ہیں، اس میں اندیشہ کیا جا سکتا ہے۔‘\n\nہفتے کو انڈپینڈنٹ اردو کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم نے حکومت کے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے رابطے سے متعلق بتایا کہ انہوں نے تین روز قبل کمیٹی کے سینئر نمائندگان سے رابطہ کیا اور پیغام دیا کہ ’ان کی پسند کی جگہ پر میں آنے کو تیار ہوں۔‘\n\nفیصل راٹھور نے کہا کہ اس پیغام میں انہوں نے مطالبات کو حل کرنے کی حمایت بھی کی، لیکن ’صرف میز پر آ کر بات کریں۔‘\n\nپاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے نو جون کو احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔ اس احتجاج کے پیش نظر حکومت نے 12 ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا ہے، جبکہ علاقے میں کم از کم 72 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔\n\nسوال ’اس وقت جو صورت حال ہے، اس کو مدنظر رکھتے ہوئے انتخابات میں تاخیر ہو سکتی ہے؟‘ کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تاخیر ’نہیں ہونی چاہیے۔ اللہ کرے حالات بہتر ہوں، کیونکہ حالات جس طرف جا رہے ہیں، اس میں یہ اندیشہ کیا جا سکتا ہے۔‘\n\nسوال ’جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات میں 38 میں سے 35 مطالبات مان لیے گئے، تاہم وہ تین کون سے مطالبات تھے جن پر اختلاف تھا؟‘ پر وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بیشتر مطالبات حل ہو چکے ہیں، جو آزاد کشمیر کی حکومت سے متعلق تھے۔\n\nراٹھور کے مطابق ’ان میں سے ایک ایشو رہ گیا تھا جو آئین سے متعلق تھا اور اس کے لیے ایک کمیٹی بنی تھی جو بتدریج ان کے ساتھ اجلاس کر رہی تھی۔\n\n’لیکن جب ان کے ساتھ آخری مذاکرات کی میز پر بیٹھے تو اس تاخیر کو دور کرنے یا اس کا حل نکالنے کے لیے یہ کہا گیا کہ آپ مزید پانچ سے سات روز کا وقت دے دیں تاکہ اس مسئلے کو بھی ایڈریس کیا جا سکے۔ لیکن انہوں نے مزید ایک دن کا وقت بھی دینے سے انکار کر دیا۔‘\n\nفیصل راٹھور کے مطابق ’یہ بھی کہا گیا کہ الیکشن شیڈول کا اعلان نہیں کیا جائے گا اور مہاجرین کی نشستوں کے لیے اتفاقِ رائے ضروری ہے۔ لیکن ان کی طرف سے انکار آیا، جس کی بنیاد پر یہ تحریک آج دوبارہ شروع ہوئی۔‘\n\nسوال ’جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم کیوں قرار دینا پڑا؟ کیا خدشات تھے یا کوئی انٹیلیجنس رپورٹس تھیں؟‘ پر فیصل راٹھور نے کہا کہ ماضی سے لے کر آج تک ان کے ساتھ مذاکرات کبھی کامیاب نہیں ہوئے۔\n\n’جب بھی مذاکرات ہوئے، اس کے بعد ایک ایسا واقعہ ہوا جس میں ریاست نے سرنڈر کیا۔‘\n\nوزیر اعظم کے مطابق ’میرے خیال میں اب بھی یہی ہونا تھا اور ان کی طرف سے یہ واضح بیان آ گیا کہ اگر سارے مطالبات مان بھی لیے جائیں تو پھر بھی لانگ مارچ نہیں رکے گا۔ میرے خیال میں اس کے بعد پھر کیا رہ جاتا ہے۔‘\n\nفیصل راٹھور نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی عوامی حمایت سے متعلق کہا کہ ’یہ ایک مقبول بیانیہ ہے، ان کے ساتھ عوامی سپورٹ موجود ہے۔ چونکہ انہوں نے ایک دو بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں، اس بنیاد پر لوگ ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یقیناً کشمیر کے اندر بجلی اور پانی کا ایک مسئلہ تھا، جس میں لوگوں کی کچھ محرومیاں تھیں، جو میرے خیال میں دور ہو گئیں۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا کہ ’لیکن اس کے بعد اس سپورٹ کو غلط ٹریک پر لے جایا گیا اور بار بار حقوق کے نام پر ریاست کے اندر انتشار پیدا کیا گیا۔ تین دفعہ آپ ریاست کو سرنڈر کروا چکے ہیں، خدارا اب معاملات پر توجہ دیجیے، نہ کہ ریاست کو سرنڈر کروائیے۔\n\n’اس کے بعد آپ خود سمجھتے ہیں کہ بین الاقوامی، قومی اور انڈین میڈیا اس کو مختلف حوالوں سے پیش کرتا ہے۔ یہ سازش ہے یا نہیں، میں کچھ نہیں کہتا، لیکن اس کا نقصان بے انتہا ہوتا ہے۔‘\n\nمہاجرین کی نشستوں پر لچک سے متعلق سوال کے جواب میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ مہاجرین کی نشستوں کے بارے میں پاکستان پیپلز پارٹی کا اپنا بیانیہ ہے کہ ان نشستوں کو متناسب نمائندگی دی جائے اور اسمبلی کے براہِ راست انتخابات کے بجائے انہیں بالواسطہ طریقے سے لایا جائے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\n’شاید اس نکتے پر تو ہم خود بھی انہیں یہی کہہ رہے تھے۔ لیکن مسلم لیگ ن شاید اس کی بینیفشری ہے اور ان نشستوں کو برقرار رکھنے کی بھی بینیفشری ہے۔‘\n\nانہوں نے کہا کہ ’ہم ان چھ نشستوں کو ختم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن پھر ان کا مطالبہ یہ ہے کہ 12 کی 12 نشستوں کو ختم کیا جائے اور انہیں کونسل میں منتقل کیا جائے۔‘\n\nفیصل راٹھور کے مطابق ’مہاجرین کے بغیر ریاست آزاد جموں و کشمیر ممکن نہیں۔ اس پر ہمارا اتفاق ہے۔ ان کی نمائندگی کا کوئی طریقۂ کار تلاش کیا جا سکتا ہے۔‘\n\nکشمیر میں نقل و حرکت یا لوگوں کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ایسی کوئی پابندی نہیں لگائی گئی۔\n\n’لیکن حالات اس قدر خراب ہونے جا رہے ہیں کہ ہم چاہتے ہیں کہ صورت حال کا مکمل جائزہ لیا جائے تاکہ کوئی ایسا واقعہ نہ ہو جس میں کسی کو نقصان پہنچے۔ خدا نخواستہ اگر ہزاروں لوگ وہاں پھنس جائیں تو میرے خیال میں ذمہ داری ریاست پر آئے گی، اس لیے کوشش کی جا رہی ہے کہ حالات کو قابو میں رکھا جائے۔‘\n\nپاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے گذشتہ شب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نامی جماعت کو کالعدم قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔\n\nنوٹیفکیشن کے متن کے مطابق: ’تنظیم کے خلاف امن و سلامتی کو نقصان پہنچانے کے معقول شواہد ہیں اور تنظیم ریاست میں انتشار پیدا کرنے میں ملوث پائی گئی۔‘\n\nجوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے کے ساتھ ساتھ 37 دیگر مطالبات کے حق میں 9 جون کو کشمیر بھر میں پہیہ جام اور شٹرڈاؤن ہڑتال اور لانگ مارچ کی کال دی تھی۔\n\nجس کے بعد گذشتہ رات سے اب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں پولیس نے ’کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے وابستہ تقریباً 72 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔\n\nترجمان انسپکٹر جنرل پولیس کشمیر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ابتدائی کارروائی کے دوران بعض گرفتار افراد سے اسلحہ، مواصلاتی آلات، مشتبہ دستاویزات، امنِ عامہ کو متاثر کرنے کے منصوبوں سے متعلق مواد، احتجاجی و پرتشدد سرگرمیوں کے منظم طریقہ کار/پلانز، اور غیر ملکی افراد سے مشکوک روابط کے اشارے بھی ملے ہیں، جن کی تفتیش قانون کے مطابق جاری ہے۔‘\n\nجمعے کی شب راولاکوٹ میں تصادم کے نتیجے میں پولیس کے مطابق ایک شخص جان سے گیا اور تین زخمی ہو گئے جبکہ وادی میں گذشتہ رات سے انٹرنیٹ سروسز بھی معطل کر دی گئی ہیں۔\n\nپاکستان\n\nپاکستان کے زیر انتظام کشمیر\n\nجموں و کشمیر\n\nمظفر آباد\n\nاحتجاج\n\nپاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیراعظم فیصل راٹھور نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے دوبارہ رابطے کے سوال پر کہا ہے کہ ’اگر معاملہ حل کرنا مطلوب ہے تو بات ہو سکتی ہے۔‘\n\nقرۃ العین شیرازی\n\nہفتہ, جون 6, 2026 - 19:45\n\nMain image:\n\n> <p>چھ جون،2026 کی اس تصور میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیراعظم فیصل راٹھور انڈپینڈنٹ اردو کو انٹرویو دیتے ہوئے(انڈپینڈنٹ اردو)</p>\n\nپاکستان\n\njw id:\n\nsDdoibg5\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nپاکستان کے زیر انتظام کشمیر حکومت نے عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا\n\nمظفر آباد: جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومت کے درمیان معاہدہ طے\n\nمظفر آباد میں قتل کیے گئے کالج پرنسپل حمزہ برہان کون تھے؟\n\nمظفر آباد میں کشیدگی برقرار، مظاہرین سے مذاکرات کا دوسرا دور\n\nSEO Title:\n\nکشمیر میں ایکشن کمیٹی مسائل حل کرنا چاہتی ہے تو مذاکرات کے لیے تیار ہیں: وزیراعظم فیصل راٹھور\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "کشمیر میں ایکشن کمیٹی مسائل حل کرنا چاہتی ہے تو مذاکرات کے لیے تیار ہیں: وزیراعظم فیصل راٹھور"
}