{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreiasjes6qa2cw6hfpffouw6byrera76mu7yqnxf4qmitv27cg5ioly",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mnnztasbsgw2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreiduronwtxohqgbjh2g2f57z5vtybgbhu25vvrjj7geijs7uhmm6se"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 76789
},
"path": "/node/186205",
"publishedAt": "2026-06-06T17:42:10.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"ایران",
"امریکہ",
"ایران اسرائیل کشیدگی",
"صدر ڈونلڈ ٹرمپ",
"کاملیا انتخابی فرد",
"نقطۂ نظر",
"news"
],
"textContent": "**جب ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ ’آج رات ایک پوری تہذیب مر جائے گی‘ تو لاکھوں ایرانی بدترین خدشات میں مبتلا ہو گئے۔ ایک امریکی ڈیموکریٹ ہونے کے باوجود جس نے انہیں ووٹ دیا تھا، میں خود سے یہ سوال کرنے لگی کہ کیا وہ جنگ مخالف امیدوار، جس کی میں نے حمایت کی تھی، اپنا راستہ بھٹک چکا ہے؟**\n\nسات اپریل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے بارے میں ٹروتھ سوشل پر لکھا: ’آج رات ایک پوری تہذیب مر جائے گی، جو پھر کبھی واپس نہیں آئے گی۔‘ ٹرمپ نے یہ خوفناک پیغام ایسے وقت میں پوسٹ کیا جب 38 دن کی جنگ اور ایران بھر میں شدید بمباری کے بعد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا تھا۔\n\nایران کے اندر لوگ انٹرنیٹ کی جبری بندش اور ملکی تاریخ کی شدید ترین اسرائیلی اور امریکی بمباریوں میں سے ایک کا سامنا کر رہے تھے۔ ایرانیوں نے ٹرمپ کا یہ الٹی میٹم سیٹلائٹ ٹی وی چینلز کے ذریعے سنا۔ اسی روز میں اپنی والدہ سے فون پر بات کرنے میں کامیاب ہوئی۔ لاکھوں دوسرے ایرانیوں کی طرح، جو اس بیان کو ایران پر ممکنہ جوہری حملے کی دھمکی سمجھ رہے تھے، میں نے اپنے خاندان کو تسلی دینے کی کوشش کی۔\n\nنو کروڑ آبادی والا ایک ملک، جو دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک کا وارث اور انسانی تہذیب کے اہم مراکز میں شمار ہوتا ہے، دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت سمجھے جانے والے ملک امریکہ کے صدر کی جانب سے مکمل تباہی کی دھمکی کا سامنا کر رہا تھا۔\n\nسات اپریل کو والدہ کے ساتھ ہونے والی وہ گفتگو میری زندگی کی مشکل ترین گفتگوؤں میں سے ایک تھی۔ وہ مجھے ایک آخری الوداع کی طرح محسوس ہوئی۔ گفتگو کے اختتام پر انہوں نے بار بار مایوس لہجے میں کہا: ’خدا حافظ۔ خدا حافظ۔ اگر تم ہمیں دوبارہ کبھی نہ دیکھ سکو تو ہمیں یاد رکھنا۔ خدا حافظ۔‘\n\nمیری والدہ کے یہ الفاظ کروڑوں ایرانیوں کے خوف کی عکاسی کرتے تھے، جن کی آوازیں عملاً خاموش ہو چکی تھیں جبکہ جنگ کے حامی چند افراد پورے بیانیے پر حاوی تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ میرے خاندان اور ایران نامی اپنے بڑے خاندان کے لیے میرے خوف کی کوئی حد نہیں تھی۔\n\nایران ایک ایسا ملک ہے جس کی تاریخ ہزاروں برس پر محیط ہے، جس کی ثقافت، روایات اور ادبی ورثہ دنیا بھر میں احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ یہ وہ سرزمین ہے جس کے ادیبوں، دانشوروں، سائنس دانوں اور فنکاروں نے صدیوں تک دنیا کو متاثر کیا۔ ایک ایسی تہذیب جس کا تاریخی اور ثقافتی اثر موجودہ سرحدوں سے بہت دور تک پھیلا ہوا تھا، مغرب میں شام، عراق اور مصر سے لے کر مشرق میں افغانستان، وسطی ایشیا، برصغیر اور چین تک۔\n\nاس دن میں مسلسل 2024 کے امریکی صدارتی انتخاب کے بارے میں سوچتی رہی۔ میں ایک امریکی شہری اور ڈیموکریٹ کے طور پر خود کو یاد کر رہی تھی جس نے فخر کے ساتھ ٹرمپ کو ووٹ دیا تھا۔ میں خود کو ایک ایسی نئی، آزاد خیال سیاسی تحریک کا حصہ سمجھتی تھی جو سخت گیر بائیں بازو کی سیاست سے تھک چکی تھی اور جسے دونوں بڑی جماعتوں میں اصول، اخلاقیات اور شائستگی کی واپسی نظر نہیں آ رہی تھی۔\n\nمجھے ٹرمپ میں اخلاقی اقدار، خاندانی سیاست، خاندان کی اہمیت پر یقین اور مشرق وسطیٰ میں نہ ختم ہونے والی جنگوں کے خاتمے کا عزم نظر آیا تھا۔ یہی وہ اصول تھے جن پر انہوں نے انتخابی مہم چلائی: ’امریکہ فرسٹ‘، جنگ کی مخالفت اور خاندانی اقدار کا احترام۔\n\nٹرمپ نے وعدہ کیا تھا کہ مزید جنگیں نہیں ہوں گی اور ٹیکس دہندگان کا پیسہ امریکہ کی تعمیر نو پر خرچ کیا جائے گا۔\n\nمیرے شہر نیویارک کے سب وے نظام پر، جہاں گرمیوں میں موٹی بلیوں جتنے بڑے چوہے پٹریوں پر دوڑتے ہیں، یا جان ایف کینیڈی ایئرپورٹ کی بہتری پر، جہاں شدید بارشوں کے دوران راہداریوں میں بارش کا رسنے والا پانی جمع کرنے کے لیے پلاسٹک کی بالٹیاں رکھی جاتی ہیں یا سستی صحت کی سہولتوں، قابلِ رسائی رہائش اور دنیا کے طاقتور ترین ملک میں رہنے والے ہر امریکی کے لیے محفوظ اور پُرسکون زندگی پر۔\n\nمیں نے یقین کیا تھا کہ ٹرمپ کا انتخاب سفارت کاری اور جنگ سے گریز کا راستہ اختیار کرنا ہے۔ لیکن ان کے انتخاب کے ایک سال سے بھی کم عرصے بعد، میرے آبائی ملک ایران پر ممکنہ جوہری حملے کا تصور اچانک خوفناک حد تک حقیقی محسوس ہونے لگا۔\n\nاس دن بیرونِ ملک مقیم بہت سے ایرانیوں نے مجھ سے رابطہ کیا۔ وہ ایران اور اپنے عزیزوں کے بارے میں فکرمند تھے اور ایک فارسی زبان کے میڈیا ادارے کی مدیر کے طور پر میری رائے جاننا چاہتے تھے۔ شاید انہیں امید تھی کہ میرے پاس کوئی ایسی معلومات یا تجزیہ ہوگا جو ان کے خدشات کم کر سکے۔\n\nدنیا بھر میں، امریکہ کے اندر بھی، بہت سے لوگوں نے ٹرمپ کے ان بیانات پر احتجاج کیا۔ انہوں نے لکھا تھا کہ وہ ایران کے توانائی کے ڈھانچے اور پلوں کو تباہ کر دیں گے اور ملک کو پتھر کے دور میں واپس بھیج دیں گے۔\n\nدنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت کی جانب سے ایک پورے ملک اور اس کے نو کروڑ باشندوں کو براہِ راست دھمکی دینا کوئی مذاق نہیں تھا اور نہ ہی اسے نظر انداز کیا جا سکتا تھا۔\n\nٹرمپ کی مقرر کردہ رات آٹھ بجے کی ڈیڈ لائن سے دو گھنٹے پہلے، سات اپریل کی شام انہوں نے دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے موصول ہونے والی دس نکاتی تجویز کے بعد کیا گیا تھا۔\n\nشاید کئی سال لگ جائیں جب تک اس جنگ سے متعلق خفیہ دستاویزات اور وہ تفصیلات منظرِ عام پر آئیں جو ابھی تک پوشیدہ ہیں۔ آخر ایسا کیا ہوا کہ ٹرمپ، جو ایرانی عوام کی حمایت اور فیصلہ کن سفارت کاری کی بات کر رہے تھے، اچانک ایران پر بمباری کے فیصلے تک پہنچ گئے؟\n\nہم نے مختلف مشیروں کے اثر و رسوخ سے متعلق رپورٹس سنی ہیں اور یہ دعوے بھی کہ اسرائیلی حکومت اور وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے انہیں جنگ اور حکومت کی تبدیلی کی طرف مائل کیا۔ تاہم فی الحال یہ محض الزامات ہیں اور ان کے حق میں عوامی سطح پر کوئی ثبوت موجود نہیں۔\n\nآج، 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ اور 38 روزہ مشترکہ امریکی اسرائیلی بمباری کے 90 دن بعد، جو فی الحال جنگ بندی پر ختم ہوئی ہے، مجھے ٹرمپ کے حالیہ بیانات اور انٹرویوز میں ایسے اشارے نظر آتے ہیں جو جنگ کے بجائے امن کی طرف جھکاؤ ظاہر کرتے ہیں۔\n\nٹرمپ، جو بظاہر زندگی سے محبت کرنے والے شخص ہیں، مجھے فطری طور پر ایسے انسان نہیں لگتے جو جنگ، تباہی اور موت کے خواہش مند ہوں۔ لاکھوں امریکیوں کی طرح میرا بھی خیال تھا کہ وہ میڈیا کی کردار کشی مہم کا نشانہ بنے ہیں اور امریکہ میں ایک تیسرے سیاسی راستے کی نمائندگی کرتے ہیں، جو امن اور وسیع خوشحالی پر مبنی ہے۔\n\nکیا ٹرمپ کو غلط مشوروں کے ذریعے ایران کے خلاف جنگ میں دھکیلا گیا؟\n\nایرانی شہروں میں سینکڑوں بے گناہ شہری، جن میں میناب شہر کے سکول کے بچے بھی شامل تھے، حملوں میں مارے گئے۔ کیا امریکی صدر کو کبھی مکمل طور پر اس نفسیاتی صدمے سے آگاہ کیا گیا جو ایرانی عوام نے برداشت کیا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب وہ جنوری 2026 میں اپنی ہی حکومت کی جانب سے ہونے والی اجتماعی ہلاکتوں کے صدمے سے ابھی تک نہیں نکلے تھے؟\n\nایران میں میرے ایک سابق ساتھی نے سات اپریل کی دھمکی کے ایک ہفتے بعد مجھے ایک ویڈیو بھیجی۔ اس کے ہونٹوں پر شدید ذہنی دباؤ کے باعث زخم بن گئے تھے۔ اس کا کہنا تھا کہ یہ سب ایران پر ممکنہ امریکی جوہری حملے کی خبروں کے خوف کی وجہ سے ہوا۔\n\nکروڑوں ایرانیوں کے لیے اس خوفناک دن کے بعد میری والدہ نے مجھے بتایا کہ وہ تہران میں اپنے گھر کے تاریک ڈرائنگ روم میں آکسیجن مشین کے ساتھ رات دو بجے سے جاگتی رہیں، گھڑی کو دیکھتی رہیں اور اپنی زندگی کے بارے میں سوچتی رہیں۔\n\nانہوں نے کہا: ’میں مسلسل تمہارے بارے میں سوچتی رہی اور یہ کہ شاید ہم تمہیں دوبارہ کبھی نہ دیکھ سکیں۔ میں تمہارے بھائی کے بارے میں سوچتی رہی جو دوسرے کمرے میں سو رہا تھا، ایک ایسا بیٹا جسے کبھی زندگی جینے کا حقیقی موقع نہیں ملا، اور جو یہ سوچ رہا تھا کہ شاید ایک امریکی جوہری حملے میں مر جانا ہی اس کا مقدر ہو۔ ہر پندرہ منٹ بعد میں گھڑی دیکھتی اور ایک بڑے دھماکے کا انتظار کرتی۔ آخرکار میں صوفے پر سو گئی۔ صبح چھ بجے تمہارے بھائی نے مجھے جگایا اور کہا: ’اٹھو، ہم زندہ ہیں۔‘\n\nجب میری والدہ نے مجھے یہ بات سنائی تو میں اپنے آنسو نہ روک سکی۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nایرانیوں کو آخر اتنے خوف اور اذیت کے ساتھ کیوں جینا پڑتا ہے؟\n\nایرانی عوام 47 برس سے ایک مجرمانہ نظام کے متاثرین رہے ہیں اور افسوسناک طور پر اب وہ امریکہ اور اسرائیل سے وابستہ ایک ایسی جنگ کے بھی متاثرین بن گئے ہیں جو انہوں نے کبھی نہیں چاہی تھی۔\n\nایران اور امریکہ اب بھی ایک نازک جنگ بندی پر عمل پیرا ہیں اور ایسے معاہدے کی تلاش جاری ہے جو تنازع ختم کر سکے، جبکہ آبنائے ہرمز میں فوجی واقعات کی اطلاعات تقریباً ہر رات سامنے آتی رہتی ہیں۔ ایرانی عوام بدستور شدید بے چینی کا شکار ہیں اور امن، استحکام اور بہتری کے امکانات غیر یقینی دکھائی دیتے ہیں۔\n\nاگر ٹرمپ اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ امریکہ کے اندر بڑھتا ہوا سیاسی دباؤ اور ان کی مقبولیت کو پہنچنے والا نقصان اس طویل تنازعے کا نتیجہ ہے، تو وہ کسی گروہ، فرد یا بیرونی ملک کے دباؤ میں آ کر اس جنگ کو جاری نہیں رکھیں گے۔\n\nاسرائیل یا ٹرمپ کے اپنے سیاسی حلقے کے سخت گیر اتحادی شاید ایران کے ساتھ معاہدے کو مشکل بنا سکتے ہیں، لیکن وہ کسی ایسے معاہدے کو نہیں روک سکتے جسے ٹرمپ امریکی مفاد میں سمجھتے ہوں۔\n\nآخر یہی وہ چیز تھی جس نے مجھ جیسے بہت سے ڈیموکریٹس کو، جو ایک ’تیسرے راستے‘ کی تلاش میں تھے، ٹرمپ کو ووٹ دینے پر آمادہ کیا تھا:\n\n’امریکہ فرسٹ‘ اور نئی جنگیں شروع کرنے کے بجائے انہیں ختم کرنے کا وعدہ۔\n\n* * *\n\n_نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے اور ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔_\n\nایران\n\nامریکہ\n\nایران اسرائیل کشیدگی\n\nصدر ڈونلڈ ٹرمپ\n\nسات اپریل کو میری والدہ سے ہونے والی وہ گفتگو میری زندگی کی مشکل ترین گفتگوؤں میں سے ایک تھی۔ وہ آخری الوداع جیسی تھی، گفتگو کے اختتام پر انہوں نے مایوس لہجے میں کہا: ’اگر تم ہمیں دوبارہ کبھی نہ دیکھ سکو تو ہمیں یاد رکھنا۔ خدا حافظ۔‘\n\nکاملیا انتخابی فرد\n\nہفتہ, جون 6, 2026 - 22:30\n\nMain image:\n\n> <p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پانچ جون 2026 کو میری لینڈ میں جوائنٹ بیس اینڈریوز سے وسکونسن کے شہر او کلیئر جانے والی صدارتی پرواز ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے (ساؤل لوب / اے ایف پی)</p>\n\nنقطۂ نظر\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nسعودی عرب کی بحرین اور کویت پر ایرانی حملوں کی مذمت\n\nپاکستان، ایران وزرائے داخلہ کا کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی کوششوں پر زور\n\nپاکستان، ایران اور امریکہ کے درمیان مخلص ثالثی کر رہا ہے: شہباز شریف\n\nامریکی ایوان نمائندگان میں ایران کے خلاف جنگ روکنے کی قرارداد منظور\n\nSEO Title:\n\nمیں نے جنگیں ختم کرنے کے لیے ٹرمپ کو ووٹ دیا تھا، اب وہ میرے وطن کو تباہ کر رہے ہیں\n\ncopyright:\n\nIndependentEnglish\n\norigin url:\n\nhttps://www.independent.co.uk/voices/trump-iran-us-war-ceasefire-america-first-voter-b2989491.html\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "میں نے جنگیں ختم کرنے کے لیے ٹرمپ کو ووٹ دیا تھا، اب وہ میرے وطن کو تباہ کر رہے ہیں"
}