{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreibwda7azhykik53txj3zoiucm4w7bsmfokrbkevbdkmja7drz65h4",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mnlcocgmiqa2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreib2g2lk5edxq7qbtsldqk24qqn42ywnz2mwqbfxbdh6ul5rbc3xle"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 65943
  },
  "path": "/node/186184",
  "publishedAt": "2026-06-05T10:19:46.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "صدر ڈونلڈ ٹرمپ",
    "بن یامین نتن یاہو",
    "اسرائیل",
    "امریکہ",
    "روئٹرز",
    "دنیا",
    "news"
  ],
  "textContent": "**اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو طویل عرصے سے اسرائیلی عوام کے سامنے خود کو ایسے رہنما کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بہتر تعلقات قائم رکھنے اور ان کی حمایت حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔**\n\nلیکن اس ہفتے ہونے والی ایک تلخ ٹیلیفون کال، جس میں صدر ٹرمپ نے وزیراعظم کو ’پاگل ‘ کہا، پہلے میڈیا میں لیک ہوئی اور بعد ازاں خود ٹرمپ نے بھی اس کی تصدیق کر دی، جس نے دونوں رہنماؤں کے درمیان وقتاً فوقتاً پیدا ہونے والی کشیدگی کو واضح کر دیا۔\n\nاسرائیلی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ کال نتن یاہو کی ٹرمپ کے ساتھ اب تک کی سب سے سخت بات چیت میں سے ایک تھی۔ ایک عہدیدار کے مطابق اس لیک فون کال نے اسرائیلی وزیراعظم کی سیاسی پوزیشن کو آنے والے انتخابات سے قبل نقصان پہنچایا۔\n\nامریکی ویب سائٹ ایکسیوس نے پیر کو اس کال کی خبر دی تھی، جس کے مطابق ٹرمپ نے نتن یاہو پر شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے انہیں بیروت کے جنوبی علاقوں پر دوبارہ فضائی حملوں کی دھمکی دینے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ ٹرمپ کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا کہ ’اب سب تم سے نفرت کرتے ہیں، سب اسرائیل سے نفرت کرتے ہیں کیونکہ یہ سب ہو رہا ہے۔‘\n\nامریکی صدر نے نتن یاہو کو بیروت کو نشانہ نہ بنانے کا کہا، جب ایران نے خبردار کیا تھا کہ لبنان میں اسرائیلی حملے جنگ بندی کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں، جو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں سے شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے اہم سمجھی جا رہی تھیں اور جو امریکی عوام میں بھی غیر مقبول ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nایک سینیئر اسرائیلی عہدیدار نے روئٹرز کو بتایا کہ نتن یاہو نے ٹرمپ کو واضح کیا کہ بیروت پر حملوں میں وقفہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب حزب اللہ شمالی اسرائیل پر حملے بند کرے۔ عہدیدار کے مطابق ٹرمپ نے اس مؤقف کو تسلیم کیا۔\n\nکال کے بعد ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل اور حزب اللہ نے ایک دوسرے پر فائرنگ روکنے پر اتفاق کیا ہے، جس کے بعد نتن یاہو پر اسرائیلی اپوزیشن اور ان کی حکومت کے بعض ارکان کی جانب سے تنقید کی گئی کہ انہوں نے اسرائیلی خودمختاری امریکہ کے حوالے کر دی ہے۔\n\nاپوزیشن رہنما یائر لپید نے کہا کہ یہ ’مکمل طور پر ایک زیر نگرانی ریاست‘ کی صورت حال ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نتن یاہو نے اسرائیل کو امریکی ’کلائنٹ سٹیٹ' بنا دیا ہے۔\n\nنتن یاہو، جو اسرائیل کے طویل ترین عرصے تک وزیراعظم رہنے والے رہنما ہیں، ماضی میں بھی امریکی رپبلکن اور ڈیموکریٹک انتظامیہ سے اختلافات رکھتے آئے ہیں، تاہم اسرائیل واشنگٹن کا مشرقِ وسطیٰ میں قریبی ترین اتحادی رہا ہے۔\n\nاسرائیلی تھنک ٹینک متویم کے صدر نمرود گورن نے کہا کہ ’اختلافات اب کھلے عام سامنے آ رہے ہیں‘، جبکہ پہلے یہ معاملات پسِ پردہ حل کیے جاتے تھے۔\n\nٹرمپ نے بدھ کو نیویارک پوسٹ کو بتایا کہ وہ لبنان پر مسلسل حملوں سے ’تھوڑا پریشان‘ ہیں، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اور نتن یاہو مل کر اچھا کام کرتے رہے ہیں۔\n\nایران پر امریکی حملوں میں شرکت اور ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے اقدامات کو نتن یاہو کے لیے بڑی کامیابی سمجھا گیا، تاہم ٹرمپ نے یمن میں حوثیوں پر حملے روکنے، شام کے صدر احمد الشرع پر پابندیاں ختم کرنے اور ایران کے ساتھ 2025 کی جنگ روکنے جیسے اقدامات بھی کیے، جنہیں اسرائیل میں بعض حلقے ملک کے مفاد کے خلاف سمجھتے ہیں۔\n\nامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیل کے وزیراعظم بن یامین نتن یاہو چار فروری 2025 کو واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے ایسٹ روم میں ایک پریس کانفرنس کر رہے ہیں (اے ایف پی)\n\n\n\n\n**جنگ بندی مذاکرات میں اسرائیل براہِ راست شامل نہیں**\n\nامریکہ اور اسرائیل نے فروری میں ایران کے خلاف کارروائی شروع کی، تاہم جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں اسرائیل براہِ راست شامل نہیں تھا۔ یہ مذاکرات پاکستان کے ذریعے ہوئے، جو اسرائیل سے سفارتی تعلقات نہ رکھنے کے باوجود ایک غیر معمولی ثالث کے طور پر سامنے آیا۔\n\nایران اور حزب اللہ کے ساتھ جنگ اسرائیل میں خاصی مقبول رہی ہے، حتیٰ کہ اپوزیشن کے حامیوں میں بھی، جبکہ عوام کی بڑی تعداد چاہتی ہے کہ لڑائی جاری رہے۔ اس کے برعکس امریکہ میں کئی ووٹرز، بشمول ٹرمپ کے حمایتی، جنگ کے خلاف ہیں۔\n\nٹرمپ نے بارہا کہا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے معاہدے کے قریب ہے، جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ کسی بھی معاہدے میں اسرائیل کو لبنان میں حزب اللہ پر حملے روکنے ہوں گے۔\n\nنتن یاہو نے جنگ کے آغاز میں کہا تھا کہ ایران کی حکومت کا خاتمہ ہوگا اور اس کے جوہری و میزائل پروگرام تباہ کیے جائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ حزب اللہ کو جنوبی لبنان میں غیر مسلح کیا جانا چاہیے، تاہم اب تک یہ اہداف حاصل نہیں ہو سکے۔\n\nحالیہ داخلی سرویز کے مطابق نتن یاہو کی اتحادی حکومت اگلے انتخابات میں اکثریت حاصل نہیں کر سکے گی۔\n\nنتن یاہو کے سابق مشیر ناداو شتراوخلر نے کہا کہ وزیراعظم ٹرمپ کی حمایت پر انحصار کر رہے ہیں کیونکہ انہیں انتخابی نتائج میں صدر کی حمایت درکار ہوگی۔\n\nتاہم بعض اسرائیلی رہنما اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ ٹرمپ اسرائیلی فوجی فیصلوں پر حد سے زیادہ اثر انداز ہو رہے ہیں۔\n\nاسرائیلی وزیرِ قومی سلامتی ايتمار بن غفيرنے کہا کہ کبھی کبھی اسرائیلی رہنما کو امریکی صدر کو بھی ’نہ ‘ کہنا آنا چاہیے۔\n\nسابق مشیر شتراوخلر کے مطابق نتن یاہو کو امید ہے کہ ٹرمپ کی حمایت انتخابات میں فیصلہ کن ثابت ہوگی۔\n\nٹرمپ اکثر نتن یاہو کی کھلے عام تعریف کرتے رہے ہیں اور ان پر مقدمات کے دوران اسرائیلی صدر سے انہیں معافی دینے کی بھی اپیل کر چکے ہیں۔\n\nوالینسیا میں 16 مارچ 2026 کو فالاس فیسٹیول کے دوران 'فالاس' نامی دیوہیکل گتے کے مجسمے نمائش کے لیے پیش کیے گئے، جن میں 'نینوٹس' کہلانے والی شخصی مورتیوں کے ذریعے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (دائیں)، روسی صدر ولادی میر پیوٹن (درمیان) اور اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کو دکھایا گیا ہے (اے ایف پی)\n\n\n\n\nتاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ ان کے بقول اسرائیل کو واشنگٹن کی کتنی زیادہ ضرورت ہے، اور انہوں نے ماضی میں اسرائیل اور دیگر معاملات پر سخت زبان بھی استعمال کی ہے، جس میں انہوں نے گذشتہ سال عوامی طور پر یہ بھی کہا تھا کہ ’اسرائیل اور ایران 'نہیں جانتے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔‘\n\nاس کے برعکسن یتن یاہو ٹرمپ کو ’وائٹ ہاؤس میں اسرائیل کا اب تک کا سب سے بڑا دوست‘ قرار دیتے ہیں، اور ان کی وہی عوامی تعریف کرتے ہیں جو رپبلکن صدر کو پسند آتی ہے، جو ذاتی وفاداری اور توثیق کو بہت اہمیت دینے کے لیے مشہور ہیں۔\n\nامریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ کے آغاز کے بعد، نتن یاہو نے بعض مواقع پر کہا ہے کہ وہ ٹرمپ سے تقریباً روزانہ بات کرتے ہیں اور اکثر اسرائیلی عوام کے سامنے اپنے تعلقات کو ایسے دو رہنماؤں کے طور پر پیش کرتے ہیں جو مل کر فیصلے کرتے ہیں۔\n\nسی این بی سی کو بدھ کے روز دیے گئے انٹرویو میں نتن یاہو نے کال کے بارے میں پوچھے جانے پر کہا کہ ’بہترین خاندانوں‘ کی طرح ان کے اور امریکی صدر کے درمیان کبھی کبھار ’حکمتِ عملی سے متعلق اختلافات‘ ہوتے رہے ہیں۔\n\nایک امریکی عہدیدار نے روئٹرز کو بتایا کہ یہ فون کال ان متعدد فون کالز میں سے ایک تھی جن میں صدر نے نتن یاہو سے انتہائی واضح اور دوٹوک انداز میں بات کی، تاہم دونوں اب بھی دوست اور قریبی اتحادی ہیں۔\n\nعہدیدار نے کہا کہ ’ان کی گفتگو کافی دوٹوک ہوتی ہے۔‘\n\nاسی عہدیدار اور امریکہ-اسرائیل تعلقات پر بریف کیے گئے ایک اور اسرائیلی ذریعے نے اس بات کو مسترد کیا کہ دونوں رہنماؤں کے تعلقات میں کوئی بنیادی تبدیلی آئی ہے۔\n\nتاہم اسرائیلی ذریعے نے یہ تسلیم کیا کہ اس کال کا لیک ہونا اور بعد میں ٹرمپ کی جانب سے اس کی تصدیق نتن یاہو کے لیے آنے والے انتخابات کے تناظر میں فائدہ مند نہیں تھا، کیونکہ ان کی رائے عامہ کے سروے کمزور دکھا رہے ہیں۔\n\nنتن یاہو کے سابق مشیر ناداو شتراوخلر نے کہا کہ ٹرمپ کے ساتھ اختلافات یا دوری کا تاثر بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے اور دونوں رہنما اب بھی زیادہ تر اہم معاملات پر ہم آہنگ نظر آتے ہیں۔\n\nتاہم انہوں نے کہا کہ ایران اور حزب اللہ کے ساتھ جنگوں کا اچانک خاتمہ نتن یاہو کے لیے ’بڑا مسئلہ‘ بن سکتا ہے، کیونکہ بہت سے اسرائیلی اسے اس بات کے طور پر دیکھیں گے کہ ٹرمپ نے انہیں فیصلے پر مجبور کیا ہے۔\n\nانہوں نے کہا: ’یہاں کوئی نہیں چاہتا کہ ہمیں امریکی پرچم کا ایک اور ستارہ سمجھا جائے۔ ہم اپنی آزادی کا احساس چاہتے ہیں۔‘\n\nصدر ڈونلڈ ٹرمپ\n\nبن یامین نتن یاہو\n\nاسرائیل\n\nامریکہ\n\nایک تلخ ٹیلیفون کال، جس میں امریکی صدر نے نتن یاہو کو ’پاگل‘ کہا، پہلے میڈیا میں لیک ہوئی اور بعد ازاں خود ٹرمپ نے بھی اس کی تصدیق کر دی، جس نے دونوں رہنماؤں کے درمیان وقتاً فوقتاً پیدا ہونے والی کشیدگی کو واضح کر دیا۔\n\nروئٹرز\n\nجمعہ, جون 5, 2026 - 15:45\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\"> 29 دسمبر 2025 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے مار-ا-لاگو کلب میں پریس کانفرنس کے دوران اسرائیلی وزیرِاعظم بن یامین نیتن یاہو سے مصافحہ کر رہے ہیں (جو ریڈل/ اے ایف پی)</p>\n\nدنیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم پر برہم، فون کال پر ’پاگل‘ کہہ دیا: رپورٹ\n\nڈونلڈ ٹرمپ کا ٹیلی فونک گفتگو میں نیتن یاہو کو ’پاگل‘ کہنے کا اعتراف\n\nجیرڈ کشنر: نتن یاہو جن کے گھر میں ٹھہرا کرتے تھے\n\nامریکی جنگی مشین ٹرمپ کے کنٹرول میں یا نتن یاہو کے؟\n\nSEO Title:\n\nٹرمپ کی سرزنش اور لیک فون کال سے نتن یاہو کو سیاسی دھچکا\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "ٹرمپ کی سرزنش اور لیک فون کال سے نتن یاہو کو سیاسی دھچکا"
}