{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreif52stxldwx3m7tjdjd2eyjpbnuvpoe3swfuqyzjnr5orpr3wnwx4",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mnlcnthv63p2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreih45s44533nujcr2ghomsfjxc53m22xps37ifqdzlhkync6ee6uoq"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 131865
},
"path": "/node/186188",
"publishedAt": "2026-06-05T11:25:18.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"اسرائیل",
"لبنان",
"حزب اللہ",
"حملہ",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"دنیا",
"news"
],
"textContent": "**اسرائیلی فوج نے جمعے کو جنوبی لبنان کے علاقوں پر حملے کیے ہی جن میں تاحال سات اموات ہو چکی ہیں جبکہ مزید کئی علاقوں کو خالی کرنے کی وارننگ بھی جاری کی ہے۔**\n\nخبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق لبنانی سول ڈیفنس نے بتایا ہے کہ سرائیلی فوج نے جمعرات اور جمعے کی درمیانی رات صور کے علاقوں پر حملے کیے جن مین سات افراد جان سے جا چکے ہیں۔\n\nجبکہ جمعے کو اسرائیلی فوج نے سرافند کے رہائشیوں کو، جو صور اور صیدا کے درمیان ساحلی شاہراہ پر واقع ہے، فوری طور پر علاقہ خالی کرنے کی ہدایت کی ہے۔\n\nخبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی فوج کے ترجمان اویخائے ادرعی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ حزب اللہ کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی اور اسرائیل کے اندر حملوں کے باعث فوج کو سخت کارروائی کرنا پڑ رہی ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں۔\n\nانہوں نے سرافند اور سکسکیہ سمیت چھ قصبوں اور دیہاتوں کا ذکر کیا اور کہا کہ ’آپ کی سلامتی کے پیش نظر، آپ کو فوری طور پر اپنے گھروں کو خالی کرنا چاہیے اور دریائے زہرانی کے شمال کی جانب منتقل ہو جانا چاہیے۔‘\n\nیہ دریا سرحد سے تقریباً 40 کلومیٹر (25 میل) دور ہے۔ یہ صورت حال ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب امریکہ کی ثالثی میں واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کے بعد جاری مشترکہ بیان کے مطابق اسرائیل اور لبنان نے بدھ کو جنگ بندی پر عمل درآمد کرنے پر اتفاق کیا تھا۔\n\nتاہم اس کے لیے حزب اللہ کی جانب سے حملوں کا ’مکمل خاتمہ‘ ضروری قرار دیا گیا ہے۔\n\nبیان کے مطابق دونوں فریق، جن کے درمیان باقاعدہ سفارتی تعلقات موجود نہیں، اس بات پر بھی متفق ہوئے کہ ایسے ’پائلٹ زونز‘ قائم کیے جائیں گے جہاں لبنانی مسلح افواج علاقے کا ’مکمل اور خصوصی کنٹرول‘ سنبھالیں گی اور وہاں کسی بھی غیر ریاستی گروہ کی موجودگی نہیں ہوگی۔\n\nتاہم حزب اللہ، جو اسرائیل اور لبنان کے درمیان براہِ راست مذاکرات کو مسترد کرتی ہے، نے اس اعلان پر تاحال کوئی ردِعمل نہیں دیا، جبکہ اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔\n\nاسرائیل نے گذشتہ ہفتے دریا کے جنوب میں واقع تمام علاقوں کو ’جنگی زون‘ قرار دیا تھا۔ جمعرات کو اس سے قبل اسرائیلی فوج نے کہا کہ شمالی اسرائیل میں فضائی حملے کے سائرن بجائے گئے۔\n\nایک واقعے میں ’مشکوک فضائی ہدف‘ کی اطلاع ملی تھی، جسے بعد میں نمٹا لیا گیا، جبکہ دوسرے واقعے کو فالس الارم قرار دیا گیا۔\n\nدوسری جانب اعلان سے قبل حزب اللہ نے کہا تھا کہ اس نے جمعرات کی صبح جنوبی لبنان میں داخل ہونے والے اسرائیلی فوجیوں پر راکٹوں اور ڈرونز سے حملے کیے۔\n\nواشنگٹن میں مذاکرات کے بعد امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے مشترکہ بیان میں کہا گیا تھا کہ جنگ بندی کا انحصار حزب اللہ کی جانب سے فائرنگ کے ’مکمل خاتمے‘ اور جنوبی لبنان سے اس کے جنگجوؤں کے انخلا پر ہوگا۔\n\nواشنگٹن میں ہونے والے یہ مذاکرات لبنانی اور اسرائیلی سفارت کاروں کے درمیان براہِ راست بات چیت کا چوتھا دور تھا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nیہ مذاکرات دو مارچ کو شروع ہونے والی لڑائی کے بعد ہوئے، جب حزب اللہ نے ایران کی حمایت میں اسرائیل پر حملے دوبارہ شروع کیے تھے۔\n\nبیان کے مطابق، دونوں فریق جون کے آخری ہفتے میں مزید مذاکرات کریں گے تاکہ ’جامع معاہدے‘ تک پہنچا جا سکے۔\n\nیہ بھی کہا گیا کہ تمام ممالک نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان تعلقات کے مستقبل کا فیصلہ دونوں خودمختار حکومتیں کریں گی اور کسی بھی ریاستی یا غیر ریاستی فریق کی جانب سے لبنان کے مستقبل کو یرغمال بنانے کی ہر کوشش کو مسترد کر دیا گیا۔\n\nاس سے قبل بدھ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ لبنان کے تنازع پر ہونے والے مذاکرات کو ایران کے ساتھ جنگ سے متعلق بات چیت سے الگ رکھنا چاہتے ہیں۔ تاہم تہران کا اصرار ہے کہ دونوں تنازعات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔\n\nایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا تھا کہ بیروت پر کسی بھی حملے کی صورت میں جنگ ’مکمل شدت‘ سے دوبارہ شروع ہو جائے گی۔\n\nلبنان میں لڑائی روکنے کے لیے 17 اپریل سے جنگ بندی نافذ ہونا تھی، لیکن اس پر کبھی عمل نہیں ہوا اور دونوں فریق ایک دوسرے پر خلاف ورزیوں کا الزام لگا کر اپنے حملوں کا جواز پیش کرتے رہے ہیں۔\n\nاسرائیل\n\nلبنان\n\nحزب اللہ\n\nحملہ\n\nاسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے علاقوں پر وارننگ کے بعد مزید حملے کیے ہی جن میں تاحال سات اموات ہو چکی ہیں۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nجمعہ, جون 5, 2026 - 16:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">5 جون 2026 کو جنوبی لبنان کے ساحلی شہر صور میں ایک روز قبل ہونے والے اسرائیلی حملے کی جگہ پر لوگ نقصانات کا جائزہ لے رہے ہیں(تصویر: اے ایف پی)</p>\n\nدنیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nجنگ بندی کے چند گھنٹے بعد ہی اسرائیل کے جنوبی لبنان پر حملے\n\nلبنان کی خودمختاری کے احترام کیا جائے: پاکستان کا مطالبہ\n\nلبنان پر حملے، ایران نے امریکہ سے پیغامات کا تبادلہ بند کر دیا\n\nاسرائیل، لبنان کشیدگی میں کمی کے لیے امریکہ کی نئی تجاویز\n\nSEO Title:\n\nجنوبی لبنان پر اسرائیلی حملوں میں سات اموات\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملوں میں سات اموات"
}