{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreid2ioh7b6fvtvddfgz7rfk5jj7ktvyj7ezchvzje47wt2uqgom4aa",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mnilj2ak3q72"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreih6pbridfruwkl3obs7kbcoqx6b4nbompwfrme2t3h7ur7a3zmhya"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 93372
},
"path": "/node/186164",
"publishedAt": "2026-06-04T02:46:34.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"فیفا ورلڈ کپ 2026",
"فیفا",
"اے ایف پی",
"فٹ بال",
"news"
],
"textContent": "**فیفا نے فٹ بال ورلڈ کپ کے آغاز سے چند روز قبل اچانک سے آخری وقت میں پالیسی تبدیل کرتے ہوئے شائقین کو سٹیڈیمز میں دوبارہ استعمال ہونے والی (refillable) پانی کی بوتلیں لانے سے روک دیا ہے جس کے نتیجے میں تماشائیوں کو پانی خریدنے کے لیے پیسے خرچنے پڑیں گے۔**\n\nدی ایتھلیٹک نے بدھ کو اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ابھی گذشتہ ماہ تک فیفا کے سرکاری سٹیڈیم ضابطۂ اخلاق میں یہ شق موجود تھی کہ ’وضاحت کے لیے، ایک لیٹر تک گنجائش رکھنے والی خالی، شفاف اور دوبارہ استعمال ہونے والی پلاسٹک کی بوتلیں سٹیڈیم میں لائی جا سکتی ہیں۔‘\n\nتاہم دی ایتھلیٹک کے مطابق اب ان ہدایات میں تبدیلی کر دی گئی ہے اور واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ’وضاحت کے لیے، دوبارہ استعمال ہونے والی پانی کی بوتلیں سٹیڈیم میں لانے کی اجازت نہیں ہوگی۔‘\n\nاے ایف پی کو جاری بیان میں فیفا کے ترجمان نے کہا کہ یہ فیصلہ حفاظتی وجوہات کی بنا پر کیا گیا ہے، اور یہ بھی بتایا کہ ورلڈ کپ کے کئی مقامات پر پہلے ہی ایسی بوتلوں پر پابندی تھی۔\n\nبیان میں کہا گیا کہ ’فیفا تمام کھلاڑیوں، ریفریز، شائقین، رضاکاروں اور عملے کی صحت اور حفاظت کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے۔\n\n’فیفا نے بوتلوں پر پابندی کا فیصلہ اس لیے کیا تاکہ کھلاڑیوں اور حاضرین کو ممکنہ خطرات اور چوٹوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nترجمان نے مزید کہا کہ سٹیڈیمز کے اطراف پانی فراہم کرنے کے مراکز، کولنگ ٹینٹس، پنکھے اور مسٹنگ سٹیشنز دستیاب ہوں گے۔\n\nبیان کے مطابق سٹیڈیم کے اندر فروخت ہونے والے بوتل بند پانی کی قیمتیں ان ہی سٹیڈیمز میں منعقد ہونے والے دیگر ایونٹس کے برابر رکھی جائیں گی۔\n\nیہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ماہرین خبردار کر چکے ہیں کہ امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں مشترکہ طور پر منعقد ہونے والے ورلڈ کپ کے دوران بعض کھلے سٹیڈیمز میں شدید گرمی شائقین کی صحت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔\n\nگذشتہ ماہ شائع ہونے والی ورلڈ ویدر اٹریبیوشن کی ایک تحقیق کے مطابق ورلڈ کپ کے 104 میں سے 26 میچ ایسے حالات میں کھیلے جانے کا امکان ہے جہاں ویٹ بلب گلوبل ٹیمپریچر (WBGT) 26 ڈگری سے تجاوز کر جائے گا۔\n\nویٹ بلب گلوبل ٹیمپریچر انسانی جسم پر گرمی کے اثرات ناپنے کا ایک پیمانہ ہے جس میں درجہ حرارت، نمی، ہوا کی رفتار اور سورج کی شعاعوں کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔\n\nیاد رہے کہ گذشتہ سال امریکہ میں منعقدہ فیفا کلب ورلڈ کپ کے دوران بھی شائقین کو سٹیڈیم میں پانی کی بوتلیں لانے کی اجازت نہیں تھی، حالانکہ اس وقت تماشائیوں نے شدید گرمی کی شکایت کی تھی۔\n\nفیفا ورلڈ کپ 2026\n\nفیفا\n\nدی ایتھلیٹک کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ ماہ تک فیفا کے ضابطۂ اخلاق میں یہ شق موجود تھی کہ ’ایک لیٹر تک گنجائش رکھنے والی خالی، شفاف اور دوبارہ استعمال ہونے والی پلاسٹک کی بوتلیں سٹیڈیم میں لائی جا سکتی ہیں۔‘\n\nاے ایف پی\n\nجمعرات, جون 4, 2026 - 07:30\n\nMain image:\n\n> <p>فٹ بال کلب آرسنل کے ایک فین 24 مئی 2026 کو ایک میچ کے دوران مینچیسٹر سٹی کے سٹیکر والی پانی کی بوتلیں اٹھائے ہوئے ہیں (فائل فوٹو/ اے ایف پی)</p>\n\nفٹ بال\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nفیفا ورلڈ کپ جیتنے کے لیے بڑے امیدواروں کی تیاری کیسی ہے؟\n\nفیفا ورلڈ کپ میں اس بار کون سے نوجوان ستارے جگمگائیں گے؟\n\nورلڈ کپ: سٹار فٹ بالر نیمار کی پہلے میچ میں شرکت مشکوک\n\nبڑا ورلڈ کپ، بڑا سوال: جوش بڑھے گا یا معیار گر جائے گا؟\n\nSEO Title:\n\nورلڈ کپ 2026: فیفا نے فینز کو پانی کی بوتلیں لانے سے کیوں روک دیا؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "ورلڈ کپ 2026: فیفا نے فینز کو پانی کی بوتلیں لانے سے کیوں روک دیا؟"
}