{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreieolwltpjinimnmhpfay4jsmxpbdbj6shsmpov5km4j42jkxd3vsu",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mniliybmk2i2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreid3t6svvycfb5rmk3vrguaqhspan2tybydup5dgwfdr3v55tphcce"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 79259
  },
  "path": "/node/186166",
  "publishedAt": "2026-06-04T06:00:17.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "ممی",
    "مصر",
    "حنوط شدہ",
    "جراثیم",
    "اٹلی",
    "تحقیق",
    "وشوام سنکرن",
    "news"
  ],
  "textContent": "**نئی تحقیق کے مطابق اوٹزی دی آئس مین کی 5300 سال پرانی باقیات میں آج بھی قدیم اور موجودہ دور کے جرثوموں کی ایک فعال تعداد موجود ہے۔**\n\nیہ ممی شدہ باقیات 1991 میں آسٹریا اور اٹلی کی سرحد کے قریب اوٹزٹال ایلپس میں دریافت ہوئی تھیں۔ سائنس دانوں نے انہیں منفی چھ درجے سیلسیئس پر محفوظ رکھا ہے تاکہ وہی حالات برقرار رہیں جن میں یہ باقیات ملی تھیں۔\n\nاوٹزی ممی پر بہت تحقیق ہو چکی ہے، جس سے اس دور کے لوگوں کی زندگی کے بارے میں اہم معلومات ملی ہیں۔ تاہم سائنس دانوں کے لیے یہ سمجھنا اب بھی مشکل رہا ہے کہ باقیات پر موجود کون سے جرثومے اصل میں وہاں پہلے سے موجود تھے اور کون سے جدید دور کے ماحولیاتی آلودہ جرثومے ہیں جو حفاظتی عمل کے دوران شامل ہوئے۔\n\nاس کی وجہ یہ ہے کہ یہ بات پوری طرح واضح نہیں کہ ممی کو جس ماحول میں محفوظ رکھا گیا ہے، کیا وہ جرثوموں کی افزائش کو روکتا ہے، اور یہ ماحول باقیات کے تحفظ پر کیا اثر ڈالتا ہے؟\n\nاس کا جائزہ لینے کے لیے اٹلی کی یونیورسٹی آف ٹرینٹو کے محققین نے ممی کی شکل میں موجود باقیات سے لیے گئے جِلد کے نمونوں، ٹشو کے ٹکڑوں اور اندرونی حصوں سے پگھلے ہوئے پانی کے نمونوں میں موجود بیکٹیریا اور فنگس کا تجزیہ کیا۔\n\nایک شخص 28 فروری 2011 کو بولزانو کے آرکیالوجیکل میوزیم میں اوٹزی نامی آئس مین کے مجسمے کی تصاویر بنا رہا ہے (اے ایف پی)\n\n\n\n\nاس کے بعد سائنس دانوں نے ان جرثوموں کا موازنہ ان مٹی اور برف کے نمونوں سے کیا جو 1991 میں دریافت کے مقام سے لیے گئے تھے اور محفوظ رکھے گئے تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ سیوڈوموناس بیکٹیریا تمام نمونوں اور مختلف اوقات میں موجود تھے۔\n\nاندرونی بافتوں کے نمونوں میں ہر وقت این ایروبک بیکٹیریا کی ایک تعداد بھی موجود رہی، جس میں زیادہ تر کلوسٹریڈیم گروپ کے بیکٹیریا شامل تھے۔\n\nمحققین کے مطابق یہ بیکٹیریا ایک قدیم جرثومی برادری کا حصہ ہیں، جس کا تعلق اسی مقام سے ہے جہاں سے ممی دریافت ہوئی تھی۔\n\n2019 میں لیے گئے نمونوں میں سرد ماحول کے مطابق ڈھلی ہوئی چار اقسام کی خمیر بھی پائی گئیں، جن میں فینولیفیریا، گلیسیوزائما، گوفیوزائما اور مراکیا شامل ہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nمحققین کا کہنا ہے کہ یہ ممکن ہے کہ یہ خمیر ممی کے پگھلنے کے بعد دوبارہ فعال ہو گئی ہوں، یا پھر یہ انہی قدیم خمیروں کی نسل سے تعلق رکھتی ہوں۔\n\nان میں سے ایک خمیر، گلیسیوزائما، موجودہ حفاظتی ماحول میں ممکنہ طور پر فعال ہے اور اپنی تعداد بڑھانے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔\n\nسائنس دانوں کے مطابق یہ خمیر سرد درجہ حرارت کے مطابق اچھی طرح ڈھلی ہوئی ہیں۔ غالباً ان کا تعلق برفانی ماحول سے ہے اور مستقبل میں انہیں کم درجہ حرارت پر خمیر اٹھانے جیسے صنعتی کاموں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔\n\nاوٹزی میں پائے گئے کچھ جرثوموں میں ایسے جینز بھی ملے جو فینول کو توڑنے کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ فینول ایک جراثیم کش مادہ ہے جو ماضی میں ان باقیات کو محفوظ رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔\n\nتاہم سائنس دان ابھی یہ نہیں جانتے کہ یہ جرثومے مجموعی طور پر ممی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں یا نہیں۔\n\nمائیکرو بایوم نامی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق میں محققین نے لکھا: ’آئس مین کی ممی کوئی جامد شے نہیں بلکہ زندہ جرثوموں کا ایک متحرک نظام ہے، جہاں برفانی ماحول سے آنے والے قدیم جرثومے اور جدید آلودہ جرثومے میوزیم کے حالات میں ساتھ موجود ہیں۔‘\n\nنئی تحقیق سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ موجودہ حفاظتی طریقہ زیادہ تر جرثوموں کی افزائش کو دباتا ہے، لیکن ساتھ ہی کچھ ایسے جانداروں کو بھی برقرار رکھ سکتا ہے جو انہی حفاظتی حالات میں زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔\n\nسائنس دانوں نے لکھا کہ ’یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ سخت ماحولیاتی شرائط برقرار رکھنا بہت ضروری ہے تاکہ یہ خاص جرثومی برادریاں خاموش حالت سے نکل کر فعال جرثوموں میں تبدیل نہ ہو جائیں۔‘\n\nاوٹزی کو 1991 میں پیدل سفر کرنے والوں نے آلپس کے ایک گلیشیئر میں جما ہوا پایا تھا۔ اس کے ساتھ اس کے کپڑے اور اوزار بھی ملے تھے۔ چونکہ اس کا جسم بہت اچھی حالت میں محفوظ تھا، اس لیے سائنس دان تانبے کے دور میں لوگوں کی زندگی کے بارے میں بہت کچھ جان سکے ہیں۔\n\nآسٹریا کے صحافی کارل وینڈل نے اس ممی کو ’اوٹزی‘ کا نام دیا تھا، کیوں کہ وہ اس کے لیے ایک آسان اور یاد رہ جانے والا نام چاہتے تھے۔ ساؤتھ ٹائرول میوزیم آف آرکیالوجی کی ویب سائٹ کے مطابق یہ نام اوٹزٹال ایلپس سے لیا گیا ہے، جہاں یہ ممی دریافت ہوئی تھی۔\n\nممی\n\nمصر\n\nحنوط شدہ\n\nجراثیم\n\nاٹلی\n\nتحقیق\n\nمحققین کا کہنا ہے کہ اوٹزی دا آئس مین کی ممی میں جرثوموں کا فعال نظام دریافت ہوا ہے۔\n\nوشوام سنکرن\n\nجمعرات, جون 4, 2026 - 11:00\n\nMain image:\n\n> <p>ایک محقق 3 جون 2026 کو اطالوی گلیشیئر سے دریافت ہونے والی اوٹزی آئس مین کی ممی کا جائزہ لے رہا ہے (آئس مین ڈاٹ آئی ٹی)</p>\n\nتحقیق\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nماہرین نے مصر میں ممی بنانے کے لیے استعمال ہونے والی خوشبوئیں تیار کر لیں\n\nتحقیق کرنے والے حنوط ممی سونگھ کر کیا بتاتے ہیں؟\n\nچیختی ہوئی مصری خاتون کی ممی ’جن کی موت درد کے باعث ہوئی‘\n\nمصر میں ممی بنانے والی ورکشاپیں دریافت\n\nSEO Title:\n\nکیا 5300 سال قدیم ممی میں ’زندگی‘ کے آثار باقی ہیں؟\n\ncopyright:\n\nIndependentEnglish\n\norigin url:\n\nhttps://www.independent.co.uk/news/science/otzi-the-iceman-living-inside-microbiome-b2988494.html\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "کیا 5300 سال قدیم ممی میں ’زندگی‘ کے آثار باقی ہیں؟"
}