{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreicgvggpudnld7rqccnmwpwyzkkybyxiqrinig52apcs5ktfsldtu4",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mnilimxmwf42"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreibeefrqm4j2426lmbds3lqtxjmlmdphw2f7xcmtjxbqvcz5fia3zm"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 71965
},
"path": "/node/186165",
"publishedAt": "2026-06-04T08:45:16.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"مشترکہ بیان",
"View this post on Instagram",
"A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)",
"لبنان",
"اسرائیل",
"امریکہ",
"جنگ بندی",
"حزب اللہ",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"دنیا",
"video"
],
"textContent": "**اسرائیل نے لبنان کے ساتھ مشروط جنگ بندی کے اعلان پر اتفاق کے چند گھنٹوں بعد ہی جمعرات کو جنوبی لبنان پر حملے کیے اور بیروت پر مزید حملوں کی دھمکی بھی دی۔**\n\nامریکہ کی ثالثی میں واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کے بعد جاری مشترکہ بیان کے مطابق اسرائیل اور لبنان نے بدھ کو جنگ بندی پر عمل درآمد کرنے پر اتفاق کیا تھا، تاہم اس کے لیے ایران کے حمایت یافتہ حزب اللہ کی جانب سے حملوں کا ’مکمل خاتمہ‘ ضروری قرار دیا گیا ہے۔\n\nبیان کے مطابق دونوں فریق، جن کے درمیان باقاعدہ سفارتی تعلقات موجود نہیں، اس بات پر بھی متفق ہوئے کہ ایسے ’پائلٹ زونز‘ قائم کیے جائیں گے جہاں لبنانی مسلح افواج علاقے کا ’مکمل اور خصوصی کنٹرول‘ سنبھالیں گی اور وہاں کسی بھی غیر ریاستی گروہ کی موجودگی نہیں ہوگی۔\n\nتاہم حزب اللہ، جو اسرائیل اور لبنان کے درمیان براہِ راست مذاکرات کو مسترد کرتی ہے، نے اس اعلان پر تاحال کوئی ردِعمل نہیں دیا، جبکہ اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔\n\nاے ایف پی کے مطابق اسرائیلی فوج نے ایک بار پھر لبنانی شہریوں کو دریائے زہرانی کے جنوب میں واقع علاقوں میں نہ جانے کی ہدایت جاری کی۔ یہ دریا جنوبی لبنان میں تقریباً 45 کلومیٹر اندر واقع ہے۔ اسرائیل نے گذشتہ ہفتے دریا کے جنوب میں واقع تمام علاقوں کو ’جنگی زون‘ قرار دیا تھا۔\n\nجمعرات کو اس سے قبل اسرائیلی فوج نے کہا کہ شمالی اسرائیل میں فضائی حملے کے سائرن بجائے گئے۔ ایک واقعے میں ’مشکوک فضائی ہدف‘ کی اطلاع ملی تھی، جسے بعد میں نمٹا لیا گیا، جبکہ دوسرے واقعے کو غلط الارم قرار دیا گیا۔\n\nدوسری جانب اعلان سے قبل حزب اللہ نے کہا تھا کہ اس نے جمعرات کی صبح جنوبی لبنان میں داخل ہونے والے اسرائیلی فوجیوں پر راکٹوں اور ڈرونز سے حملے کیے۔\n\nواشنگٹن میں مذاکرات کے بعد امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے مشترکہ بیان میں کہا گیا تھا کہ جنگ بندی کا انحصار حزب اللہ کی جانب سے فائرنگ کے ’مکمل خاتمے‘ اور جنوبی لبنان سے اس کے جنگجوؤں کے انخلا پر ہوگا۔\n\n3 جون 2026 کو واشنگٹن ڈی سی میں امریکی محکمۂ خارجہ میں امریکہ کی میزبانی میں ہونے والے اسرائیلی اور لبنانی وفود کے اجلاس میں اسرائیل کے امریکہ میں سفیر یخیئیل لیٹر، امریکی محکمۂ خارجہ کے چیف آف سٹاف ڈینیئل ہولر، لبنان میں امریکہ کے سفیر مشیل عیسیٰ اور امریکہ میں لبنان کی سفیر ندا حمادہ شریک ہیں (اے ایف پی)\n\n\n\n\nواشنگٹن میں ہونے والے یہ مذاکرات لبنانی اور اسرائیلی سفارت کاروں کے درمیان براہِ راست بات چیت کا چوتھا دور تھا۔ یہ مذاکرات دو مارچ کو شروع ہونے والی لڑائی کے بعد ہوئے، جب حزب اللہ نے ایران کی حمایت میں اسرائیل پر حملے دوبارہ شروع کیے تھے۔\n\nبیان کے مطابق، دونوں فریق 22 جون کے ہفتے میں مزید مذاکرات کریں گے تاکہ ’جامع معاہدے‘ تک پہنچا جا سکے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nیہ بھی کہا گیا کہ تمام ممالک نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان تعلقات کے مستقبل کا فیصلہ دونوں خودمختار حکومتیں کریں گی اور کسی بھی ریاستی یا غیر ریاستی فریق کی جانب سے لبنان کے مستقبل کو یرغمال بنانے کی ہر کوشش کو مسترد کر دیا گیا۔\n\nاس سے قبل بدھ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ لبنان کے تنازع پر ہونے والے مذاکرات کو ایران کے ساتھ جنگ سے متعلق بات چیت سے الگ رکھنا چاہتے ہیں۔\n\nتاہم تہران کا اصرار ہے کہ دونوں تنازعات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا تھا کہ بیروت پر کسی بھی حملے کی صورت میں جنگ ’مکمل شدت‘ سے دوبارہ شروع ہو جائے گی۔\n\nلبنان میں لڑائی روکنے کے لیے 17 اپریل سے جنگ بندی نافذ ہونا تھی، لیکن اس پر کبھی عمل نہیں ہوا اور دونوں فریق ایک دوسرے پر خلاف ورزیوں کا الزام لگا کر اپنے حملوں کا جواز پیش کرتے رہے ہیں۔\n\nحزب اللہ کے سینیئر عہدیدار محمود قماطی نے منگل کو اے ایف پی کو بتایا تھا کہ تنظیم ’جزوی جنگ بندی قبول نہیں کرے گی۔‘\n\n> View this post on Instagram\n>\n> A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)\n\nمنگل کو اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ حزب اللہ کے ارکان صور کے مسیحی علاقے میں سرگرم ہیں اور خبردار کیا تھا کہ اگر وہ وہاں موجود رہے تو شہریوں کو علاقہ خالی کرنے کی وارننگ دی جائے گی۔\n\nاے ایف پی کے ایک نمائندے کے مطابق بدھ کی صبح صور میں صورت حال نسبتاً پرسکون تھی، تاہم مسیحی علاقے کے کنارے گاڑیوں یا خیموں میں رات گزارنے والے بعض افراد شہر کے دیگر حصوں میں منتقل ہو گئے۔\n\nصور کو کسی بھی مسلح موجودگی سے پاک ’کھلا شہر‘ قرار دینے اور وہاں لبنانی فوج تعینات کرنے کے مطالبے پر مبنی ایک درخواست پر مقامی وکلا اور دانشوروں سمیت 180 سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں۔\n\nصور میں حزب اللہ کا مضبوط اثر و رسوخ موجود ہے، اور درخواست پر دستخط کرنے والے بعض افراد کو بعد ازاں سوشل میڈیا پر تنقید اور حملوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔\n\nجنوبی لبنان کے ایک اور بڑے شہر نبطیہ سے متعلق اسی نوعیت کی درخواست پر بھی 200 سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں۔ یہ شہر بھی اسرائیلی حملوں کی زد میں رہا ہے۔\n\nاسرائیل نے حالیہ دنوں میں اپنے حملوں میں شدت پیدا کر دی ہے اور گزشتہ دو دہائیوں میں لبنان کے اندر اپنی سب سے گہری زمینی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے۔\n\nلبنان\n\nاسرائیل\n\nامریکہ\n\nجنگ بندی\n\nحزب اللہ\n\nواشنگٹن میں مذاکرات کے بعد جاری مشترکہ بیان کے مطابق اسرائیل اور لبنان نے جنگ بندی پر عمل درآمد پر اتفاق کیا، تاہم اس کے لیے حزب اللہ کے حملوں کا ’مکمل خاتمہ‘ ضروری قرار دیا گیا۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nجمعرات, جون 4, 2026 - 13:45\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">چار جون 2026 کو جنوبی لبنان کے شہر نبطیہ میں اسرائیلی حملوں کے بعد دھواں اٹھتا دیکھا جا سکتا ہے (روئٹرز)</p>\n\nدنیا\n\njw id:\n\ndzSlqbAW\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nلبنان پر حملے، ایران نے امریکہ سے پیغامات کا تبادلہ بند کر دیا\n\nاسرائیل کوئی فوج بیروت نہیں بھیجے گا: ٹرمپ\n\nواشنگٹن میں مذاکرات کے دوران اسرائیل اور حزب اللہ کے ایک دوسرے پر حملے\n\nلبنان کی خودمختاری کے احترام کیا جائے: پاکستان کا مطالبہ\n\nSEO Title:\n\nجنگ بندی کے اعلان کے چند گھنٹے بعد ہی اسرائیل کے جنوبی لبنان پر حملے\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "جنگ بندی کے چند گھنٹے بعد ہی اسرائیل کے جنوبی لبنان پر حملے"
}