{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreic6yikofgxpwddwttpiqmxrdj5zmuuevppwscnmpdqznpnu56mbg4",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mnililxulck2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreidxcwbeof556hy2pgzjwcn76zno75cx7rtn7p7syksibjuylzyk7i"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 85256
  },
  "path": "/node/186168",
  "publishedAt": "2026-06-04T09:28:11.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "ماریو نوفال",
    "View this post on Instagram",
    "A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)",
    "ایران",
    "امریکہ",
    "پاکستان دفتر خارجہ",
    "قرۃ العین شیرازی",
    "پاکستان",
    "video"
  ],
  "textContent": "**پاکستان کے دفتر خارجہ نے جمعرات کو ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کویت اور بحرین پر ایران کے حالیہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ’کویت اور بحرین کو نشانہ بنانے والے ڈرون اور میزائل حملوں کی مذمت کرتا ہے۔‘**\n\nان کا کہنا تھا کہ پاکستان بطور سہولت کار اور ثالث ان رکاوٹوں یا جنگ بندی کو متاثر کرنے والے مسائل سے مایوس نہیں ہوگا۔ ’حالیہ حملوں کے تبادلے کے بعد صورت حال یقینا نازک ہے، تاہم ہم مسلسل رابطے میں ہیں اور متعلقہ فریقین کے ساتھ ہمارے مواصلاتی ذرائع کھلے ہوئے ہیں۔‘\n\nپاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے جمعرات کو ان رپورٹس کی بھی تردید کر دی کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات میں ایران سے متعلق کوئی انٹیلی جنس معلومات شیئر کیں۔\n\nاسحاق ڈار اور مارکو روبیو کے درمیان گذشتہ ماہ 29 مئی کو واشنگٹن میں ملاقات ہوئی تھی، جس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ امریکی وزیر خارجہ نے ایران کے ساتھ ثالثی کی کوششوں میں پاکستان کے کردار پر شکریہ ادا کیا جبکہ دونوں اطراف نے باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔\n\nبعدازاں کچھ ایسی میڈیا رپورٹس سامنے آئیں، جن میں دعویٰ کیا گیا کہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے امریکی وزیر خارجہ سے ایران سے متعلق کچھ خفیہ معلومات شیئر کی تھیں۔\n\nماریو نوفال کے ایکس ہینڈل سے کی گئی پوسٹ میں کہا گیا تھا کہ ’پاکستان کے وزیرِ خارجہ نے مارکو روبیو کے ساتھ ہفتے کے اختتام پر ایک براہِ راست گفتگو کی، جس میں یہ بات سامنے آئی کہ ایران اپنی آزادی کے تحفظ کے لیے کیا کرنے کے لیے تیار ہے اور اس سے وہ (روبیو) تشویش میں مبتلا ہو گئے۔‘\n\nپوسٹ میں سی آئی اے کے سابق تجزیہ کار لیری جانسن کے حوالے سے مزید کہا گیا کہ ’یہ بات اس کی وضاحت کر سکتی ہے کہ امریکہ کیوں خاموش ہو گیا ہے اور اس نے ایران کو اشتعال دلانا بند کر دیا ہے۔‘\n\nتاہم پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران اس کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا: ’ہم اس بات کو واضح طور پر مسترد کرتے ہیں کہ نائب وزیراعظم نے ایران سے متعلق کوئی خفیہ معلومات امریکی وزیرخارجہ کے ساتھ شیئر کیں۔‘\n\nان کا مزید کہنا تھا کہ ’ایسے تمام دعوے مکمل طور پر بے بنیاد اور محض قیاس آرائی پر مبنی ہیں اور بظاہر ان کا مقصد اس عمل کو نقصان پہنچانا ہے۔‘\n\n> View this post on Instagram\n>\n> A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)\n\n**’امن عمل میں رکاوٹوں کے باوجود حوصلہ نہیں ہاریں گے‘**\n\nپاکستان نے کہا ہے کہ وہ ایک ثالث کے طور پر ایران اور امریکہ کے درمیان امن عمل میں پیش آنے والی عارضی رکاوٹوں اور فریقین کے درمیان حملوں کے تبادلوں کے باوجود ’حوصلہ نہیں ہارے گا‘ اور امید ہے کہ ’معاہدہ جلد طے پائے گا۔‘\n\nمیڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا: ’ایک سہولت کار اور ثالث کے طور پر پاکستان ایسی رکاوٹوں یا غیر حل طلب مسائل سے ہرگز حوصلہ نہیں ہارے گا، جو جنگ بندی کو متاثر کر رہے ہیں۔ صورت حال اب بھی نازک ہے، خصوصاً حالیہ حملوں کے تبادلے کے بعد، لیکن ہم بدستور اس عمل میں شریک ہیں۔‘\n\nرواں برس 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں اور تہران کی جوابی کارروائیوں کے نتیجے میں جنگ کا دائرہ پورے خطے میں پھیل گیا۔\n\nبعدازاں امریکہ اور ایران میں عارضی جنگ بندی پر اتفاق ہوا جس کے بعد 11 اپریل کو پاکستان کی میزبانی میں دونوں ممالک کے درمیان براہ امن مذاکرات بھی ہوئے لیکن وہ نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئے۔ اس کے بعد سے پاکستان کی جانب سے ثالثی کی کوششیں مسلسل جاری ہیں۔\n\nترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ ثالثوں اور سہولت کاروں کو مذاکراتی عمل کے حوالے سے مثبت طرز عمل اپنانا چاہیے۔ ’متعلقہ فریقوں کے ساتھ ہمارے رابطے کے ذرائع کھلے ہیں اور ہم اس صورت حال کو اسی امید اور مثبت سوچ کے ساتھ دیکھ رہے ہیں جو کسی بھی ثالث یا سہولت کار کے لیے ضروری ہوتی ہے۔‘\n\nترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان کی پالیسی اس معاملے پر واضح ہے۔ ’گذشتہ ماہ جب مذاکراتی عمل میں پیش رفت اور مثبت ماحول پیدا ہوا تھا تو پاکستان نے اس عمل کی حمایت اور معاونت کے لیے اپنی آمادگی ظاہر کی تھی۔‘\n\nانہوں نے کہا کہ اگر مذاکراتی عمل میں دوبارہ پیش رفت پیدا ہوتی ہے تو پاکستان اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار رہے گا۔ ’ہم ایسی تمام کوششوں کی حمایت جاری رکھیں گے جو مذاکرات کو کامیاب انجام تک پہنچانے میں مددگار ثابت ہوں اور ہم چاہتے ہیں کہ معاہدہ جلد از جلد طے پا جائے۔‘\n\n> View this post on Instagram\n>\n> A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)\n\n**خلیجی ممالک پر حملے**\n\nبریفنگ کے دوران ترجمان طاہر اندرابی سے سوال کیا گیا کہ ایران پر حالیہ حملوں اور اس کے جواب میں کویت پر حملوں کے بعد پاکستان کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، جبکہ فریقین ایک دوسرے پر الزامات بھی عائد کر رہے ہیں۔ اس صورت حال پر پاکستان کا کیا مؤقف ہے؟\n\nجس پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان امید کرتا ہے کہ ’تمام فریق جنگ بندی کی پاسداری کریں گے اور جنگ بندی برقرار رہے گی۔‘\n\nانہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے واقعات کسی پائیدار معاہدے کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنتے ہیں۔ بقول طاہر اندرابی: ’جب بھی کشیدگی یا مسلح جھڑپیں ہوتی ہیں تو مکالمے اور سفارت کاری کے لیے دستیاب گنجائش کم ہو جاتی ہے۔‘\n\nترجمان نے کہا کہ پاکستان بطور سہولت کار اور ثالث ان رکاوٹوں یا جنگ بندی کو متاثر کرنے والے مسائل سے مایوس نہیں ہوگا۔ ’حالیہ حملوں کے تبادلے کے بعد صورت حال یقینا نازک ہے، تاہم ہم مسلسل رابطے میں ہیں اور متعلقہ فریقین کے ساتھ ہمارے مواصلاتی ذرائع کھلے ہوئے ہیں۔‘\n\nان کا کہنا تھا کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ ابھرنے والے چیلنجز کو وسیع تر مذاکراتی عمل کو متاثر نہیں کرنے دینا چاہیے۔\n\nکویت سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان ’کویت اور بحرین کو نشانہ بنانے والے ڈرون اور میزائل حملوں کی مذمت کرتا ہے۔‘\n\nانہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان اس سے قبل متحدہ عرب امارات پر ہونے والے حملوں کی بھی مذمت کر چکا ہے، جن میں شہری اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا، جبکہ سعودی عرب پر حملوں کی بھی مذمت کی گئی تھی۔\n\n> View this post on Instagram\n>\n> A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)\n\nطاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان خطے کے تمام ممالک کی ’خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت‘ کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔\n\nان کے مطابق موجودہ کشیدہ صورت حال میں تمام فریقین کو ’زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے، مزید کشیدگی سے گریز کرنا چاہیے، شہریوں اور شہری تنصیبات کو خطرے میں ڈالنے والے اقدامات سے باز رہنا چاہیے اور مسائل کے حل کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔‘\n\nترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان خطے میں امن اور سلامتی کے فروغ کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا اور خلیجی خطے اور وسیع تر خطے میں استحکام کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ کام کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔\n\nایک ضمنی سوال میں ترجمان سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستان ایران پر ہونے والے حملے کی بھی مذمت کرتا ہے؟ اس پر طاہر اندرابی نے کہا کہ ’ہم تمام فریقین کی جانب سے ہونے والے حملوں اور دشمنانہ کارروائیوں کی مذمت کرتے ہیں۔‘\n\nان کا کہنا تھا کہ ’کوئی بھی ایسا اقدام جو کشیدگی میں اضافہ کرے اور مکالمے اور سفارت کاری کے لیے موجود گنجائش کو محدود کرے، باعث تشویش ہے۔ اسی طرح کوئی بھی حملہ یا کارروائی جو پر امن روابط اور مذاکراتی کوششوں کو نقصان پہنچائے، افسوس ناک ہے اور اس سے گریز کیا جانا چاہیے۔‘\n\n**’اسلام آباد افغانستان کے ساتھ مذاکرات اور سفارت کاری کا حامی‘**\n\nپاکستانی اور افغان حکام کے درمیان استنبول میں ممکنہ ملاقات کی خبروں سے متعلق انڈپینڈنٹ اردو کے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ’مجھے اس وقت ایسی کسی پیش رفت کا علم نہیں۔‘ تاہم انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان سمیت تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ ’مذاکرات اور سفارت کاری‘ پر یقین رکھتا ہے۔\n\nانہوں نے کہا کہ ’پاکستان اور افغانستان کے درمیان برادرانہ تعلقات ہیں۔ دونوں ممالک مشترکہ تاریخ، ثقافت اور گہرے لسانی و سماجی روابط رکھتے ہیں۔ اسی لیے پاکستان کے لیے افغانستان کے ساتھ مذاکرات اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں۔‘\n\nترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان حالیہ عرصے تک اسی پالیسی پر عمل پیرا رہا، تاہم افغانستان سے ہونے والے دہشت گرد حملوں، جن میں ’افغان انتظامیہ کے بعض عناصر کے ممکنہ تعاون کا بھی شبہ ہے، نے پاکستان کے تحمل کی حد عبور کی، جس کے بعد اسلام آباد نے زیادہ سخت مؤقف اختیار کیا اور بعض اقدامات بھی کیے۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nساتھ ہی انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا۔ ’ہم مذاکرات چاہتے ہیں اور سفارت کاری کے راستے پر چلنا چاہتے ہیں۔‘\n\nطاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان افغان سرزمین پر موجود ایسے عناصر کی جانب سے پاکستانی شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی اموات کو قبول نہیں کر سکتا، جو مبینہ طور پر افغانستان میں موجود ہیں یا وہاں کے بعض عناصر کی معاونت سے سرگرم ہیں۔\n\nانہوں نے کہا کہ پاکستان افغان حکام سے ’واضح اور قابلِ تصدیق یقین دہانیاں مانگتا رہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔‘\n\nترجمان کے مطابق یہی مؤقف چین سمیت دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کے سامنے بھی رکھا گیا ہے، جن میں حالیہ پاکستان۔یورپی یونین مذاکرات بھی شامل ہیں۔\n\nانہوں نے بتایا کہ چین کے نائب وزیر خارجہ سن ویڈونگ نے حال ہی میں اسلام آباد کا دورہ کیا، جہاں علاقائی سلامتی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔\n\nان کے مطابق بات چیت میں نہ صرف تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) بلکہ ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم) کے خطرے پر بھی گفتگو ہوئی، جسے پاکستان اور چین دونوں کے لیے خطرہ قرار دیا جاتا ہے۔\n\nطاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان اور چین نے انسدادِ دہشت گردی کے شعبے میں رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے تاکہ علاقائی امن و سلامتی کا تحفظ کیا جا سکے۔\n\nایران\n\nامریکہ\n\nپاکستان دفتر خارجہ\n\nجمعرات کو نیوز بریفنگ میں دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان ’کویت اور بحرین کو نشانہ بنانے والے ڈرون اور میزائل حملوں کی مذمت کرتا ہے۔‘\n\nقرۃ العین شیرازی\n\nجمعرات, جون 4, 2026 - 17:15\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی چار جون 2026 کو اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران (دفتر خارجہ فیس بک اکاؤنٹ)</p>\n\nپاکستان\n\njw id:\n\n0lKqGP3g\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nامریکہ اور ایران میں دوبارہ کشیدگی، مذاکرات تعطل کا شکار\n\n’جنگ بندی برقرار رکھنا ضروری:‘ پاکستانی اور ایرانی وزیر خارجہ کی گفتگو\n\nلبنان پر حملے، ایران نے امریکہ سے پیغامات کا تبادلہ بند کر دیا\n\nامریکی ایوان نمائندگان میں ایران کے خلاف جنگ روکنے کی قرارداد منظور\n\nSEO Title:\n\nکویت اور بحرین پر ڈرون اور میزائل حملوں کی مذمت کرتے ہیں: پاکستان\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "کویت اور بحرین پر ڈرون اور میزائل حملوں کی مذمت کرتے ہیں: پاکستان"
}