{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreiato6ouwqwfpqpypwnlnjciiee6kraelbg3b5lzumx562sde4np6e",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mnilic6xpxi2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreibekrtokyytzvb4dep6dsbdsxqssuajvav5nnkitacj2t4fsbxrcq"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 38539
  },
  "path": "/node/186169",
  "publishedAt": "2026-06-04T11:09:14.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "پاکستان",
    "سندھ",
    "آندھی",
    "طوفان",
    "اموات",
    "محکمہ موسمیات",
    "موسمیاتی تبدیلی",
    "ممتاز جمالی",
    "ماحولیات",
    "video"
  ],
  "textContent": "**سندھ کے مختلف اضلاع میں یکم اور دو جون کو آنے والی آندھی اور تیز ہواؤں کے طوفان کے نتیجے میں کم از کم 16 افراد جان سے گئے جبکہ 96 افراد زخمی ہوئے۔**\n\nچار جون کو صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق حالیہ بارشوں اور طوفان کے دوران سب سے زیادہ جانی نقصان شہید بے نظیر آباد میں ہوا، کشمور اور گھوٹکیم تھرپارکر اور قمبر میں بھی آندھی طوفان سے جانی نقصان رپورٹ ہوئے۔\n\n**تیز ہواؤں کے ساتھ طوفان کیوں آتے ہیں؟**\n\nمحکمہ موسمیات کے ڈپٹی ڈائریکٹر انجم نذیر ضیغم کے مطابق شدید گرم اور نسبتاً ٹھنڈی ہواؤں کے ملاپ سے ایسے طوفان جنم لیتے ہیں۔\n\nانہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا: ’اگر سندھ اور پنجاب کے بارانی علاقوں کے موسمی حالات کا جائزہ لیا جائے تو مئی اور جون کے مہینوں میں شدید گرمی پڑتی ہے۔\n\n’گذشتہ ماہ مئی کے آخر میں ایک شدید ہیٹ ویو نے سندھ کو متاثر کیا، جس کے نتیجے میں بالائی اور مغربی اضلاع میں درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب پہنچ گیا اور بعض مقامات پر اس سے بھی تجاوز کر گیا۔‘\n\nان کے مطابق شدید گرمی کے باعث نچلی فضائی تہوں میں بڑی مقدار میں حرارتی توانائی جمع ہو گئی تھی۔\n\nانجم نذیر ضیغم نے بتایا: ’یکم جون کی شام سے مغربی ہواؤں کا ایک سلسلہ ملک میں داخل ہوا۔ یہ نسبتاً ٹھنڈی ہوائیں شمال مغربی سمت سے آتی ہیں۔ جب یہ ٹھنڈی ہوائیں پہلے سے موجود انتہائی گرم اور کم دباؤ والے علاقوں سے ٹکراتی ہیں تو درجہ حرارت کے شدید فرق کے باعث فضا میں عدم استحکام پیدا ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں آندھیاں اور گرد آلود طوفان بنتے ہیں۔'\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nانجم نذیر ضیغم کے مطابق سندھ کے میدانی علاقوں میں شدید گرمی کے باعث پہلے ہی کم دباؤ موجود تھا، جس کی وجہ سے تیز رفتار ہوائیں ان علاقوں کی جانب کھنچی چلی آئیں اور بعض مقامات پر شدید طوفانی صورت حال پیدا ہوئی۔\n\n**کیا مستقبل قریب میں ایسے مزید طوفان آ سکتے ہیں؟**\n\nمحکمہ موسمیات کے مطابق سندھ میں ایک مرتبہ پھر گرمی کی شدت بڑھنے کا امکان ہے۔\n\nانجم نذیر ضیغم نے بتایا :'پیر سے سندھ کے مغربی علاقوں میں ہیٹ ویو کی صورت حال پیدا ہو رہی ہے اور بعض مقامات پر درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر سکتا ہے۔ اگر جون کے آخر میں دوبارہ مغربی ہواؤں کا کوئی سلسلہ ملک میں داخل ہوا تو شدید آندھی یا طوفان کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔'\n\nماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ہیٹ ویوز کی شدت اور دورانیہ بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں شدید گرم اور ٹھنڈی ہواؤں کے ٹکراؤ سے پیدا ہونے والے موسمی واقعات بھی زیادہ شدت اختیار کر سکتے ہیں۔\n\nپاکستان\n\nسندھ\n\nآندھی\n\nطوفان\n\nاموات\n\nمحکمہ موسمیات\n\nموسمیاتی تبدیلی\n\nماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ہیٹ ویوز کی شدت اور دورانیہ بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں شدید موسمی واقعات بھی زیادہ شدت اختیار کر سکتے ہیں۔\n\nممتاز جمالی\n\nجمعرات, جون 4, 2026 - 16:00\n\nMain image:\n\n> <p>دو جولائی 2009 کو پاکستان کے جلو زئی کیمپ میں گرد کے طوفان کے دوران ایک شخص اپنے خیمے کے باہر بیٹھا ہے (روئٹرز)</p>\n\nماحولیات\n\njw id:\n\nADC0hUYT\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nکراچی میں طوفانی بارشیں: دیواریں گرنے اور کرنٹ لگنے سے 6 اموات\n\nآندھی، طوفان سے سولر پینلز کو محفوظ بنانے کا طریقہ کیا ہے؟\n\nآندھیاں ہمیں پیغام دینے آئی تھیں\n\nآندھی، طوفان سے سولر پینلز کو محفوظ بنانے کا طریقہ کیا ہے؟\n\nSEO Title:\n\nسندھ میں آندھی سے 16 اموات، ایسے طوفان کیوں آتے ہیں؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "سندھ میں آندھی سے 16 اموات، ایسے طوفان کیوں آتے ہیں؟"
}