{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreih5jrjdnldqrtcxpm24nyot6troh7vfaoyb2dmokxlnqlln3iyrqq",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mnili5lbcuy2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreic55rmgab2kzg7b5nklvm7tgkacdxqs5zf2lknhmkbmqgatcnzuuu"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 86669
  },
  "path": "/node/186170",
  "publishedAt": "2026-06-04T12:24:17.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "نور مقدم قتل کیس",
    "سپریم کورٹ",
    "ظاہر جعفر",
    "سزائے موت",
    "قرۃ العین شیرازی",
    "پاکستان",
    "video"
  ],
  "textContent": "**سپریم کورٹ نے جمعرات کو نور مقدم قتل کیس کے مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت کے خلاف نظرثانی درخواست خارج کر دی۔**\n\nجسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے آج سپریم کورٹ کے سزائے موت کے فیصلے کو برقرار رکھا۔\n\nسماعت کے دوران ظاہر جعفر کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ’ٹرائل کورٹ میں رپورٹ ہوا مجرم خود کو روحانی پیشوا اور مقتولہ کو قربانی کا جانور سمجھ رہا تھا۔ میرا موکل ذہنی مریض ہے وہ دستخط تک ٹھیک نہیں کر سکتا۔‘\n\nجسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ’ہمیں بھی صبح اخبار پڑھ کر پریشانی ہوتی ہے، کچھ لوگوں کی اونچی آواز میں وی لاگ کرنے کی عادت ہوتی ہے۔‘\n\nجسٹس صلاح الدین پہنور نے ریمارکس دیے کہ طبی تاریخ (میڈیکل ہسٹری) بہت طویل ہوتی ہے۔\n\nجسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا ’آج عدالت دیگر تمام مقدمات ملتوی کر رہی ہے، ویسے بھی آج ہمارے بچے یہاں موجود نہیں۔’\n\nسماعت کے دوران خواجہ حارث نے ٹرائل کے دوران ہونے والی میڈیا رپورٹنگ کا حوالہ دیا، جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا ’ہم یہاں خبریں سننے کے لیے نہیں بیٹھے ہوئے۔‘\n\nجسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ بعض اوقات عدالت کچھ کہتی ہے لیکن رپورٹ کچھ اور ہوتا ہے۔\n\nان کا کہنا تھا کہ اخبار میں رپورٹنگ ایک طرح کی ہوتی ہے جبکہ وی لاگ میں کچھ اور کہا جاتا ہے، تو جسٹس صلاح الدین پہنور نے کہا کہ ہر شخص اپنی اپنی رائے کا اظہار کرتا ہے۔\n\nخواجہ حارث کے دلائل مکمل ہونے کے بعد نور مقدم کے والدین کے وکیل شاہ خاور نے دلائل دیتے ہوئے کہا ’ظاہر جعفر کو 20 جولائی کو جائے وقوعہ سے گرفتار کیا گیا۔ جسمانی ریمانڈ سے جوڈیشل ریمانڈ میں منتقلی کے دوران بھی ملزم کو سینیئر وکیل کی خدمات حاصل تھیں۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nانہوں نے بتایا کہ چالان، فرد جرم اور جرح کے مراحل میں بھی لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک سینیئر فوجداری وکیل ملزم کی نمائندگی کرتے رہے۔\n\nلاہور ہائی کورٹ کے سابق جج سکندر ذالقرنین بھی ملزم کے وکیل رہے جبکہ بعد ازاں عدالت نے ان کے لیے سٹیٹ کونسل مقرر کیا۔\n\nشاہ خاور کے مطابق ’ظاہر جعفر نے ضابطہ فوجداری کی دفعات 342 اور 265 کے تحت اپنے بیانات خود ریکارڈ کروائے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ذہنی طور پر مکمل طور پر صحت مند تھا۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا کہ ملزم کے والدین بھی اس مقدمے میں شریک ملزمان تھے اور انہیں بھی وکلا کی خدمات حاصل تھیں، تاہم انہوں نے ’کبھی یہ موقف اختیار نہیں کیا کہ ان کا بیٹا ذہنی طور پر بیمار یا نااہل ہے۔‘\n\nان کے مطابق ٹرائل کورٹ کے جج نے خود بھی اور جیل کے ڈاکٹر کے ذریعے بھی ملزم کی ذہنی حالت کا جائزہ لیا تھا اور دونوں اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ ملزم ذہنی طور پر صحت مند ہے۔\n\nشاہ خاور نے عدالت کو بتایا کہ ٹرائل کورٹ نے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ملزم کی درخواست مسترد کر دی تھی اور اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج بھی نہیں کیا گیا۔\n\nانہوں نے مزید کہا کہ جائے وقوعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیجز بھی ٹرائل کورٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک مختلف عدالتی مراحل میں چلائی گئیں۔\n\nبعد ازاں شاہ خاور نے عدالت سے استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ظاہر جعفر کی نظرثانی درخواست مسترد کر دی جائے۔\n\n20 جولائی، 2021 کی شام اسلام آباد کے سیکٹر ایف سیون میں سابق سفیر شوکت مقدم کی بیٹی نور مقدم کا بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا اور ملزم ظاہر کو موقعے سے حراست میں لے لیا گیا۔\n\nظاہر مشہور بزنس مین ذاکر جعفر کے بیٹے ہیں۔ پولیس نے 24 جولائی کو جرم کی اعانت اور شواہد چھپانے کے جرم میں ملزم کے والدین ذاکر جعفر اور ان کی اہلیہ عصمت آدم جی سمیت دو گھریلو ملازمین کو بھی تفتیش کے لیے حراست میں لیا تھا۔\n\n24 فروری، 2022 کو اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے قتل کے جرم میں ظاہر کو تعزیرات پاکستان دفعہ 302 کے تحت سزائے موت، جبکہ ریپ کے جرم میں 25 سال قید بامشقت کی سزا اور دو لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔\n\nاغوا کے جرم میں 10 سال قید بامشقت کی سزا اور ایک لاکھ روپے جرمانہ علیحدہ سے عائد کیا گیا۔\n\nظاہر والدین کو بری کر دیا گیا جبکہ مالی جان محمد اور چوکیدار افتخار کو 10، 10 سال کی قید سنائی گئی۔\n\nاسلام آباد ہائی کورٹ نے سزاؤں کے خلاف اپیلوں کو خارج کرتے ہوئے ظاہر جعفر کو ریپ کے جرم میں 25 سال قید کی سزا کو سزائے موت میں تبدیل کر دیا تھا۔\n\nاسلام آباد ہائی کورٹ نے ظاہر جعفر کو دو مرتبہ سزائے موت کا فیصلہ سنایا تھا۔\n\nنور مقدم قتل کیس\n\nسپریم کورٹ\n\nظاہر جعفر\n\nسزائے موت\n\nسپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس کے مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت کے خلاف نظر ثانی درخواست خارج کر دی۔\n\nقرۃ العین شیرازی\n\nجمعرات, جون 4, 2026 - 17:15\n\nMain image:\n\n> <p>نورمقدم قتل کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو 20 اکتوبر، 2021 کو عدالت میں پیشی کے بعد پولیس اہلکار واپس لے جا رہے ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nپاکستان\n\njw id:\n\n9U74zzme\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nنور مقدم کیس میں اختلافی نوٹ: چند سلگتے سوالات\n\n’نور مقدم کیس لیو ان ریلیشن شپ کی مثال:‘ جج کے نوٹ پر بحث\n\nنور مقدم قتل کیس: مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت کا فیصلہ برقرار\n\nنور مقدم مقدمہ: سپریم کورٹ نے کس ’خاموش گواہ‘ کا سہارا لیا؟\n\nSEO Title:\n\nنور مقدم کیس: سپریم کورٹ میں مجرم کی سزائے موت کے خلاف نظر ثانی اپیل رد\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "نور مقدم کیس: سپریم کورٹ میں مجرم کی سزائے موت کے خلاف نظر ثانی اپیل رد"
}