{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreignhjenoupcqbosy74m4upfnvmpjryhztpimrgdy6ureyknv6ihmq",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mnfud5s4zdz2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreidkklpjtjyj2r7j56juewvowygsrbgq6sgpdotfvc34mnzszqpkxu"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 45930
  },
  "path": "/node/186154",
  "publishedAt": "2026-06-03T11:07:34.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "موٹر وے ریپ کیس",
    "لاہور ہائی کورٹ",
    "ارشد چوہدری",
    "پاکستان",
    "news"
  ],
  "textContent": "**لاہور ہائی کورٹ نے موٹروے ریپ کیس کے مجرموں عابد ملہی اور شفقت بگا کی سزائے موت کے خلاف دائر اپیلیں مسترد کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔**\n\nیہ واقعہ نو ستمبر، 2020 کو پیش آیا تھا، جہاں موٹروے پر گاڑی خراب ہونے کے باعث محصور خاتون کو ان کے بچوں کے سامنے ڈکیتی کے دوران ریپ کا نشانہ بنایا گیا۔\n\nاس واقعے نے ملک بھر میں شدید عوامی غیظ و غضب کو جنم دیا اور خواتین کے تحفظ سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر بحث چھیڑ دی تھی۔\n\nمجرموں کی گرفتاری کئی ہفتوں تک صوبائی پولیس کے لیے بڑا چیلنج بنی رہی اور بالاآخر جب انہیں گرفتار کیا گیا تو حکام نے باقاعدہ پریس کانفرنس کے ذریعے اس کا اعلان کیا تھا۔\n\nجسٹس سید شہباز علی رضوی کی سربراہی میں قائم دو رکنی بینچ نے مجرموں کی اپیلوں پر تفصیلی سماعت کی۔\n\nدرخواست گزاروں کے وکیل محمد قاسم نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ٹرائل کورٹ نے مقدمے کے حقائق کا درست جائزہ نہیں لیا اور دفاع کے دلائل کو مناسب اہمیت نہیں دی گئی۔\n\nانہوں نے استدعا کی کہ انسداد دہشت گردی عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر دونوں کو بری کیا جائے۔\n\nوہ کار جس میں متاثرہ خاتون اپنے بچوں کے ہمراہ موٹر وے پر سفر کر رہی تھیں (پنجاب پولیس)\n\n\n\n\nپراسیکیوٹر راحیلہ شاہد نے اپیلوں کی بھرپور مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے تمام شواہد اور گواہیوں کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد قانون کے مطابق فیصلہ سنایا۔\n\nانہوں نے عدالت کو بتایا کہ دونوں مجرموں کے خلاف ٹھوس، سائنسی اور ناقابل تردید شواہد موجود ہیں، لہٰذا ان کی اپیلیں مسترد کی جائیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nعدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا، جسے آج سناتے ہوئے دونوں مجرموں کی اپیلیں خارج کر دی گئیں اور سزا برقرار رکھنے کا حکم دیا گیا۔\n\n20 مارچ، 2021 کو لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نمبر ایک نے عابد ملہی اور شفقت بگا کو ریپ، اغوا، ڈکیتی اور دیگر سنگین جرائم میں قصوروار قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی تھی۔\n\nاس کے علاوہ انہیں دیگر دفعات کے تحت قید اور جرمانے کی سزائیں بھی دی گئی تھیں، جس کے بعد 25 مارچ، 2021 کو دونوں مجرموں نے فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا تھا۔\n\nاپیل میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ استغاثہ الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا اور تفتیش و شواہد میں واضح تضادات موجود ہیں۔\n\nتاہم، لاہور ہائی کورٹ نے تمام ریکارڈ اور دلائل کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو درست قرار دیا۔\n\nمجرمان کے وکیل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا قانونی حق استعمال کریں گے۔\n\nموٹر وے ریپ کیس\n\nلاہور ہائی کورٹ\n\nعابد ملہی اور شفقت بگا نے نو ستمبر، 2020 کو موٹر وے پر بچوں کے سامنے ایک خاتون کے ریپ اور ڈکیتی پر ملنے والی سزائے موت کے خلاف اپیلیں دائر کر رکھی تھیں۔\n\nارشد چوہدری\n\nبدھ, جون 3, 2026 - 16:00\n\nMain image:\n\n> <p>پنجاب پولیس کی جانب سے جاری کردہ عابد ملہی کی تصویر</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nڈراما ’حادثہ‘ کا موضوع موٹر وے ریپ کیس ہے؟\n\nموٹر وے ریپ:کیا اداروں میں تعاون نہ ہونے پر ملزم فرار ہوئے؟\n\nموٹر وے ریپ کیس: غلط سے صحیح تک\n\nموٹر وے ریپ کیس کے بعد خواتین کے لیے مفت سیلف ڈیفنس کورس\n\nSEO Title:\n\nلاہور ہائی کورٹ: موٹروے ریپ کیس کے دونوں مجرموں کی سزائے موت برقرار\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "لاہور ہائی کورٹ: موٹروے ریپ کیس کے دونوں مجرموں کی سزائے موت برقرار"
}