{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreibm5pjvtdj25pclg34vpgnmonkawaujhzutomjqqx4zwm7rzpfhrm",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mnfud2fbyze2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreib27imkwsn5cbrtne2odzujslxvxgxxnu4ng6c2nrmqjuv5m3hm3a"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 143079
  },
  "path": "/node/186155",
  "publishedAt": "2026-06-03T11:20:07.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "کراچی",
    "ٹریفک",
    "چالان",
    "ممتاز جمالی",
    "پاکستان",
    "video"
  ],
  "textContent": "**کراچی میں ڈی آئی جی ٹریفک کے حکم پر یکم جون سے لین ڈسپلن کی خلاف ورزی پر کارروائی شروع کر دی گئی ہے اور ٹریفک ریگولیشن اینڈ سائیٹیشن سسٹم (ٹریکس) کے مطابق پہلے ہی دن مجموعی طور پر 96 چالان جاری کیے گئے، جن میں بڑی بسیں، کوسٹر، ڈبل کیبن اور دیگر گاڑیاں شامل ہیں۔**\n\nٹریکس کے انچارج ڈی ایس پی ملہیر خان کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد شہریوں میں ٹریفک نظم و ضبط قائم کرنا اور سڑکوں پر حفاظت کو بہتر بنانا ہے۔\n\nانہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا :’ٹریفک انفورسمنٹ کا مقصد شہریوں میں ڈسپلن قائم کرنا اور سڑکوں پر شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ اسی لیے ڈیجیٹل انفورسمنٹ کا آغاز کیا گیا ہے۔‘\n\nڈی ایس پی کے مطابق شہر کی 14 کلومیٹر طویل شاہراہ فیصل کو ماڈل روڈ کے طور پر منتخب کیا گیا ہے، جہاں لین سسٹم کا باقاعدہ نفاذ کیا جا رہا ہے۔\n\nانہوں نے بتایا کہ :’لین خلاف ورزی نظام کے نفاذ سے قبل ایک ماہ تک آگاہی مہم بھی چلائی گئی تاکہ شہریوں کو لین سسٹم اور اس کی تقسیم کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کی جا سکیں۔\n\nتین لینز کا نظام کیسے کام کرتا ہے؟\n\nڈی ایس پی ملہیر خان کے مطابق شاہراہ فیصل پر تین واضح لینز مختص کی گئی ہیں :’دائیں جانب فاسٹ لین کاروں اور ڈبل کیبن گاڑیوں کے لیے، درمیانی لین بس ٹرک سمیت بڑی گاڑیوں کے لیے جبکہ بائیں جانب لین موٹر سائیکلوں کے لیے مختص ہے۔‘\n\nانچارج ٹریکس کے مطابق جدید کیمرہ سسٹم ہر گاڑی کی لین مانیٹرنگ کرتا ہے، اور خلاف ورزی کی صورت میں خودکار ای چالان جاری کر دیا جاتا ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nانہوں نے بتایا کہ :’لین خلاف ورزی پر موٹر سائیکل پر 5 ہزار روپے کا جرمانہ، کار اور ڈبل کیبن پر 10 ہزار روپے جبکہ بڑی گاڑیوں کیلئے 15 سے 20 ہزار روپے جرمانہ عائد کیے جا رہے ہیں۔‘\n\nنئے نظام پر شہریوں کی رائے منقسم\n\nموٹر سائیکل چلانے والے شہری ریحان احمد نے اسے غیر عملی قرار دے دیا، انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ :’کراچی میں آبادی اور ٹریفک کا دباؤ بہت زیادہ ہے، سڑکوں کی حالت بہتر کیے بغیر صرف چالان سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ جگہ جگہ کھڈوں کی وجہ سے گاڑیاں لین بدلنے پر مجبور ہوتی ہیں۔‘\n\nدوسری جانب شہری فاروق احمد نے اس اقدام کو مثبت قرار دیا۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو کو انہوں نے بتایا کہ :’موٹر سائیکل سوار اکثر اپنی لین میں نہیں چلتے، جس سے حادثات بڑھتے ہیں۔ یہ اقدام ٹریفک نظم و ضبط بہتر کرے گا۔‘\n\nکراچی\n\nٹریفک\n\nچالان\n\nٹریفک ریگولیشن اینڈ سائیٹیشن سسٹم کے مطابق پہلے ہی دن مجموعی طور پر 96 چالان جاری کیے گئے، جن میں بڑی بسیں، کوسٹر، ڈبل کیبن اور دیگر گاڑیاں شامل ہیں۔\n\nممتاز جمالی\n\nبدھ, جون 3, 2026 - 16:15\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">ڈی ایس پی کے مطابق شہر کی 14 کلومیٹر طویل شاہراہ فیصل کو ماڈل روڈ کے طور پر منتخب کیا گیا ہے، جہاں لین سسٹم کا باقاعدہ نفاذ کیا جا رہا ہے(تصویر: انڈپینڈنٹ اردو)</p>\n\nپاکستان\n\njw id:\n\nzHBPtuO0\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nکیمرہ تھامنے سے کپڑے استری تک کا سفر: کراچی کے کیمرہ مین کی کہانی\n\n’وقت کا محافظ‘: کراچی کے احمد انور نے گھر کو میوزیم بنا دیا\n\nکراچی: نوجوان کی کرنٹ لگنے سے موت کے 7 سال بعد کے الیکٹرک پر ہرجانہ\n\n’پنکی‘ کے نیٹ ورک میں غیر ملکی خواتین بھی شامل، تحقیقات کراچی تک محدود نہیں: پولیس\n\nSEO Title:\n\nکراچی: ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر فیس لیس ٹریفک چالان کا سسٹم کیسے چلے گا؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "کراچی: ٹوٹی سڑکوں پر فیس لیس ٹریفک چالان کا سسٹم کیسے چلے گا؟"
}