{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreihvhen2n5dpoemgs4atnwtohqkq7e7xoyiuy7mrifdgtbsxxyjxaq",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mnfucssmnkz2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreie24abeh2a6lrofcxn4trz56vfhhw7i4ocl4oa3i2fxp435p2afbq"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 105294
  },
  "path": "/node/186156",
  "publishedAt": "2026-06-03T12:12:58.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "پاکستان",
    "پاکستانی معیشت",
    "شہباز حکومت",
    "کاروبار",
    "برآمدات",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "معیشت",
    "news"
  ],
  "textContent": "**وزیر اعظم شہباز شریف نے بدھ کو کہا ہے کہ آئندہ وفاقی بجٹ 2026-27 میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے اقدامات شامل کیے جا رہے ہیں جبکہ حکومت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کے تحت معاشی بحالی اور مالیاتی نظم و ضبط کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔**\n\nوزیر اعظم نے اسلام آباد میں ملک کے سرکردہ صنعت کاروں اور کاروباری رہنماؤں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی معاشی پالیسی کا بنیادی ستون برآمدات پر مبنی ترقی ہے۔\n\nپاکستان گذشتہ دو برس سے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت معاشی اصلاحات پر عمل کر رہا ہے، جن میں ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا، توانائی کے شعبے کے نقصانات میں کمی اور سرمایہ کاری کے فروغ کے اقدامات شامل ہیں۔\n\nحکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے معیشت مستحکم ہوئی ہے، تاہم کاروباری طبقہ اب بھی ٹیکسوں میں کمی، سستی توانائی اور پیداواری لاگت کم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔\n\nشہباز شریف نے کہا: ’ہم برآمدات پر مبنی ترقی کی راہ پر گامزن ہیں، یہی ہماری معاشی پالیسی کی بنیاد ہے۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا کہ حکومت معیشت کو مستحکم کرنے اور ترقی کی رفتار کو تیز کرنے کے لیے اصلاحات جاری رکھے ہوئے ہے۔\n\nبریفنگ کے مطابق حکومت نے شرکا کو ٹیکس اصلاحات، ٹربیونلز میں تبدیلیوں، خصوصی کمرشل عدالتوں کے قیام اور غیر دستاویزی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے اقدامات سے آگاہ کیا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nاعلامیے میں کہا گیا کہ معیشت کو جدید بنانے اور پیداواری صلاحیت بہتر کرنے کے لیے نیشنل اے آئی ٹرانسفارمیشن پلان بھی تیار کیا جا رہا ہے۔\n\nاجلاس میں انفراسٹرکچر اور لاجسٹکس سے متعلق منصوبوں پر بھی گفتگو کی گئی جن میں کراچی کی فریٹ کنیکٹیویٹی میں بہتری، ایم-13 موٹروے اور پاکستان ریلوے کے ایم ایل-1 اور ایم ایل-2 نیٹ ورکس کی اپ گریڈیشن شامل ہیں۔\n\nوزیر اعظم آفس کے مطابق کاروباری رہنماؤں نے آئندہ بجٹ اور معاشی پالیسی پر تجاویز پیش کیں اور حکومت کی معاشی استحکام اور سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے کی کوششوں کی حمایت کی۔\n\nکاروباری شخصیات نے ٹیکس اصلاحات، سرمایہ کاری مراعات اور صنعتی مسابقت بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ حالیہ معاشی استحکام کو پائیدار برآمدات پر مبنی ترقی میں تبدیل کیا جا سکے۔\n\nانہوں نے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے، غیر دستاویزی شعبوں کو معیشت میں لانے اور ٹیکس ادا کرنے والوں پر بوجھ کم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔\n\nکاروباری رہنماؤں نے صنعت کے لیے بجلی کے نرخوں میں کمی، ٹیکس ریفنڈز کی تیزی اور برآمدات کے فروغ کے اقدامات کو سراہا۔\n\nپاکستان\n\nپاکستانی معیشت\n\nشہباز حکومت\n\nکاروبار\n\nبرآمدات\n\nوزیر اعظم نے اسلام آباد میں ملک کے سرکردہ کاروباری شخصیات کو بتایا کہ حکومت کی معاشی پالیسی کا بنیادی ستون برآمدات پر مبنی ترقی ہے۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nبدھ, جون 3, 2026 - 19:00\n\nMain image:\n\n> <p>وزیر اعظم شہباز شریف تین جون 2026 کو اسلام آباد میں ملک کے سرکردہ صنعت کاروں اور کاروباری رہنماؤں سے بات کرتے ہوئے (اے پی پی)</p>\n\nمعیشت\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nاچھا بجٹ اب بھی ممکن ہے لیکن۔۔\n\nایف بی آر آئندہ مالی سال کا بجٹ نہیں بنائے گا: وزیر خزانہ\n\nعالمی پٹرول بحران، چینی الیکٹرک گاڑیوں کی برآمدات میں اضافہ\n\nایران جنگ: پاکستان کا افرادی قوت کی برآمد بڑھانے پر غور\n\nSEO Title:\n\nبجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات شامل ہوں گے: وزیر اعظم\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات شامل ہوں گے: وزیر اعظم"
}