{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreiedk6xwpfjbothnsad6ur5pb344cplp5h7mmhghrkkmhxq7qndfoi",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mnfuchmjkzi2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreihtjdboq6onba7cqwwjruzlh5grjzazcicfmpoacxu3jmu7kr74ae"
    },
    "mimeType": "image/png",
    "size": 1041828
  },
  "path": "/node/186158",
  "publishedAt": "2026-06-03T13:14:09.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "پاکستان",
    "بلوچستان",
    "پیٹرول",
    "کوئٹہ",
    "محمد عیسیٰ",
    "video"
  ],
  "textContent": "**بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں پٹرول پمپوں پر غیر معمولی رش دیکھنے میں آ رہا ہے اور شہریوں کا کہنا ہے کہ انہیں پٹرول کے حصول کے لیے کئی کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔**\n\nدوسری جانب سرکاری حکام صوبے میں پٹرول کی باقاعدہ قلت کی تردید کر رہے ہیں۔\n\nکوئٹہ کے ڈپٹی کمشنر مہر اللہ بادینی کے مطابق صوبے میں پٹرول کی سپلائی معمول کے مطابق جاری ہے اور کسی قسم کی قلت نہیں۔\n\nان کا کہنا ہے کہ ایرانی تیل کی ترسیل رکنے کے بعد بڑی تعداد میں صارفین نے مقامی پٹرول پمپوں کا رخ کیا، جس کے باعث رش میں اضافہ ہوا۔\n\nانہوں نے بتایا کہ بلوچستان کی ایک بڑی آبادی ایرانی تیل استعمال کرتی ہے جبکہ کراچی سے آنے والی ریگولر سپلائی بدستور جاری ہے۔\n\nمہر اللہ بادینی کے مطابق طلب میں اچانک اضافے کے باعث کراچی سے اضافی پٹرول منگوایا گیا ہے، تاہم اس کی ترسیل میں کچھ وقت درکار ہوگا۔\n\nانہوں نے امید ظاہر کی کہ اضافی سپلائی پہنچنے کے بعد صورتحال معمول پر آ جائے گی۔\n\nڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ بعض اوقات میڈیا پر قلت کی خبروں کے بعد لوگ ضرورت سے زیادہ پٹرول ذخیرہ کرنا شروع کر دیتے ہیں، جس سے مصنوعی قلت اور خوف و ہراس پیدا ہو جاتا ہے۔\n\nادھر کوئٹہ کے ایک پٹرول پمپ مینیجر محمد عامر کے مطابق ایرانی پٹرول کی فراہمی رکنے کے بعد پمپوں پر صارفین کا رش نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے، تاہم کراچی سے پٹرول کی سپلائی میں کوئی تعطل نہیں آیا۔\n\nانہوں نے بتایا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے دوران حکومت بلوچستان نے عوامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایرانی تیل کی فروخت کو ضابطے میں لانے کی کوشش کی تھی کیونکہ روزانہ لاکھوں لیٹر تیل ایران سے بلوچستان لایا جاتا تھا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nمحمد عامر کے بقول ایرانی تیل کی فراہمی اچانک رکنے کے بعد شہریوں نے بڑی تعداد میں پٹرول پمپوں کا رخ کیا، جس سے دباؤ میں اضافہ ہوا۔\n\nشہریوں کا کہنا ہے کہ صورتحال کے باعث معمولاتِ زندگی متاثر ہو رہے ہیں۔ بعض علاقوں میں سکولوں اور دفاتر میں حاضری کم رہی، جبکہ پٹرول اور ڈیزل کی بلیک مارکیٹنگ کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔\n\nشہر کے مضافاتی علاقوں میں پٹرول 500 روپے فی لیٹر تک فروخت ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ ضلع مسلم باغ سے تعلق رکھنے والے محمد اسلم کا دعویٰ ہے کہ ان کے علاقے میں پٹرول کی قیمت 800 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔\n\nتاہم ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہو سکی۔ کوئٹہ کے رہائشی شامیر خان نے کہا کہ عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور انہیں گھنٹوں دھوپ میں کھڑے ہو کر اپنی باری کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔\n\nایک اور شہری داور خان کے مطابق اگر صورتحال برقرار رہی تو مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی خاندانوں کے معمولات متاثر ہوئے ہیں اور بعض بچوں کو پٹرول نہ ہونے کے باعث سکول جانے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔\n\nپاکستان\n\nبلوچستان\n\nپیٹرول\n\nکوئٹہ\n\nکوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں پٹرول پمپوں پر غیر معمولی رش دیکھنے میں آ رہا ہے۔\n\nمحمد عیسیٰ\n\nبدھ, جون 3, 2026 - 18:15\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">کوئٹہ شہر میں پٹرول پمپوں پر غیر معمولی رش دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں صارفین کو اپنی باری کے لیے کئی کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑ رہا ہے(تصویر: انڈپینڈنٹ اردو)</p>\n\nپاکستان\n\njw id:\n\nJXWgGgLI\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nپاکستان: پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 22 روپے کمی کا اعلان\n\nامریکہ میں پیٹرول کی قیمتوں میں 52 فیصد اضافہ کیوں ہوا؟\n\nیوم مئی پر بھی مزدور سڑکوں پر، مہنگے پیٹرول نے مشکلات بڑھا دیں\n\nپاکستان: پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 26.77 روپے فی لیٹر اضافہ\n\nSEO Title:\n\nکوئٹہ میں پیڑول کی قلت نہیں، ڈپٹی کمشنر کی وضاحت\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "کوئٹہ میں پیڑول کی قلت نہیں، ڈپٹی کمشنر کی وضاحت"
}