{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreiapvap545lqf744l5cxrdsfcof5at5vxazxsq2n35r6a65bjmx6j4",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mnd54k7lbii2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreidqj45aidyhzmtiwwsefzj4re3cdxzqhhgul7tf7rv4annqs7dccm"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 155322
},
"path": "/node/186145",
"publishedAt": "2026-06-02T16:06:51.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"مسجد اقصیٰ",
"مقبوضہ بیت المقدس",
"اسرائیلی جارحیت",
"پاکستان",
"سعودی عرب",
"اسلامی ممالک",
"مذمت",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"ایشیا",
"video"
],
"textContent": "**پاکستان سمیت آٹھ اسلامی اور عرب ممالک کے وزرائے خارجہ نے مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔**\n\nپاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکی، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی حفاظت میں مسلسل دراندازیاں اور صحن میں اسرائیلی پرچم لہرانا ’اشتعال انگیز اور ناقابل قبول‘ اقدامات ہیں۔\n\nبیان کے مطابق یہ اقدامات مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں مقدس مقامات کے تاریخی اور قانونی سٹیٹس کو کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور خطے میں کشیدگی کو بڑھا رہے ہیں۔\n\nوزرائے خارجہ نے اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ وہ مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس سے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی حرمت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔\n\nمشترکہ بیان میں واضح کیا گیا کہ مسجد اقصیٰ کا پورا رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اس کے انتظام و انصرام اور داخلے کے قواعد و ضوابط کی ذمہ داری اردن کے محکمہ اوقاف کے پاس ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nوزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اقدامات کے نتائج کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ اقدامات نہ صرف خطے میں عدم استحکام کو بڑھا رہے ہیں بلکہ امن کے بین الاقوامی کوششوں کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔\n\nانہوں نے فوری طور پر تمام اشتعال انگیز اور غیر قانونی اقدامات روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے مسجد اقصیٰ کے تاریخی و قانونی اسٹیٹس کو کے مکمل احترام پر زور دیا۔\n\nبیان میں فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں کے مطابق مشرقی بیت المقدس کو دارالحکومت بنا کر آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی گئی۔\n\nوزرائے خارجہ نے دو ریاستی حل پر مبنی منصفانہ اور دیرپا امن کے لیے بین الاقوامی کوششوں کی بھی حمایت کی۔\n\nمسجد اقصیٰ\n\nمقبوضہ بیت المقدس\n\nاسرائیلی جارحیت\n\nپاکستان\n\nسعودی عرب\n\nاسلامی ممالک\n\nمذمت\n\nآٹھ اسلامی اور عرب ممالک نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی اقدامات کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے فوری روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nمنگل, جون 2, 2026 - 21:00\n\nMain image:\n\n> <p style=\"direction:rtl\">27 مئی، 2026 کو مسجد اقصیٰ کے احاطے میں مسلمان جمع ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nایشیا\n\njw id:\n\niclGWCB2\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nاسرائیل مسجد اقصیٰ کے دروازوں کی بندش ختم کرے: آٹھ مسلم ممالک کا مطالبہ\n\nپاکستان، عرب اور دیگر اسلامی ممالک کی نتن یاہو کے ’گریٹر اسرائیل‘ بیان کی مذمت\n\nعرب-اسلامی ممالک نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کو ’دفاع‘ قرار دینے کو مسترد کر دیا\n\nسیز فائر کی قرارداد منظور کی جائے: عرب اور اسلامی ممالک کے سفیروں کی اپیل\n\nSEO Title:\n\nپاکستان سمیت آٹھ اسلامی ممالک کی مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی اقدامات کی مذمت\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "پاکستان سمیت آٹھ اسلامی ممالک کی مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی اقدامات کی مذمت"
}