{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreibbq5oumpkxjkmuctoddegxjok4cm6lhmv2mdg56ydudyeobtnfzu",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mncpoyhh64g2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreicn2nz7zk7qtftdoq6goojxhuavhcm6gjmk4alqkc3bklbyrk5zzu"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 104405
  },
  "path": "/node/186142",
  "publishedAt": "2026-06-02T12:11:05.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "برطانیہ",
    "پولیس",
    "سکھ",
    "قتل",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "یورپ",
    "news"
  ],
  "textContent": "**برطانوی پولیس نے ایک طالب علم کی ویڈیو جاری کی ہے جسے غلط طور پر ایک سکھ شخص پر نسلی بدسلوکی کا الزام لگانے کے بعد مذہبی علامت کے طور پر استعمال ہونے والی کرپان گھونپ کر قتل کر دیا تھا۔**\n\nاے ایف پی کے مطابق اس واقعے کے بعد منگل کو دائیں بازو کے رہنما نائیجل فراج پولیس کی ڈائیورسٹی پالیسیوں پر شدید برہم ہوئے ہیں۔\n\nفراج نے ’سفید فام افراد کے خلاف تعصب کے خاتمے‘ اور اس بات کی ضرورت پر زور دیا کہ ’وائٹ لائیوز میٹر‘کو بھی تسلیم کیا جائے۔\n\nپولیس کی جاری کردہ باڈی کیمرہ فوٹیج میں 18 سالہ یونیورسٹی طالب علم ہنری نوواک کو شدید زخمی حالت میں پولیس کے ہاتھوں ہتھکڑی لگائے دیکھا جا سکتا ہے۔\n\nایک جج نے پیر کو نوواک کے قاتل 23 سالہ وکرم ڈگوا کو کم از کم 21 سال قید کی سزا سنائی، جنھوں نے نوواک کو چھرا گھونپ کر قتل کیا اور پھر پولیس کو جھوٹ بتایا کہ مقتول نے ان کے ساتھ نسلی بدسلوکی کی تھی۔\n\nوزیراعظم کیئر سٹارمر نے ایکس پر واقعے کو ’انتہائی خوف ناک اور افسوس ناک کیس‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ درست ہے کہ پولیس کے رویے کی تحقیقات کرنے والا آزاد ادارہ افسران کے ردعمل کی جانچ کر رہا ہے۔\n\nفراج نے، جن کی امیگریشن مخالف پارٹی ریفارم یوکے نے گذشتہ ماہ انگلینڈ میں بلدیاتی انتخابات میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں، کہا کہ اس کیس نے ثابت کیا ہے کہ ہر شخص کو قانون کے سامنے برابر سمجھنے کے اصول کو ’تباہ کر دیا گیا ہے۔‘\n\nفوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس اہلکار حملہ آور کے اس دعوے کو تسلیم کر لیتے ہیں کہ وہ خود متاثرہ ہے نہ کہ نوواک، جو واقعے میں زخمی ہوئے تھے۔\n\nنوواک کو ہتھکڑی پہنا دی جاتی ہے حالانکہ وہ بار بار کہتے ہیں کہ انہیں چھرا لگا ہے اور ’میں سانس نہیں لے سکتا۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nایک پولیس افسر انہیں کہتے ہیں ’آپ کو چھرا لگا ہے، کہاں؟‘ اور پھر مزید کہا ’مجھے نہیں لگتا کہ آپ کو لگا ہے، یار۔‘\n\nفراج نے سزا کے بعد مقتول کے خاندان کے ’وقار‘ کی تعریف کی لیکن ساتھ ہی کہا ’ہمیں اس پر شدید غصے کے ساتھ ردعمل دینا چاہیے۔ یہ غلط ہے۔‘\n\nامریکی ٹیک ارب پتی ایلون مسک نے بھی ایکس پر اس معاملے میں پولیس کے کردار پر نجی مقدمہ چلانے کے لیے مالی معاونت کی پیشکش کی ہے۔\n\nڈگوا منگل کو جنوبی شہر ساؤتھ ہمپٹن کی عدالت میں دوبارہ پیش ہونے والے ہیں، ان کے ساتھ ان کے بھائی گروپریت ڈگوا اور تیسرے ملزم موگا سنگھ بھی ہتھیاروں کے مقدمات میں عدالت میں پیش ہوں گے۔\n\nنوواک کو 21 سینٹی میٹر (آٹھ انچ) بلیڈ والے ایک خنجر (کرپان) سے گھونپا گیا تھا۔\n\nڈگوا کی 53 سالہ والدہ کرن کور کو 17 جولائی کو سزا سنائی جائے گی کیونکہ انہوں نے ایک مجرم کی مدد کرتے ہوئے وہ خنجر گھر واپس لے گئی تھیں۔\n\nبرطانیہ\n\nپولیس\n\nسکھ\n\nقتل\n\nایک جج نے پیر کو نوواک کے قاتل 23 سالہ وکرم ڈگوا کو کم از کم 21 سال قید کی سزا سنائی، جنھوں نے نوواک کو چھرا گھونپ کر قتل کیا ۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nمنگل, جون 2, 2026 - 17:00\n\nMain image:\n\n> <p>یکم مئی، 2026 کو لندن میں برطانیہ میں ویسٹ منسٹر مجسٹریٹس کورٹ کے باہر ایک پولیس وین کی آمد کا منظر )روئٹرز(</p>\n\nیورپ\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nامریکہ میں سکھ رہنما کے قتل کی سازش کی: انڈین شہری کا اعتراف\n\n’کرپان ہماری مذہبی نشانی ہے اسے کیسے اتار سکتے ہیں‘\n\nلندن: یہودیوں پر چاقو حملہ کرنے والے پر اقدام قتل کا الزام عائد\n\nمانچسٹر: مسجد میں کلہاڑی اور چاقو لانے کے الزام میں شخص گرفتار\n\nSEO Title:\n\nبرطانوی پولیس نے سکھ کی کرپان سے قتل کی ویڈیو جاری کر دی\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "برطانوی پولیس نے سکھ کی کرپان سے قتل کی ویڈیو جاری کر دی"
}