{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreidnyr2foizeo655cuffiwyhuv5u3txrniloxq7oslwh7yimnnrqpa",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mnciyisblsc2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreihd4cge5wuzswnaczoipauuxrttpyanfj7j7ac3576o2p2ypv5toe"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 115898
},
"path": "/node/186140",
"publishedAt": "2026-06-02T10:44:21.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"افغان طالبان",
"ٹی ٹی پی",
"داعش",
"افغانستان",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"ایشیا",
"news"
],
"textContent": "**پاکستان کے افغانستان کے لیے خصوصی نمائندے محمد صادق نے منگل کو بتایا کہ انہوں نے اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ علاقائی سلامتی کو درپیش خطرات، خصوصاً افغان سرزمین سے سرگرم عسکریت پسند گروہوں کے بارے میں بات چیت کی ہے جبکہ بیجنگ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔**\n\nمحمد صادق اور یوئے شیاویونگ کے درمیان یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب اسلام آباد اور کابل کے تعلقات کئی ماہ سے کشیدگی کا شکار ہیں۔\n\nاس دوران سرحد پار جھڑپیں، افغانستان کے اندر پاکستانی فضائی حملے اور پاکستان کے الزامات سامنے آئے کہ طالبان حکومت عسکریت پسند گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کر کے پاکستان میں حملے کرنے کی اجازت دے رہی ہے۔\n\nکابل ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہتا ہے کہ پاکستان میں عسکریت پسندی ایک داخلی مسئلہ ہے۔\n\nمحمد صادق نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا ’علاقائی سلامتی سے متعلق مفید مذاکرات ہوئے، جن میں افغان سرزمین سے سرگرم ٹی ٹی پی اور ای ٹی آئی ایم کے خطرات بھی زیر بحث آئے۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا ’اس بات پر اتفاق ہوا کہ علاقائی امن اور استحکام کے تحفظ کے لیے باہمی رابطہ مضبوط کیا جائے گا اور انسداد دہشت گردی کی کوششوں کو ہم آہنگ بنایا جائے گا۔‘\n\nکالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) مختلف عسکریت پسند گروہوں کا اتحاد ہے، جس نے حالیہ برسوں میں پاکستان کے اندر بعض مہلک ترین حملے کیے ہیں۔\n\nاسلام آباد کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی کے کئی جنگجو افغانستان میں محفوظ ٹھکانوں سے کارروائیاں کرتے ہیں، تاہم طالبان حکومت اس دعوے کو مسترد کرتی ہے۔\n\nپاکستان اور چین نے مشرقی ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم) کے حوالے سے بھی بارہا تشویش کا اظہار کیا ہے۔\n\nبیجنگ کا الزام ہے کہ یہ گروہ چین کے سنکیانگ خطے میں ایک آزاد ریاست قائم کرنا چاہتا ہے۔\n\nیہ مذاکرات ایسے پس منظر میں ہوئے جب چین پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالثی کے کردار میں زیادہ فعال ہوتا جا رہا ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nاس کی ایک وجہ یہ خدشہ بھی ہے کہ علاقائی عدم استحکام سے رابطہ کاری کے منصوبے اور خطے میں چین کے اقتصادی مفادات، خصوصاً اربوں ڈالر مالیت کے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے، متاثر ہو سکتے ہیں۔\n\nپاکستان اور افغانستان کے تعلقات اس سال کے آغاز میں شدید کشیدگی کا شکار ہو گئے تھے، جب سرحدی جھڑپوں میں اموات کے بعد دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان کئی برسوں کی بدترین محاذ آرائی دیکھنے میں آئی۔\n\nفروری میں پاکستان نے افغانستان کے اندر فضائی حملے کیے اور طالبان پر عسکریت پسندوں کو پناہ دینے کا الزام عائد کیا جبکہ کابل نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے مسلح گروہوں کی حمایت کے الزامات مسترد کر دیے۔\n\nاس کے بعد چین نے وسیع تر تنازعے کو روکنے کے لیے اپنی سفارتی سرگرمیاں تیز کر دیں۔\n\nمارچ میں چین کے خصوصی ایلچی یوئے شیاویونگ نے اسلام آباد اور کابل کے درمیان شٹل سفارت کاری کی جبکہ بیجنگ نے چین کے شمال مغربی شہر اُرمچی میں پاکستانی اور افغان حکام کے درمیان براہ راست مذاکرات کی میزبانی بھی کی۔\n\nچینی حکام نے کھلے عام دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنے اختلافات فوجی کارروائیوں کی بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔\n\nچین نے جنگ بندی اور وسیع تر سیاسی مفاہمت کی کوششوں کی بھی حمایت کی ہے۔\n\nاپریل میں پاکستان اور افغانستان نے چین میں دوبارہ مذاکرات کا آغاز کیا، جن کا مقصد کشیدگی میں کمی لانا اور سرحدی سلامتی، عسکریت پسند سرگرمیوں اور اقتصادی تعاون کے حوالے سے طویل المدتی فریم ورک پر غور کرنا تھا۔\n\nبعد ازاں دونوں فریقوں نے ان مذاکرات کو مثبت قرار دیا جبکہ چین کا کہنا تھا کہ بات چیت کا عمل پیش رفت کر رہا ہے۔\n\nافغان طالبان\n\nٹی ٹی پی\n\nداعش\n\nافغانستان\n\nپاکستان کے افغانستان کے لیے خصوصی نمائندے نے بتایا کہ انہوں نے اپنے چینی ہم منصب سے علاقائی سلامتی کو درپیش خطرات، خصوصاً افغانستان سے سرگرم عسکریت پسندوں کے بارے میں بات کی ہے۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nمنگل, جون 2, 2026 - 15:30\n\nMain image:\n\n> <p>پاکستان کے افغانستان کے لیے خصوصی نمائندے محمد صادق اسلام آباد میں یکم جون، 2026 کو اپنے چینی ہم منصب سفیر یوئے شیاویونگ سے ملاقات کر رہے ہیں (محمد صادق/ایکس)</p>\n\nایشیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nروس سے دفاعی نہیں ملٹری ٹیکنیکل معاہدہ ہے: وزیر دفاع افغانستان\n\nپاکستان اور چین کا سکیورٹی پارٹنرشپ قائم کرنے پر اتفاق\n\nکیا چین طاقت کا محور بن رہا ہے؟\n\nروس کا افغانستان سے فوجی معاہدہ، کیا طالبان اب یوکرین میں لڑیں گے؟\n\nSEO Title:\n\nافغانستان سے دہشت گردی کے خطرات، پاکستان اور چین کا تعاون بڑھانے پر اتفاق\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "افغانستان سے دہشت گردی کے خطرات، پاکستان اور چین کا تعاون بڑھانے پر اتفاق"
}