{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreiamkiwro4hlcjegk3hsefrhpqelrx23chzupxbwfpkhbp2fhapppy",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mncccqo6cmp2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreialulw7oc6ufzawaox6pek4voeyduoyucmirklrm7ovcrg2moszhy"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 51072
},
"path": "/node/186137",
"publishedAt": "2026-06-02T08:30:09.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"بھوت",
"نفسیاتی مسائل",
"نفسانی",
"ماہرین نفسیات",
"خوف",
"دماغی صحت",
"میلیسا مافیو",
"میگزین",
"news"
],
"textContent": "**ہر پانچ امریکی شہریوں میں سے تقریباً ایک کا کہنا ہے کہ اس نے بھوت دیکھا۔ میں ان شہریوں میں شامل نہیں اور میں غالباً کبھی ہوں گی بھی نہیں۔ میں اس کا الزام اپنے دماغ کو الزام دیتی ہوں۔**\n\nمیں وضاحت کرتی ہوں۔ کوئی بھی حتمی طور پر یہ نہیں کہہ سکتا کہ بھوتوں کا وجود ہے، لیکن بہت سے لوگ مانتے ہیں کہ بھوت ہوتے ہیں۔ تقریباً تین چوتھائی امریکی کسی نہ کسی قسم کی مافوق الفطرت سرگرمیوں پر یقین رکھتے ہیں۔ ان میں صرف بھوت ہی نہیں، بلکہ روحانی صلاحیتیں، مستقبل کا حال بتانے والے خواب، روحوں سے رابطہ کروانے والے افراد اور ایسی ہر وہ چیز شامل ہے جس کی کوئی عام اور روایتی تشریح نہیں کی جا سکتی۔\n\nنفسیات کا پروفیسر ہونے کی وجہ سے میں اکثر اس بات پر غور کرتی ہوں کہ لوگ اپنے تجربات سے معنی اخذ کرتے وقت کس طرح اپنی ذاتی سوچ کا استعمال کرتے ہیں۔ پھر میں سوچتی ہوں کہ کیا بظاہر غیر معمولی لگنے والے تجربات کی بالکل عام سی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ روزمرہ کے مختلف عوامل ایک ساتھ مل کر کسی مافوق الفطرت تجربے کا احساس پیدا کرنے کا باعث بنتے ہوں۔\n\nمیں نے اپنی نئی کتاب ’سائنس آف دی سپر نیچرل‘ میں اس نظریے پر بات کی ہے کہ انسانی دماغ بیرونی دنیا کو سمجھنے میں غلطی کر کے مافوق الفطرت چیزوں کا تجربہ خود سے تخلیق کر لیتا ہے۔ یہاں وہ تین عوامل بیان کیے گئے ہیں جو آپ کے دماغ کو دھوکہ دے کر ایک نقلی بھوت تخلیق کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔\n\n**بھوتوں سے جڑا پہلا عنصر۔ ماحولیاتی محرکات**\n\nجس کسی نے بھی کبھی بھوتوں کی کھوج کا کوئی شو دیکھا ہے، اس نے غیر معمولی سرگرمیوں کے محقق کو مبینہ مافوق الفطرت سرگرمی کے دوران کچھ یوں بڑبڑاتے ضرور سنا ہوگا کہ ’ای ایم ایف بے قابو ہو رہا ہے۔‘ الیکٹرو میگنیٹک فیلڈز یعنی ’ای ایم ایف‘ برقی چارج والے ذرات سے پیدا ہونے والے توانائی کے نہ نظر آنے والے دائرے ہیں۔\n\nفی الحال، اس بات کا کوئی براہ راست ثبوت نہیں ہے کہ انسان شعوری طور پر ای ایم ایف کو بالکل اسی طرح محسوس کر سکتے ہیں، جس طرح ہم اپنے ماحول میں موجود چیزوں کو چھو، دیکھ یا سن سکتے ہیں، لیکن کسی مقامی ہارڈ ویئر سٹور سے خریدی گئی ہاتھ میں پکڑی جانے والی مشین کی مدد سے، آپ انہیں کہیں بھی ناپ سکتے ہیں۔\n\nای ایم ایف ڈیٹیکٹر کسی بھی برقی یا مقناطیسی سرگرمی کو پکڑ لیتا ہے، چاہے وہ انسان کی پیدا کردہ ہو یا کسی دوسری دنیا کی، لیکن کیا ای ایم ایف کے اتار چڑھاؤ کا مافوق الفطرت سرگرمیوں سے کوئی تعلق ہے؟\n\nسائنسی طریقہ کار اس سوال کا جواب دینے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ سکاٹ لینڈ کے شہر ایڈنبرا کے نیچے واقع ساؤتھ سٹریٹ والٹس میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق، ان جگہوں پر ای ایم ایف میں زیادہ اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جہاں بھوتوں کے واقعات کی تاریخ موجود تھی۔\n\nایک اور تحقیق سے پتہ چلا کہ انگلینڈ کے ہیمپٹن کورٹ پیلس کے ان حصوں میں ای ایم ایف کے اندر زیادہ نمایاں تبدیلیاں پائی گئیں جنہیں زیادہ ’بھوتوں والا‘ سمجھا جاتا ہے۔\n\nکوئی بھی حتمی طور پر یہ نہیں کہہ سکتا کہ بھوتوں کا وجود ہے (اینواتو)\n\n\n\n\nہو سکتا ہے کہ لوگ نادانستہ طور پر ماحولیاتی محرکات، جیسے برقی مقناطیسی میدانوں میں ہونے والی تبدیلیوں کو محسوس کر رہے ہوں۔ تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے: کیا بھوت کی وجہ سے ای ایم ایف میں تبدیلی آئی، یا ای ایم ایف کی وجہ سے بھوت کا احساس پیدا ہوا؟\n\nآج تک، صرف ایک تحقیقی گروپ نے تجرباتی طور پر ماحولیاتی عوامل، بشمول پیچیدہ ای ایم ایف، میں ردوبدل کرنے اور اس کے نتیجے میں مافوق الفطرت چیزوں کے احساس کو جانچنے کی کوشش کی ہے۔\n\nتحقیق میں شامل افراد نے واقعی کئی عجیب و غریب چیزیں رپورٹ کیں، جن میں چکر آنے سے لے کر خود کو اپنے جسم سے الگ محسوس کرنا اور یہاں تک کہ کسی کی موجودگی کا احساس تک شامل تھا، لیکن یہ تجربات ان ماحولیاتی حالات سے مطابقت نہیں رکھتے تھے، جنہیں محققین نے تبدیل کیا تھا، جیسے کہ ای ایم ایف کی شدت۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جن لوگوں نے غیر معمولی تجربات بیان کیے، وہ وہی لوگ تھے جو مافوق الفطرت چیزوں پر زیادہ پختہ یقین رکھتے تھے۔\n\nکیا ای ایم ایف جیسے ماحولیاتی عوامل مافوق الفطرت چیزوں کے احساس کا باعث بنتے ہیں؟ ایک طرف، مبینہ طور پر بھوتوں کی موجودگی والی جگہوں اور ای ایم ایف کی تبدیلیوں کے درمیان ایک تعلق موجود ہے اور کچھ ایسے اشارے بھی ملتے ہیں کہ انسان مقناطیسی اثرات کو محسوس کر سکتے ہیں۔\n\nدوسری طرف تجربہ گاہ کے ماحول میں ای ایم ایف میں کی جانے والی تجرباتی تبدیلیوں کا عجیب و غریب احساسات سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا۔\n\nمیرا خیال ہے کہ ہمیں بھوتوں سے جڑے دیگر عوامل پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔\n\n**بھوتوں سے جڑا دوسرا عنصر۔ اعصابی مسائل**\n\nسر کے ایک حصے پر ہلکا سا برقی کرنٹ لگا کر، جو عام طور پر کسی طبی طریقہ کار کے لیے مریض کا معائنہ کرنے کی غرض سے کیا جاتا ہے، محققین نے کچھ عجیب و غریب اثرات کا مشاہدہ کیا ہے۔ ایک کیس سٹڈی میں ایک ایسے مریض کا احوال بیان کیا گیا جس نے ایک ’خیالی سائے‘ کو محسوس کیا، جو اس کی حرکات کی نقل کر رہا تھا اور یہاں تک کہ ان میں مداخلت بھی کر رہا تھا۔ دیگر لوگوں نے جسم سے باہر نکلنے کے تجربات رپورٹ کیے ہیں۔\n\nتجرباتی شواہد بتاتے ہیں کہ دماغ کا یہ حصہ، جسے ٹیمپوروپیریٹل جنکشن کہتے ہیں، شاید جسم میں ہونے کے احساس کے لیے انتہائی اہم ہے یعنی یہ احساس کہ آپ اپنے جسم کے اندر موجود ہیں۔ دماغ کے اس حصے میں خلل ڈالنے سے بظاہر جسم سے الگ ہونے کا احساس پیدا ہوتا ہے۔\n\nماہرینِ اعصابیات کو پوری طرح یقین نہیں ہے کہ دماغ میں جسم کے اندر ہونے کا احساس کیسے بنتا ہے۔ دماغ ممکنہ طور پر جسمانی حسیات، جیسے توازن اور پوزیشن کو دیگر اندرونی عوامل، جیسے اپنی ذات اور خود مختاری کے احساس کے ساتھ جوڑ دیتا ہے۔ جب اس جوڑ میں کوئی تبدیلی آتی ہے، تو انسان بہت عجیب و غریب احساسات سے گزرتا ہے۔\n\nبعض اوقات، نیند کے دوران جسم سے ملنے والی حسیات کو سمجھنے میں غلطی ہو سکتی ہے، جب آپ کا دماغ بیرونی دنیا سے رابطہ کاٹ لیتا ہے۔ ریپڈ آئی موومنٹ یا ’آر ای ایم‘ نیند کے دوران، جب سب سے واضح خواب آتے ہیں، تو دماغ ایسے پیغامات بھیجتا ہے جو ڈھانچے کے پٹھوں کی حرکت کو روک دیتے ہیں۔ یہ رکاوٹ آر ای ایم نیند کے دوران مکمل فالج کا باعث بنتی ہے۔ یہ ایک اعصابی تحفظ ہے، اس کے بغیر اس بات کا قوی امکان ہے کہ آپ اپنے خوابوں پر عملی طور پر حرکت کرنے لگیں۔\n\nتاہم، کچھ لوگ آر ای ایم نیند کے دوران جاگ جاتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ وہ حرکت نہیں کر سکتے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ اسی دوران شدید قسم کے فریب نظر کا تجربہ بھی کریں، جو ان کے خواب کی باقیات ہوتے ہیں۔\n\nیہ تجربہ جلد ہی گزر جاتا ہے۔ لیکن نیند کے فالج کے اس لمحے میں، ڈھانچے کے پٹھوں کی حرکت کو کنٹرول کرنے والے اعصابی سگنل رک جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں جسم سے دماغ کو ملنے والی معلومات میں ہم آہنگی نہیں رہتی۔ زیادہ تر لوگ غائب حسی معلومات پر خوف کے ساتھ ردعمل ظاہر کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے لیے اپنے خوابوں کے مناظر اور آوازوں کو حقیقت کے طور پر محسوس کرنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔\n\n**بھوتوں سے جڑا تیسرا عنصر۔ شخصی خصلتیں**\n\nکسی مافوق الفطرت واقعے سے گزرنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے تجربے کو اسی نام سے پکارے۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی یقین رکھنے والا شخص تبدیل ہوتے ہوئے ای ایم ایف کی زد میں آ جائے، تو وہ اس عجیب احساس کو فوراً مافوق الفطرت قرار دے سکتا ہے۔\n\nایک شکی مزاج شخص یہ تو مان سکتا ہے کہ اسے کچھ عجیب یا مختلف محسوس ہوا، لیکن شاید وہ اس کی مافوق الفطرت تشریح کی طرف نہ جائے۔\n\nتحقیق کا ایک بڑھتا ہوا سلسلہ یہ بتاتا ہے کہ خاص شخصی خصلتوں والے لوگوں میں مافوق الفطرت چیزوں پر یقین کرنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔\n\nمثال کے طور پر، کچھ لوگ لاشعوری احساسات اور خیالات کے بارے میں حد سے زیادہ باخبر ہوتے ہیں، جو پھر ان کے شعور میں سرایت کر جاتے ہیں۔ اکثر، یہ خصلتیں جادوئی سوچ، بگڑے ہوئے یا غیر معمولی خیالات، بے ترتیب رویے اور بعض اوقات قریبی تعلقات قائم کرنے میں دشواری سے جڑی ہوتی ہیں۔\n\nماہرینِ نفسیات ان خصلتوں کے مجموعے کو شیزو ٹائپی کہتے ہیں۔ ان کا تعلق شیزوفرینیا سے ہے، حالاں کہ شیزو ٹائپی کا زیادہ ہونا اس بات کی علامت نہیں ہے کہ آپ کو شیزوفرینیا کی بیماری تشخیص ہو گی۔\n\nجن لوگوں میں شیزو ٹائپی کی سطح زیادہ ہوتی ہے، ان میں مافوق الفطرت چیزوں پر یقین کرنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ ان میں جسم سے الگ ہونے کے احساس اور اچانک حسیاتی تجربات سے گزرنے کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے اور انہیں اپنی ذات اور دوسروں کے درمیان فرق کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔\n\nیہ تمام خصلتیں ٹیمپوروپیریٹل جنکشن کے افعال سے جڑی ہیں، جو دماغ کا وہ حصہ ہے جو آپ کو یہ احساس دلانے میں مدد کرتا ہے کہ آپ اپنے جسم کے اندر موجود ہیں۔\n\nجب بھوتوں سے جڑے عوامل مل کر ایک بھوت کی شکل اختیار کر لیتے ہیں\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nاگرچہ میں یقین سے نہیں کہہ سکتی کہ بھوتوں کا وجود ہے یا نہیں، لیکن میں ایک معقول وضاحت پیش کر سکتی ہوں کہ کیوں کچھ لوگ دوسروں کے مقابلے میں بظاہر مافوق الفطرت تجربات کا زیادہ شکار ہو سکتے ہیں۔\n\nفرض کریں ایک ایسا شخص جو مافوق الفطرت چیزوں پر یقین رکھتا ہے، وہ برقی مقناطیسی میدان میں کسی قدرتی تبدیلی یا نیند کے فالج کے کسی واقعے سے گزرتا ہے۔ یہ تجربات ایسے غیر معمولی احساسات پیدا کرتے ہیں جن کی وہ شخص وضاحت نہیں کر پاتا۔\n\nاس الجھن میں معنی تلاش کرتے ہوئے، یہ شخص اندرونی اور بیرونی طور پر پیدا ہونے والے احساسات کے درمیان فرق کو ملا دیتا ہے۔ وہ اسی واحد وضاحت پر قناعت کر لیتا ہے جو اس کی سمجھ میں آتی ہے اور وہ یہ ہے کہ اس نے جس عجیب و غریب احساس کا تجربہ کیا وہ ایک بھوت تھا۔\n\nمیرا اندازہ ہے کہ مافوق الفطرت چیزوں پر یقین ہی وہ کڑی ہے، جو بھوتوں سے جڑے عوامل کو آپس میں ملا کر بھوت کا غلط احساس پیدا کرتی ہے۔\n\nایک تجربے کے دوران شرکا کو الینوائے کے شہر ڈیکیٹر میں واقع ایک بند پڑے تھیٹر سے گزرنے کا کہا گیا۔ ان میں سے کچھ کو بتایا گیا کہ اس تھیٹر میں بھوتوں کا سایہ ہے اور کچھ کو ایسا کچھ نہیں بتایا گیا۔ کئی شرکا نے عجیب و غریب احساسات محسوس کیے، جنہیں انہوں نے مافوق الفطرت سرگرمی قرار دیا، لیکن صرف انہی لوگوں نے ایسے احساسات کی شکایت کی جنہیں یہ یقین تھا کہ تھیٹر میں بھوتوں کا سایہ ہے۔\n\nہو سکتا ہے کہ صرف یقین بذات خود کوئی بھوت پیدا نہ کرے، لیکن یقین کا کم از کم کسی ایک ایسے عنصر کے ساتھ مل جانا، جو بھوتوں سے جڑا ہو (جیسے ماحولیاتی محرکات، اعصابی گڑبڑ یا نفسیاتی کیفیات)، بھوت کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔\n\nیہ مرغی اور انڈے والی پہیلی بن جاتی ہے یا اس معاملے میں بھوت اور ای ایم ایف کی۔ کوئی ایسا شخص جس کا ماحولیاتی عوامل کے تئیں زیادہ حساس ہونے کا امکان ہو یا جو نیند کے فالج سے گزرتا ہو، وہ اپنے تجربات کی بنیاد پر ایک پختہ یقین قائم کر سکتا ہے۔ جب کوئی شخص ان تجربات کی کوئی ’قدرتی‘ وضاحت نہیں کر پاتا، تو پھر کوئی مافوق الفطرت تشریح ہی اسے معقول معلوم ہوتی ہے۔\n\nمیں نے کبھی ای ایم ایف کو محسوس نہیں کیا۔ میں نے کبھی نیند کے فالج کا تجربہ نہیں کیا۔ مجھے پورا یقین ہے کہ مجھ میں شیزو ٹائپی جیسی شخصی خصلتیں نہیں ہیں۔ میں مافوق الفطرت چیزوں پر یقین نہیں رکھتی اور مجھے نہیں لگتا کہ میں کبھی کوئی بھوت دیکھوں گی۔\n\nبھوت\n\nنفسیاتی مسائل\n\nنفسانی\n\nماہرین نفسیات\n\nخوف\n\nدماغی صحت\n\nکوئی بھی حتمی طور پر یہ نہیں کہہ سکتا کہ بھوتوں کا وجود ہے، لیکن بہت سے لوگ مانتے ہیں کہ بھوت ہوتے ہیں۔\n\nمیلیسا مافیو\n\nمنگل, جون 2, 2026 - 13:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">بہت سے لوگ مانتے ہیں کہ بھوت وجود رکھتے ہیں (تصویر: پکسابے)</p>\n\nمیگزین\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nچین: تین دن تک کنویں میں پھنسے شخص کو لوگ بھوت سمجھے\n\nجنوبی افریقہ: ٹیکنالوجی کی مدد سے بھوتوں کو تلاش کرنے والا گروپ\n\nبےخوابی کے شکار افراد میں بھوت دیکھنے کا زیادہ امکان: تحقیق\n\nہم بھوتوں کی کہانیوں کی طرف اس قدر کیوں راغب ہیں؟\n\nSEO Title:\n\nہر پانچ میں ایک امریکی شہری کو بھوت کیوں دکھائی دیتے ہیں؟\n\ncopyright:\n\nIndependentEnglish\n\norigin url:\n\nhttps://www.independent.co.uk/life-style/health-and-families/health-news/paranormal-activity-psychology-ghosts-b2987527.html\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "ہر پانچ میں ایک امریکی شہری کو بھوت کیوں دکھائی دیتے ہیں؟"
}