{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreic667tsrnzegxp3k4kkvzpawgjd732l72ynqc7rvxgvfaluy54p4u",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mnc3kwu4o4p2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreiexx2cm4p3jv2zmsruagqkjor6mg2ycsk5dlmjqlaupsdd2bi2gbi"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 71067
  },
  "path": "/node/186138",
  "publishedAt": "2026-06-02T07:17:13.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "بحری قزاق",
    "کراچی",
    "صالحہ فیروز خان",
    "پاکستان",
    "news"
  ],
  "textContent": "**صومالی قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے پاکستانی شہریوں نے پیر کو جاری کی گئی ایک ویڈیو میں پاکستانی قیادت اور آرمی چیف سے اپنی جلد از جلد رہائی کے لیے اقدامات کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے جہاز کی مالک کمپنی قزاقوں سے کسی قسم کی بات چیت نہیں کر رہی۔**\n\n21 اپریل کو صومالیہ کے قریب بحری قزاقوں نے ’ایم ٹی آنر 25‘ نامی آئل ٹینکر کو اغوا کر لیا تھا، جس پر سوار 17 رکنی عملے میں 10 پاکستانی شہری بھی شامل تھے، جنہیں قزاقوں نے یرغمال بنا رکھا ہے۔\n\nیہ افراد گذشتہ 43 روز سے ان قزاقوں کی قید میں ہیں، جن کی بحفاظت واپسی کے سلسلے میں اہلِ خانہ کراچی میں احتجاج بھی کر چکے ہیں اور حکومتِ پاکستان سے فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔\n\nیکم جون کو قزاقوں کی جانب سے ایک نئی ویڈیو جاری کی گئی جس میں یاسر حسین سمیت دیگر پاکستانی شہریوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو میں تمام یرغمالی بظاہر نڈھال دکھائی دیتے ہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nیاسر خان نے ویڈیو پیغام میں اپنی اور دیگر ساتھیوں کی ابتر صورت حال بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پینے کے لیے زرد رنگ کا آلودہ پانی دیا جا رہا ہے، جو ٹینک کا پانی ہے، جبکہ خوراک کے نام پر صرف 24 گھنٹوں میں ایک مرتبہ ابلے ہوئے چاول فراہم کیے جاتے ہیں۔\n\nیاسر خان نے کہا کہ جہاز چلانے والی کمپنی کی جانب سے بھی کوئی واضح معلومات یا پیش رفت سے آگاہ نہیں کیا جا رہا۔ ’ہماری کمپنی وارف شارٹرنگ کمپنی ہے، وہ کسی قسم کی ان سے بات چیت نہیں کر رہی ہے۔۔۔ جو یہ (قزاق) چاہ رہے ہیں ان کی ڈیمانڈ نہ پوری کی جا رہی ہے، نہ ہمیں بتایا جارہے کہ ہم کب تک یہاں سے ریلیز ہو سکیں گے یا کیا ہوگا؟‘\n\nانہوں نے پاکستانی وزیراعظم، صدر مملکت اور آرمی چیف سے اپیل کی کہ ان کی جلد از جلد رہائی کے لیے اقدامات کیے جائیں۔\n\nبقول یاسر خان: ’ہماری مدد کریں، ورنہ ہم مزید زندہ نہیں رہ پائیں گے۔‘\n\nانڈپینڈنٹ اردو نے اس حوالے سے پاکستانی دفتر خارجہ سے رابطہ کیا، جہاں ترجمان اندرابی نے نمائندہ قرۃ العین شیرازی کو بتایا کہ صومالی قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی جلد رہائی کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔\n\nترجمان کا کہنا تھا: ’ہم صومالی حکومت اور جہاز کے مالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، جو قزاقوں کے ساتھ مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھا رہے ہیں۔‘\n\nدوسری جانب یاسر خان کی اہلیہ مہوش خان نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ ’ان کی شوہر سے صرف دو سے تین منٹ کی بات کروائی جاتی ہے، جس کے دوران وہ مختصر طور پر اپنی خیریت اور مشکلات سے آگاہ کرتے ہیں۔‘\n\nانہوں نے بتایا کہ ’عید کے روز ہونے والی آخری گفتگو میں یاسر نے بتایا تھا کہ مزید قزاق گروہ بھی جہاز تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘\n\nمہوش کے مطابق جہاز کی حالت پہلے ہی انتہائی خراب تھی اور اسے سکریپ کیے جانے کی باتیں کی جا رہی تھیں۔\n\nدوسری جانب یرغمالی امین بن شمس کی اہلیہ عائشہ امین نے بتایا کہ شوہر سے ان کی آخری بار بات عید کے روز ہوئی تھی، جس میں انہوں نے مطلع کیا کہ ’جہاز کا انجن خراب ہو چکا ہے اور وہ سمندر میں ایک ہی مقام پر کھڑا ہے جبکہ سمندر میں خراب موسم کے باعث صورت حال مزید سنگین ہو چکی ہے اور دوسرے قزاق گروہ بھی جہاز پر قبضہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم موجودہ قزاق مبینہ طور پر جوابی فائرنگ کر کے انہیں دور بھگا رہے ہیں۔‘\n\nامبرین یوسف کے شوہر بھی اسی جہاز پر یرغمال ہیں، انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’یکم جون کو موصول ہونے والی ویڈیو قزاقوں کی جانب سے اہلِ خانہ کو بھیجی گئی ہے۔‘\n\nان کے مطابق اس سے قبل بھی ان کے شوہر اور دیگر افراد سے ویڈیو بنوا کر اہلِ خانہ تک پہنچائی گئی تھی۔\n\nامبرین یوسف نے روتے ہوئے کہا کہ ان کے خاندان کے لیے ہر دن ایک نئی آزمائش بن چکا ہے۔ ’بچے روز پوچھتے ہیں کہ بابا کب واپس آئیں گے، لیکن میرے پاس ان کے سوال کا کوئی جواب نہیں ہوتا۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا: ’ہمیں نہیں معلوم کہ ہماری حکومت اس معاملے میں کیا اقدامات کر رہی ہے۔ وہاں انہیں آلودہ پانی پینے کے لیے دیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے ان کی صحت مسلسل خراب ہو رہی ہے اور ان کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔‘\n\nبحری قزاق\n\nکراچی\n\nصومالی قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے پاکستانی شہریوں نے ویڈیو میں پاکستانی قیادت اور آرمی چیف سے اپنی جلد از جلد رہائی کے لیے اقدامات کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے جہاز کی مالک کمپنی قزاقوں سے کسی قسم کی بات چیت نہیں کر رہی۔\n\nصالحہ فیروز خان\n\nمنگل, جون 2, 2026 - 12:15\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">یکم جون 2026 کو نامعلوم مقام سے جاری کی گئی ویڈیو سے لیے گئے سکرین گریب میں پاکستانی شہریوں کو دیکھا جا سکتا ہے، جنہیں 21 اپریل کو صومالی قزاقوں نے یرغمال بنا لیا تھا (سکرین گریب)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nصومالی قزاقوں سے یرغمالی بازیاب نہ ہوئے تو بھوک ہڑتال کریں گے: اہل خانہ\n\n’پتہ نہیں بابا کس حال میں ہیں؟‘ بحری جہاز پر یرغمال پاکستانی کی بیٹی\n\nبحری جہاز پر یرغمال پاکستانیوں کی واپسی کے لیے صومالی سفیر کو خط\n\nصومالی قزاقوں سے 19 پاکستانی شہریوں کو بازیاب کرایا: انڈین بحریہ\n\nSEO Title:\n\n’مدد کریں، ورنہ زندہ نہیں رہ پائیں گے‘: صومالی قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال پاکستانیوں کی اپیل\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "’مدد کریں، ورنہ زندہ نہیں رہ پائیں گے‘: صومالی قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال پاکستانیوں کی اپیل"
}