{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreigiknnrworilcprj75pk3mor7x7zlhdhn4xuvstvyfzoh3pcjsdzi",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mnbticfu2gf2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreiadjum3gknv2dwd2r654fe6qjbpdtkylju74sansta25i5adr5icu"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 90846
  },
  "path": "/node/186128",
  "publishedAt": "2026-06-02T02:45:20.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "سکول",
    "نجکاری",
    "سندھ",
    "سرکاری سکول",
    "ممتاز جمالی",
    "کیمپس",
    "video"
  ],
  "textContent": "**محکمہ تعلیم سندھ نے صوبے بھر میں مزید 72 سرکاری سکول مختلف غیر سرکاری تنظیموں کے حوالے کر دیے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ اقدام تعلیمی معیار بہتر بنانے اور کمیونٹی کی شمولیت بڑھانے کے لیے ’ایڈاپٹ آ سکول پروگرام پالیسی 2012‘ کے تحت کیا گیا ہے۔**\n\nمحکمہ تعلیم سندھ کی جانب سے 13 مئی کو جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق نئے سکول کراچی، ٹنڈو الہیار، مٹیاری، میرپور خاص، دادو، حیدرآباد اور نوشہرو فیروز کے اضلاع میں واقع ہیں۔\n\nیہ فیصلہ سات اپریل کو سیکریٹری تعلیم سندھ کی زیر صدارت ہونے والے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا، جس میں سکول ایڈاپشن پروگرام کے تحت مزید سکول غیر سرکاری اداروں کے حوالے کرنے اور پہلے سے ایڈاپٹ کیے گئے سکولوں کی کارکردگی کی بنیاد پر ان کی مدت میں توسیع کا فیصلہ بھی کیا گیا۔\n\nنوٹیفکیشن کے مطابق کراچی اور ٹنڈو الہیار کے 18، 18 سکول، مٹیاری کے 9، میرپور خاص کے 6، دادو کے 5، حیدرآباد کے 3 اور نوشہرو فیروز کے 2 سکول مختلف اداروں کو ایڈاپشن کے لیے دیے گئے ہیں۔\n\nسکولوں کا انتظام سنبھالنے والے اداروں میں این جی وی مینیجمنٹ، کرن فاؤنڈیشن، ٹیلی کام فاؤنڈیشن، لغاری ایجوکیشن فاؤنڈیشن، پاک ہیلپ لائن ویلفیئر ٹرسٹ سمیت دیگر تنظیمیں شامل ہیں۔\n\nمحکمہ تعلیم سندھ کے اعدادوشمار کے مطابق صوبے میں تقریباً 40 ہزار سرکاری سکول موجود ہیں۔ ان میں سے اب تک 380 سکول مختلف اداروں کے حوالے کیے جا چکے ہیں جبکہ 100 سے زائد ایڈاپٹر اس پروگرام کا حصہ ہیں۔\n\nمحکمہ تعلیم سندھ کے اعدادوشمار کے مطابق اب تک 380 سکول مختلف اداروں کے حوالے کیے جا چکے ہیں جبکہ 100 سے زائد ایڈاپٹر اس پروگرام کا حصہ ہیں (ممتاز جمالی/ انڈپینڈنٹ اردو)\n\n\n\n\nحکام کے مطابق حکومت اس ماڈل کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مزید وسعت دینے پر غور کر رہی ہے۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں سیکریٹری سکول ایجوکیشن سندھ زاہد علی عباسی نے کہا کہ سکول ایڈاپشن پروگرام کا مقصد سرکاری نظامِ تعلیم میں کمیونٹی کی شمولیت کو فروغ دینا ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nانہوں نے کہا: ’جب تک کمیونٹی خود شامل نہیں ہو گی، اس وقت تک پورا نظام مؤثر طریقے سے کام نہیں کر سکتا۔ ایڈاپشن پروگرام اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔‘\n\nزاہد عباسی کے مطابق اس پروگرام کے تحت سکول کی ملکیت اور بنیادی انتظام حکومت کے پاس ہی رہتا ہے جبکہ سرکاری اساتذہ بھی اپنی ذمہ داریاں جاری رکھتے ہیں، تاہم ایڈاپٹر ادارے اضافی سہولیات، انتظامی معاونت اور ترقیاتی کاموں میں تعاون فراہم کرتے ہیں۔\n\nانہوں نے کہا کہ اس ماڈل سے تعلیمی معیار میں بہتری آ سکتی ہے، بشرطیکہ نگرانی اور شفافیت کا نظام مؤثر ہو۔\n\nسیکریٹری تعلیم کے مطابق سکول ایڈاپشن کی مدت ابتدائی طور پر تین سال ہوتی ہے، جس کے بعد کارکردگی کا دوبارہ جائزہ لیا جاتا ہے۔ ان کے بقول کوئی بھی اہل این جی او، ریٹائرڈ سرکاری افسر یا سول سوسائٹی تنظیم طے شدہ پالیسی کے تحت سکول ایڈاپٹ کر سکتی ہے۔\n\nلیاری میں واقع ’کارا بھائی کریم جی گورنمنٹ بوائز سیکنڈری سکول‘ اس پروگرام کی ایک مثال ہے، جسے تین سال قبل ہول فاؤنڈیشن نے ایڈاپٹ کیا تھا۔\n\nحکام کے مطابق حکومت سکول ایڈاپشن کے ماڈل کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مزید وسعت دینے پر غور کر رہی ہے (ممتاز جمالی/ انڈپینڈنٹ اردو)\n\n\n\n\nسکول میں اس وقت ایل ای ڈی سکرینز، سولر سسٹم، باکسنگ اور جمناسٹک کی تربیت، فٹ بال سمیت مختلف سہولیات دستیاب ہیں۔\n\nسکول کے ایڈاپٹر حنین عباس کے مطابق ایڈاپشن کے بعد ادارے کی ذمہ داری صرف تدریس تک محدود نہیں رہتی۔\n\nانہوں نے بتایا کہ ’جب کوئی سکول ایڈاپٹ کیا جاتا ہے تو اسے اپنے بچے کی طرح سنبھالنا ہوتا ہے۔ اس کی تعلیم، سہولیات اور انتظامی امور سب اسی ذمہ داری میں آتے ہیں۔‘\n\nبقول حنین عباس، جب ان کے ادارے نے سکول سنبھالا تو طلبہ کی تعداد انتہائی کم تھی اور سکول تقریباً ویران دکھائی دیتا تھا، لیکن اب سکول میں نہ صرف تعلیمی معیار بہتر ہوا ہے بلکہ غیر نصابی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملا ہے۔\n\nانہوں نے کہا: ’اب اسے ایک محفوظ اور فعال تعلیمی ماحول میں تبدیل کیا جا چکا ہے، جہاں طلبہ کے ساتھ ساتھ بچیوں اور ماؤں کے لیے بھی تعلیمی مواقع موجود ہیں۔‘\n\nسکول\n\nنجکاری\n\nسندھ\n\nسرکاری سکول\n\nمحکمہ تعلیم سندھ کے اعدادوشمار کے مطابق صوبے میں تقریباً 40 ہزار سرکاری سکول موجود ہیں۔ ان میں سے اب تک 380 سکول مختلف اداروں کے حوالے کیے جا چکے ہیں جبکہ 100 سے زائد ایڈاپٹر اس پروگرام کا حصہ ہیں۔\n\nممتاز جمالی\n\nمنگل, جون 2, 2026 - 07:45\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">سیکریٹری سکول ایجوکیشن سندھ زاہد علی عباسی کے مطابق سکول ایڈاپشن پروگرام کا مقصد سرکاری نظامِ تعلیم میں کمیونٹی کی شمولیت کو فروغ دینا ہے (ممتاز جمالی/ انڈپینڈنٹ اردو)</p>\n\nکیمپس\n\njw id:\n\nh3NlUEbl\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nسندھ: سرکاری سکولوں میں اساتذہ حاضری کا فیس ریکگنیشن نظام متعارف\n\nپاکستان میں ’ڈھائی کروڑ بچے سکول سے باہر‘، تعلیم کی فراہمی کا آئینی وعدہ ناکام؟\n\nپنجاب سکولوں میں اساتذہ کے لیے گاؤن لازمی کرنے پر نئی بحث\n\nکئی زبانیں بولنے والی دیر بالا کی شمائلہ سکول کے بجائے انٹرنیٹ سے سیکھتی ہیں\n\nSEO Title:\n\nسندھ: 72 سرکاری سکول نجی اداروں کے حوالے، یہ ’ایڈاپشن پروگرام‘ ہے کیا؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "سندھ: 72 سرکاری سکول نجی اداروں کے حوالے، یہ ’ایڈاپشن پروگرام‘ ہے کیا؟"
}