{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreie35ihvnxm5tb2hgi3ju4p64pb2bu6pk2tnnldcu5dm5lckcl7uqq",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mnbksbw3jhz2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreigert4ibw4npxqbf4u33zbhpckqfelgg77ug7doyjskz2ifichpd4"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 67515
  },
  "path": "/node/186127",
  "publishedAt": "2026-06-02T02:30:59.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "قربانی",
    "بکرا",
    "گوشت",
    "عید الاضحیٰ",
    "آمنہ مفتی",
    "نقطۂ نظر",
    "news"
  ],
  "textContent": "**خواہشات، انسان کی زندگی میں مہمیز کا کام دیتی ہیں۔ روزمرہ کی خشت کوبی سے گھبرا کے انسان جب کسی ضرورت کی بجائے خواہش کے لیے کام کرتا ہے تو وہ ایک عامی سے ’ہیرو‘ بن جاتا ہے۔**\n\nیہ وہ سبق تھا جو ہم خود بھی پڑھتے رہے اور جب ہمیں موقع ملا تو ہم نے اپنے بچوں کو بھی پڑھایا اور اتنا پڑھایا کہ ہم سے پڑھنے کے بعد انہوں نے باقاعدہ کانوں کو ہاتھ لگا کر توبہ کی کہ اب باقی زندگی صرف ضروریات کے لیے ہی محنت کرنی ہے، نیز خواہشات کے راستے میں آنے والے کوہ گراں کاٹ کے فرہاد بننے سے بھی باضابطہ دست برداری کا اعلان کیا۔\n\nیعنی ہمارے شاگردوں میں سے کسی نے کبھی کوئی احمقانہ خواہش (خواہشات ہوتی ہی حماقت ہیں) نہیں کی اور آج تک سیدھی سیدھی نوکریاں کر رہے ہیں۔ مگر ہم خود خواہشوں کے اس سحر سے نہ بچ سکے اور دل ہی دل میں ایک خواہش پال بیٹھے۔\n\nیہ بھی قاعدہ ہے کہ ہر شخص کو اپنی خواہش معصومانہ ہی لگتی ہے۔ ہماری خواہش بھی معصومانہ ہے اور وہ یہ کہ کسی بقرعید پہ ہمیں کوئی بکرے کی ران بھیجے۔\n\nجانے وہ کون لوگ ہوتے ہوں گے جو کوئی خواہش کرتے ہیں اور ان کی خواہش پوری ہو جاتی ہے، ہمیں تو یہ خواہش کرتے کرتے آدھی صدی گزر گئی ران تو چھوڑیے ہمیں کسی نے کبھی گوشت کی ایک بوٹی بھی نہیں بھیجی۔ نہ کسی دوست نے اور نہ کسی رشتے دار نے۔\n\nکئی لوگوں کے سامنے ذکر کیا کہ ہم سری پائے اور اوجھڑی بھی اگر کوئی محبت سے بھیجے تو بڑی عقیدت سے کھاتے ہیں لیکن کسی نے گوش توجہ سے نہ نوازا۔\n\nالٹا اگر کسی سے زیادہ ذکر کیا تو اس نے کہا کہ بکرے کے پائے تو سارا سال کھائے جا سکتے ہیں، آپ یوں کیجیے کہ ہمیں گوشت کے ساتھ ایک پایہ بھی بھیج دیجیے گا، اگر ہم نے پکایا تو آپ کو بھی ایک پیالہ بھیج دیں گے۔\n\nاس قسم کے واقعات جب تسلسل سے ہوئے تو ہم نے اپنی یہ ننھی سی خواہش دل میں دبا لی اور سوچا کہ غور کریں، بکرے کی ران کن لوگوں کو بھیجی جاتی ہے تاکہ ہم بھی خود میں وہ خصوصیات پیدا کر لیں۔\n\nپہلی بات جو سمجھ آئی وہ یہ تھی کہ ران بیٹی کے سسرال بھیجی جاتی ہے۔ یہ خصوصیت خود میں پیدا کرنے کے لیے بڑا وقت درکار تھا۔ دوسری خاصیت تھی امارت، خیر سے ادیب ہو کے دوسری خصوصیت کے بارے میں سوچتے ہوئے بھی ہاسا نکل جاتا ہے۔\n\nتیسری خصوصیت تھی بڑا افسر، ادیب افسر بھی ہوسکتے ہیں مگر وہ ادیب ہوتے ہیں یا نہیں اس بارے میں قدما سے لے کے آج تک شدید اختلاف پایا جاتا ہے اس لیے یہ امکان بھی رد ہوا۔\n\nادھر ادھر بہت جھانکا کہ پتہ لگا سکیں کوئی تدبیر، کوئی شارٹ کٹ، کوئی جگاڑ، کچھ ایسا کریں کہ ایک موٹی تازی، نہ زیادہ بڑی، تین سوا تین کلو کی، ہلکی سی چربی کی تہہ چڑھی، پھبی ہوئی، گلابی ران، ایلومینیم فوائل میں لپٹی ہمارے گھر بھی آ سکے۔ مگر اے بسا آرزو کہ خاک شدہ! پاکستانی معاشرے میں قربانی کی ران کے حق دار بننے کے لیے جو مقام چاہیے ہوتا ہے ہم اس تک کبھی نہیں پہنچ سکتے۔\n\nتو اب یہ تھا کہ عید کے دن اپنی اس ننھی سی خواہش کو دل میں دبائے بیٹھے رہتے تھے، خاص کر جب سے ہم نے سبزی خور ہونے کا اعلان کیا تھا تب سے تو کوئی ہمیں عام دعوت پہ بھی نہیں بلاتا تھا۔ بلاوجہ ہمارے لیے دال ساگ پکانا پڑتا ہے۔ ایسے میں ران کی خواہش؟\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nمگر بات وہی ہے کہ یہ خواہشات ہی ہیں جو عام انسان کو، ہیرو بناتی ہیں اس جیسے دیگر انسانوں سے بلند کرتی ہیں، یہ خواہشات ہی ہیں جو دنیا کے بڑے بڑے انقلابوں کی وجہ بنی، وغیرہ وغیرہ۔\n\nتو صاحبان! اس خواہش کا تعلق نہ گوشت خوری سے ہے نہ کسی طرح کا لالچ ہی کارفرما ہے، یہ خواہش ہے اور اس کی کوئی تاویل نہیں۔ اِس عشق نہ اُس عشق پہ نادم ہے مگر دل کے مصداق، اس خواہش کے ساتھ جیے چلے جا رہے تھے کہ عید کے دوسرے دن دروازے کی گھنٹی بجی، سامنے میری بھانجی، ایلومینیم فوائل میں لپٹی، گلابی، ہلکی سی چربی کی تہہ چڑھی، پھبی ہوئی بکرے کی ران لیے کھڑی تھی۔\n\nمیں سمجھی کسی نے بھیجی ہوگی اور میرے خالی فریزر میں امانتاً رکھنے کے لیے لائی گئی ہے مگر یوں نہ تھا، یہ ران میرے لیے لائی گئی تھی، میں جو نہ کسی کی سمدھن تھی، نہ سرکاری افسر نہ ہی کوئی دولت مند انسان پھر بھی یہ ران میرے لیے لائی گئی تھی کیوں؟\n\n’خالہ میں نے اس سال جاب کی اور یہ پورا بکرا صرف اور صرف میں نے کیا ہے، اس میں ماما بابا کا کوئی حصہ نہیں اور یہ ران آپ کے لیے ہے سارے رشتے داروں کا حصہ کیونکہ ایک بھانجی کے لیے جو خالہ کا مقام ہوتا ہے وہ کسی کا نہیں ہوتا۔ عید مبارک!‘\n\nرامین جا چکی ہے اور میرے آنسو نہیں تھم رہے۔ واقعی، انقلاب آچکا ہے، معاشرے میں ایک ادیب خالہ کا مقام کسی بھی بڑے آدمی سے بڑھ کر تسلیم کیا جا چکا ہے اور اس انقلاب میں شاید کہیں نہ کہیں ہمارے لکھے دو لفظوں کا حصہ بھی ہے۔\n\nران کا کیا ہوا یہ کہانی پھر سہی، فی الحال تو یہ بتاتے چلیں کہ دنیا میں خالہ بھانجی کے رشتے سے زیادہ پیارا رشتہ کوئی نہیں ہوتا، عید، بقر عید، شب برات، محبتیں بانٹیں، آپ جن سے محبت کرتے ہیں انہیں ضرور بتائیں۔ محبت کی زبان بھی وہی ہوتی ہے جو ہر دوسرے جذبے کی زبان ہے۔ گذشتہ عید مبارک!\n\n_نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔_\n\nقربانی\n\nبکرا\n\nگوشت\n\nعید الاضحیٰ\n\nپاکستانی معاشرے میں قربانی کی ران کے حق دار بننے کے لیے جو مقام چاہیے ہوتا ہے ہم اس تک کبھی نہیں پہنچ سکتے۔\n\nآمنہ مفتی\n\nمنگل, جون 2, 2026 - 07:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">27 مئی 2026 کو کراچی میں عید الاضحیٰ پر ایک خاتون قربانی کے جانور کو لے جا رہی ہیں (آصف حسن / اے ایف پی)</p>\n\nنقطۂ نظر\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nفیصل آباد: سات لاکھ روپے انعام جیتنے والا ’قربانی‘ کا ’بازی گر‘ بکرا\n\nکیا پٹیری پاکستان میں قربانی کا خوبصورت ترین بکرا ہے؟\n\nبڑے شہروں میں بکرا منڈیوں کی حوصلہ شکنی کا فیصلہ\n\n’بکرا بیچ کر پشاور زلمی ٹیلنٹ ہنٹ کا حصہ بنا ‘\n\nSEO Title:\n\nبکرے کی ران\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "بکرے کی ران"
}