{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreicsgxtzizbqp6e65qjlilz4m2tkjevj4iv67tvfmkfchreil5jkzm",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mnbe4o3ycep2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreicspv3ibjrrrfcwa6y5l76drpaiw6ywuirwwgqipvlltfhddurjjq"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 133709
},
"path": "/node/186120",
"publishedAt": "2026-06-01T01:55:34.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"فلسطین",
"لبنان",
"اسرائیلی جارحیت",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"تاریخ",
"video"
],
"textContent": "**لبنان میں قَلعہ شُقیف پر ایک بار پھر قبضہ کیا جا چکا ہے۔ جنوبی لبنان سے اسرائیلی انخلا کے 26 برس سے زیادہ عرصے بعد اسرائیلی فوج نے دوبارہ لبنان پر حملہ کر کے وہاں کی ایک نہایت علامتی اور تاریخی جگہ پر قبضہ کر لیا ہے۔**\n\nلیکن شُقیف کا قَلعہ کیا ہے؟ اور یہ قَلعہ آج بھی اتنی اہمیت کیوں رکھتا ہے؟\n\nشُقیف کا قَلعہ، جسے بیوفورٹ قَلعہ بھی کہا جاتا ہے، جنوبی لبنان میں نَبَطِيِّه کے قریب ایک پتھریلی پہاڑی چوٹی پر واقع ہے جو دریائے لي طاني کے سامنے ہے۔ یہ سطح سمندر سے تقریباً 700 میٹر بلند ہے، جس کی وجہ سے یہاں سے جنوبی لبنان، شمالی فلسطین کے علاقے الجلیل ال اعلا اور خطے کے اہم راستوں پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔\n\nاسی لیے شُقیف محض ایک قَلعہ نہیں تھا، یہ ایک نگرانی کی چوکی تھا۔ ایک فوجی مقام تھا اور بہت سے فلسطینیوں اور لبنانیوں کے لیے مزاحمت کی علامت تھا۔\n\nاس کی تاریخ تقریباً 900 سال پرانی ہے۔ صلیبی جنگجوؤں نے 12ویں صدی میں، تقریباً 1139 میں، اس مقام پر قبضے کے بعد یہ قَلعہ تعمیر کیا۔ بعد ازاں 1190 میں مسلم رہنما صلاح الدین ایوبی نے اسے فتح کر لیا۔\n\nچند دہائیوں بعد صلیبیوں نے دوبارہ اس پر قبضہ کر لیا، لیکن بالآخر 1268 میں مملوک سلطان الظاہر بیبرس نے اسے دوبارہ مسلم اقتدار میں شامل کر لیا۔ یوں شُقیف ہمیشہ سے وہ مقام رہا ہے جہاں سلطنتیں، افواج اور مزاحمتی تحریکیں ایک دوسرے سے ٹکراتی رہی ہیں۔\n\nتاہم اس کی جدید علامتی حیثیت 1980 کی دہائی سے جڑی ہوئی ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\n1982 میں، اس وقت کے اسرائیلی وزیر دفاع ایریل شیرون کے دور میں لبنان پر اسرائیلی حملے کے دوران، شُقیف جنگ کے اولین بڑے معرکوں میں سے ایک بن گیا۔ فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) کے تقریباً 27 فلسطینی فائٹر اپنے لبنانی اتحادیوں کے ساتھ قَلعے اور اس کے اطراف میں موجود تھے جب اسرائیلی افواج نے پیش قدمی کی۔\n\nفلسطینی بیانیہ بتاتا ہے کہ 27 فائٹرز کے ایک چھوٹے سے گروہ نے تقریباً 60 گھنٹے تک ایک بہت بڑی اسرائیلی فوج کے 1200 سے زائد اہلکاروں کا مقابلہ کیا۔ بالآخر قَلعے پر قبضہ ہو گیا اور اسرائیل نے جنوبی لبنان میں اپنی طویل فوجی موجودگی کے دوران اس پر یہ قبضہ برقرار رکھا۔\n\nاسرائیل کے لیے شُقیف ایک اہم فوجی بلندی تھی۔ فلسطینیوں اور لبنانیوں کے لیے یہ مزاحمت کی ایک یاد بن گیا اور کئی برس تک یہ اسرائیلی قبضے میں رہا۔\n\nمئی 2000 میں لبنان کی مزاحمتی کارروائیوں میں اضافے کے بعد اسرائیل نے جنوبی لبنان سے انخلا کر لیا۔ اسی لیے آج شُقیف پر دوبارہ قبضہ صرف ایک قدیم قَلعے کا معاملہ نہیں۔ یہ تاریخ کے ایک باب کو دوبارہ کھولنے کے مترادف ہے۔\n\nیہ لبنانی سرزمین کا ایک ایسا مقام ہے جو تاریخ، یادوں اور علامتی اہمیت سے بھرپور ہے۔\n\nفلسطین\n\nلبنان\n\nاسرائیلی جارحیت\n\nشُقیف کا قَلعہ کیا ہے؟ اور یہ قَلعہ آج بھی اتنی اہمیت کیوں رکھتا ہے؟\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nسوموار, جون 1, 2026 - 07:00\n\nMain image:\n\n> <p>لبنان کے قدیم قلعے شقیف پر 31 مئی 2026 کو اسرائیل نے قبضے کے بعد اپنا جھنڈا لگا دیا (اے ایف پی)</p>\n\nتاریخ\n\njw id:\n\nCMlPEdKW\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nاسرائیلی فوج کا لبنان میں لبنان میں اتوار کو قلعہ شقيف پر قبضے کا دعویٰ\n\nلبنان میں حضرت عیسیٰ کا مجمسہ توڑنے والا ہمارا فوجی ہے: اسرائیل\n\nغزہ: القسام بریگیڈز کے نئے سربراہ محمد عودہ کی اسرائیلی حملے میں موت\n\nغیر مسلح ہوں گے نہ غیر ملکی تسلط قبول: حماس\n\nSEO Title:\n\nبارہویں صدی میں تعمیر ہونے والا لبنان کا قلعہ شقیف آج بھی اہم کیوں ہے؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "بارہویں صدی میں تعمیر ہونے والا لبنان کا قلعہ شقیف آج بھی اہم کیوں ہے؟"
}