{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreidhhadnzt7plafc36omg5alwsijhc64vzjvg6iibgmsbnv4u7zwfq",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mnbe4cw2j3q2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreig6c5supvkkyc3clymrdjuwcfun6l5d3kpxi6ziqgdhi6feuy4jnq"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 179388
  },
  "path": "/node/186122",
  "publishedAt": "2026-06-01T03:13:14.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "پاکستان",
    "ایران",
    "امریکہ",
    "کفایت شعاری",
    "معیشت",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "video"
  ],
  "textContent": "**اسلام آباد انتظامیہ نے کفایت شعاری مہم میں چند روز کی نرمی کے بعد ایک مرتبہ پھر سے دارالحکومت میں یکم جون سے تمام دکانیں، بازار اور شاپنگ مالز کو رات آٹھ بجے بند کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔**\n\nڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی جانب سے اتوار کو جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق گذشتہ احکامات میں جزوی ترامیم کی گئی ہیں۔\n\nایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں اور آبنائے ہرمز کے بند ہونے کے بعد سے پاکستان حکومت نے ملک میں کفایت شعاری مہم کا آغاز کیا تھا جس کے تحت بازاروں، دکانوں اور شاپنگ مالز کو رات آٹھ بجے بند کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔\n\nتاہم گذشتہ ماہ عید الاضحیٰ کے دوران ان پابندیوں کو اٹھا لیا گیا تھا جنہیں اب دوبارہ نافذ کیا جا رہا ہے۔\n\nڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق 18 مئی 2026 کے سابقہ نوٹیفکیشن میں جزوی ترمیم کرتے ہوئے کفایت شعاری اقدامات کے پیش نظر دارالحکومت میں تمام دکانیں، بازار اور شاپنگ مالز ہفتے کے ساتوں دن رات 8:00 بجے بند کرنے کے احکامات جاری کیے جا رہے ہیں۔\n\n**پابندی کا اطلاق کس پر ہوگا**\n\nدکانوں، بازاروں اور شاپنگ مالز کے علاوہ تمام ریسٹورنٹس، فوڈ آؤٹ لیٹس، تنور، کریانہ سٹورز، گوشت کی دکانیں، پھل (خشک میوہ جات سمیت) کی دکانیں، سبزی فروش اور بیکریز رات 10:00 بجے بند ہوں گے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nالبتہ ٹیک اوے اور ہوم ڈیلیوری سروسز پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔\n\nشادی ہالز، مارکیز اور دیگر تمام تجارتی مقامات جہاں تقریبات منعقد ہوتی ہیں، پورا ہفتہ رات 10:00 بجے بند ہوں گے۔ یہی اوقات نجی گھروں یا پرائیویٹ مقامات پر ہونے والی تقریبات پر بھی لاگو ہوں گے۔\n\n**کس کو استثنیٰ حاصل ہے**\n\nنوٹیفیکیشن کے مطابق فارمیسیز / میڈیکل سٹورز، میڈیکل سپلائی سٹورز، میڈیکل لیبارٹریز اور ہسپتال، پیٹرول پمپس اورسی این جی سٹیشنز، دودھ / ڈیری شاپس، کھیلوں کی سہولیات بشمول جم اور پیڈل کورٹس، کال سینٹرز اور بین الاقوامی کلائنٹس کے ساتھ کام کرنے والی آئی ٹی کمپنیوں کو پابندی سے استثنیٰ دیا گیا ہے۔\n\n**تاجر برادری کی دھمکی**\n\nدوسری جانب اسلام آباد کے تاجر کفایت شعاری مہم کے تحت کاروباری مراکز پر حکومتی پابندیوں، راول پنڈی اور اسلام آباد میں سکیورٹی، غیر ملکی وفود کی آمد و رفت اور کرکٹ میچوں کی وجہ سے اہم شاہراہوں کی بندش پر سراپا احتجاج ہیں۔\n\nپاکستان میں تاجروں کی سینٹرل ایسوسی ایشن کے صدر کاشف چوہدری نے اتوار کو ایک ویڈیو پیغام میں ملک گیر احتجاج کی وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یکم جون کے بعد سے ملک میں کسی بھی قسم کی مارکیٹ یا کاروبار کی بندش ’معاشی دہشت گردی‘ کے مترادف ہوگی۔\n\nتاجروں نے حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ توانائی کی بچت کے لیے لگائی گئی کاروباری پابندیوں کو مستقل طور پر ختم کیا جائے۔\n\nانہوں نے خبردار کیا کہ اگر یکم جون کے بعد دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا تو ہم ملک گیر احتجاجی تحریک دوبارہ شروع کریں گے۔\n\nپاکستان\n\nایران\n\nامریکہ\n\nکفایت شعاری\n\nمعیشت\n\nاسلام آباد انتظامیہ نے تاجر برادری کی جانب سے احتجاج کی دھمکی کے باوجود دارالحکومت میں یکم جون سے تمام دکانیں، بازار اور شاپنگ مالز رات آٹھ بجے بند کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nسوموار, جون 1, 2026 - 08:00\n\nMain image:\n\n> <p>اسلام آباد کے ایک بازار میں دکاندار 7 اپریل 2026 کو حکومتی احکامات کے پیش نظر اپنی دکان کو بند کر رہا ہے (فائل فوٹو/ اے ایف پی)</p>\n\nمعیشت\n\njw id:\n\nCnqbZ8ik\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nکفایت شعاری مہم: پی ایس ایل خالی میدانوں میں ہو گی\n\nکفایت شعاری مہم: 86 واں یوم پاکستان سادگی سے منایا جا رہا ہے\n\nکاروباری پابندیاں دوبارہ لگائیں تو ملک گیر احتجاج ہو گا: پاکستانی تاجر\n\nSEO Title:\n\nکفایت شعاری مہم: اسلام آباد میں پھر سے دکانیں، بازار رات آٹھ بجے بند کرنے کا حکم\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "کفایت شعاری مہم: بازار رات آٹھ بجے بند کرنے کا حکم"
}