{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreidhcywhbgofzogsffmzpc7b6inclkrz5ktk7bkl6ed5lxvjitraia",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mn6mwwyvhhv2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreidlogaabbe3azoylg56rd7oqwzstur3ca5y2kfd3z33vkvqgpmfsi"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 131138
},
"path": "/node/186109",
"publishedAt": "2026-05-31T03:11:05.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"روایتی کھیل",
"ملتان",
"پنجاب",
"سوشل میڈٰیا",
"محمد وسیم",
"نئی نسل",
"video"
],
"textContent": "**پاکستان کے دیہی اور مضافاتی علاقوں میں جہاں جدید کھیل عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو رہے ہیں، وہاں ملتان کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں صدیوں پرانا روایتی کھیل ’گلی ڈنڈا‘ آج بھی بچوں اور جوانوں کو متحرک رکھنے اور سستی تفریح فراہم کرنے کا ایک بہترین ذریعہ بنا ہوا ہے۔**\n\nملتان صدر کی بستی کاواں والی کے رہائشی محمد رمضان نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ آج کل کے بچے ہر وقت موبائل فون پر فوکس کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی جسمانی سرگرمیاں ختم ہو کر رہ گئی ہیں، اسی لیے وہ اپنے بچوں کو گلی ڈنڈے کی طرف لا رہے ہیں تاکہ ان کا وقت کھیلوں میں گزرے، موبائل کا استعمال کم ہو اور ان کی جسمانی ورزش بھی ہوتی رہے کیونکہ اس کھیل سے بچے ایکٹو رہتے ہیں۔\n\nان کا کہنا تھا کہ وہ خود پچھلے 35 سال سے اس کھیل کو اپنے گاؤں میں دیکھ رہے ہیں اور ان کا اپنا بچپن بھی اسی کو کھیلتے گزرا ہے، اب وہ اپنے بچوں کو بھی اسی طرف لا رہے ہیں کیونکہ ان کے مطابق موبائل نوجوان نسل کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے جبکہ کھیلوں میں آنے سے بچے ٹیم ورک سیکھتے ہیں، دوستوں کے ساتھ بیٹھتے ہیں۔\n\nمحمد رمضان مزید کہتے ہیں کہ کرکٹ کے لیے 22 کھلاڑیوں، بڑے گراؤنڈ اور امپائر کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ان کے ڈیرے ٹائپ چھوٹے علاقوں میں ایسے گراؤنڈ نہیں ہیں، جبکہ گلی ڈنڈے کی خوبصورتی یہ ہے کہ اگر صرف دو لڑکے مل جائیں تو بھی یہ کھیل کھیلا جا سکتا ہے اور اس کے لیے کسی بڑے گراؤنڈ کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ جہاں مرضی تھوڑی سی جگہ صاف کر کے اسے سٹارت کیا جا سکتا ہے۔\n\nاسی بستی کے ایک اور رہائشی اسد علی نے کھیل کے دیسی اور آسان ہونے پر روشنی ڈالتے ہوئے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ کام کاج کرنے والے دیہاتی لوگ ہیں اور دیگر کھیلوں کے لیے جہاں مخصوص جگہ اور گراؤنڈز چاہیے ہوتے ہیں، وہیں گلی ڈنڈا ایک ایسا کھیل ہے جسے کسی بھی جگہ کھیلا جا سکتا ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nوہ بتاتے ہیں کہ ’درخت سے کلہاڑی کے ذریعے لکڑی کاٹو تو اسی وقت گِلی بھی بن جاتی ہے اور ڈنڈا بھی تیار ہو جاتا ہے، اس لیے اس کھیل پر کوئی خرچہ نہیں ہوتا اور امیر غریب کا کوئی چکر نہیں ہے۔‘\n\nکھیل کے اصولوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ یہ کھیل کرکٹ سے کافی ملتا جلتا ہے کیونکہ اس کے اندر بھی باؤنڈری سسٹم ہوتا ہے لیکن اس کا قانون تھوڑا مختلف ہے کہ اس میں گلی کو ہٹ کرنے کے لیے تین بار چانس ملتا ہے، اگر تینوں بار میں ہٹ نہ ہو تو کھلاڑی آؤٹ ہو جاتا ہے۔\n\nاسد علی نے مزید بتایا کہ اس میں کرکٹ کی طرح چھکا نہیں ہوتا بلکہ گلی جتنی دور جائے اس حساب سے سکور ملتا ہے، اگر پہلی ہی ہٹ پر گلی دور چلی جائے تو دو سکور ملتے ہیں، دوسری ہٹ پر ایک سکور ملتا ہے اور اگر تیسری ہٹ پر لگے تو سکور تو نہیں ملتا لیکن کھلاڑی کی باری بچ جاتی ہے اور وہ دوبارہ کھیلتا ہے۔\n\nبستی کاواں والی کے ہی ایک نوجوان کھلاڑی شانی چودھری نے کھیل کے طریقہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اس کھیل میں ایک بڑا ڈنڈا اور ایک چھوٹی گلی ہوتی ہے اور زمین میں ایک چھوٹا کھڈا کھودا جاتا ہے جسے مقامی زبان میں ’پِلی‘ کہتے ہیں۔ گلی کو اس پِلی کے اوپر رکھ کر ڈنڈے سے آرام سے اوپر اٹھا کر دور پھینکا جاتا ہے اور اس میں تین، پانچ، سات یا دس کھلاڑی بھی مل کر کھیل سکتے ہیں۔\n\nانہوں نے بتایا کہ اس کا پورا باؤنڈری سسٹم کرکٹ کی طرح ہوتا ہے کہ اگر گلی زمین کے ساتھ لڑکتی ہوئی لائن سے باہر جائے تو چار رنز اور اگر اوپر سے ہوا میں جائے تو چھ رنز گنے جاتے ہیں، اسی طرح اگر شاٹ مارنے پر فیلڈنگ کرنے والا کھلاڑی گلی کو ہوا میں ہی پکڑ لے تو کھیلنے والا کیچ آؤٹ ہو جاتا ہے۔\n\nشانی چودھری کا کہنا تھا کہ اگر کیچ نہ ہو تو جہاں گلی گرتی ہے وہاں سے فیلڈر اسے واپس پِلی پر آڑے رکھے گئے ڈنڈے کی طرف پھینکتا ہے، اگر گلی ڈنڈے کو ٹچ ہو جائے تو بھی کھلاڑی آؤٹ مانا جاتا ہے، ورنہ کھلاڑی دوبارہ اپنی باری لیتا ہے اور اس کھیل میں وقت کی کوئی قید نہیں ہوتی بلکہ یہ کھلاڑی کی مہارت پر منحصر ہوتا ہے۔\n\nدیہی مضافات کے رہائشیوں کے مطابق گلی ڈنڈا صرف ایک کھیل ہی نہیں بلکہ ان کا ثقافتی ورثہ ہے جو نئی نسل کو سوشل میڈیا کے منفی اثرات سے دور رکھنے اور انہیں ایک دوسرے کے قریب لانے کا ایک بہترین اور روایتی ذریعہ ہے۔\n\nروایتی کھیل\n\nملتان\n\nپنجاب\n\nسوشل میڈٰیا\n\nرہائشیوں کے مطابق گلی ڈنڈا صرف ایک کھیل ہی نہیں بلکہ ان کا ثقافتی ورثہ ہے جو نئی نسل کو سوشل میڈیا کے منفی اثرات سے دور رکھنے اور انہیں ایک دوسرے کے قریب لانے کا ایک بہترین اور روایتی ذریعہ ہے۔\n\nمحمد وسیم\n\nاتوار, مئی 31, 2026 - 08:15\n\nMain image:\n\nنئی نسل\n\njw id:\n\nn95EhAw1\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nروایتی کھیل ’مخہ‘ کے لیے مضبوط اعصاب کا ہونا ضروری\n\nگوجرانوالہ: موبائل فون کے دور میں بھی بچیوں میں مقبول روایتی کھیل ’شٹاپو‘\n\n’سکوئڈ گیم‘ میں شامل پاکستان کے روایتی کھیل\n\nحاصل پور کا روایتی کھیل ’چاری‘، جو بزرگوں کو اکٹھا کر دیتا ہے\n\nSEO Title:\n\nملتان: گِلی ڈنڈے کے ذریعے بچوں کو موبائل سے دور کرنے کی کوشش\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "ملتان: گِلی ڈنڈے کے ذریعے بچوں کو موبائل سے دور کرنے کی کوشش"
}