{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreibxbomljqjainx22hey6szeuo2i7nquj23573g2ma6l54wkz4bvzu",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mn6mwnss4q62"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreic7d33ttc3ap6famao7g2pa3y2ovg6r4spkcurqjmn3irojflsz3u"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 81606
  },
  "path": "/node/186111",
  "publishedAt": "2026-05-31T04:43:35.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "سعودی عرب",
    "حج 2026",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "میری کہانی",
    "video"
  ],
  "textContent": "**حج کے دوران بہت سے سعودی رضاکاروں کے لیے خدمت صرف انتظام، ہجوم کو سنبھالنے یا حجاج کی رہنمائی تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ یہ خوف کو سکون میں بدلتے دیکھنے، پریشانی کو اطمینان میں بدلتے محسوس کرنے اور اجنبیوں کو ایسے لوگوں میں بدلتے دیکھنے کا نام ہے جن سے حج کے بعد بھی تعلق قائم رہ سکتا ہے۔**\n\nعرب نیوز کے مطابق مکہ، منیٰ اور دیگر مقدس مقامات پر رضاکار صحت، رہنمائی، مہمان نوازی اور ہنگامی امداد جیسے شعبوں میں خدمات انجام دیتے ہیں۔ وہ گھنٹوں بزرگ حجاج کی مدد کرتے ہیں، گمشدہ افراد کو راستہ دکھاتے ہیں، اور دنیا بھر سے آنے والے لوگوں کے ساتھ زبان کی رکاوٹوں کے باوجود رابطہ قائم کرتے ہیں۔\n\nایک دہائی سے زیادہ عرصے سے حج پر رضاکارانہ خدمات انجام دینے والے عبداللہ علی کہتے ہیں کہ حجاج کی خدمت ان کی شخصیت کا حصہ بن چکی ہے۔ وہ گمشدہ حجاج کی رہنمائی کرتے ہیں اور استقبال و مہمان نوازی کے پروگراموں میں حصہ لیتے ہیں۔\n\nان کا کہنا ہے کہ ’آپ سب سے پہلے حاجیوں کو اس وقت دیکھتے ہیں جب وہ گم جاتے ہیں اور خوفزدہ ہوتے ہیں۔ ان میں سے اکثر بزرگ ہوتے ہیں، اور ان کے چہروں پر خوف صاف نظر آتا ہے۔ کچھ خود کو بالکل تنہا اور بے بس محسوس کرتے ہیں۔‘\n\nعبداللہ علی بتاتے ہیں کہ جیسے ہی ان حاجیوں کو ان کے گروپ سے ملا دیا جاتا ہے یا محفوظ طریقے سے ان کے ہوٹل پہنچا دیا جاتا ہے، ان کے تاثرات فوراً بدل جاتے ہیں۔\n\n’ان کے چہرے کھل اٹھتے ہیں، مسکراہٹ واپس آ جاتی ہے، اور پھر وہ آپ کو دل سے دعائیں دیتے ہیں۔‘\n\nعبداللہ علی کے مطابق یہ لمحات رضاکاروں کے لیے سب سے زیادہ جذباتی ہوتے ہیں۔\n\n’وہ دعائیں، خاص طور پر آنسوؤں کے ساتھ، بہت کافی ہوتی ہیں۔ یہ ایک ایسا احساس ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ جب آپ کسی کو خوفزدہ دیکھیں اور پھر آپ کی مدد سے اسے سکون مل جائے، یا آپ کسی کی مشکل آسان کرنے کا سبب بن جائیں، تو جو خوشی محسوس ہوتی ہے اسے بیان کرنا آسان نہیں۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nبیرونِ ملک سے آنے والے زائرین کے ساتھ رابطہ رضاکاروں کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہوتا ہے، کیونکہ حجاج مختلف زبانیں بولتے ہیں اور الگ الگ ثقافتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔\n\nعبداللہ علی کے مطابق جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت پر مبنی ترجمہ کرنے والے آلات نے حالیہ برسوں میں زبان کی رکاوٹ کافی حد تک کم کر دی ہے۔ لیکن ان کے نزدیک حج میں رضاکارانہ خدمت انسان کو لفظوں سے زیادہ جذبات کے ذریعے دوسروں سے جڑنا سکھاتی ہے۔\n\nوہ کہتے ہیں کہ ’سب سے پہلی زبان جو ہر انسان سمجھتا ہے، وہ مسکراہٹ کی زبان ہے۔ ایک مسکراہٹ حاجی کو سکون اور اعتماد دیتی ہے۔ یہ اسے بتاتی ہے کہ فکر نہ کرو۔‘\n\nایک اور سعودی رضاکار محمد نجار، جو تقریباً دو سال سے حجاج کی خدمت کر رہے ہیں، کہتے ہیں کہ اس تجربے نے ان کی انسانوں اور تعلقات کے بارے میں سوچ بدل دی ہے۔\n\nانہوں نے عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’مجھے لگتا ہے کہ میں حاجیوں سے خود بھی بہت کچھ سیکھتا ہوں۔ میں نے مختلف لوگوں سے، مختلف ثقافتوں سے، ان کے سوچنے، بولنے اور بات چیت کرنے کے انداز سے بہت کچھ سیکھا ہے۔‘\n\nگذشتہ حج کے دوران محمد نجار اور ان کے ساتھی خاص طور پر ان حاجیوں کی مدد کر رہے تھے جنہیں زیادہ پیدل چلنے اور شدید گرمی کے باعث ذیابیطس کے سبب پاؤں میں زخم ہو گئے تھے۔\n\nانہوں نے بتایا: ’ہم ایسے حاجیوں کو تلاش کرتے تھے جنہیں پاؤں کے مسائل ہوتے، اور انہیں خصوصی طبی موزے اور نرم حفاظتی سامان فراہم کرتے تھے تاکہ وہ اپنا حج جاری رکھ سکیں۔‘\n\nانہوں نے ایک پاکستانی حاجی کا واقعہ بھی یاد کیا جس کے پاؤں میں شدید زخم تھا۔\n\n’ہم نے فوری طور پر طبی عملے سے رابطہ کیا اور انہیں ہسپتال لے گئے۔ علاج کے بعد میں اگلے دن خود ان کی خیریت پوچھنے گیا، کیونکہ میں چاہتا تھا کہ وہ محسوس کریں جیسے ان کے اپنے گھر کا کوئی فرد ان کے ساتھ ہے۔‘\n\nمحمد نجار کہتے ہیں کہ حج میں رضاکارانہ خدمت صرف کام مکمل کرنے کا نام نہیں۔\n\n’کبھی کبھی میں حاجیوں کے اپنے ملک واپس جانے کے بعد بھی ان سے رابطہ کرتا ہوں، صرف ان کی خیریت پوچھنے کے لیے۔ بہت سے لوگ حیران ہوتے ہیں کہ کوئی انہیں یاد بھی رکھتا ہے۔‘\n\nوہ کہتے ہیں کہ اگرچہ حج میں رضاکارانہ خدمت جسمانی طور پر تھکا دینے والی ہوتی ہے، مگر جذباتی طور پر بے حد تسکین بخش بھی ہے۔\n\n’میں جتنا اس خدمت کے قریب آتا ہوں، اللہ مجھے اتنی ہی زیادہ توانائی دیتا ہے۔‘\n\nسعودی عرب\n\nحج 2026\n\nمکہ، منیٰ اور دیگر مقدس مقامات پر رضاکار صحت، رہنمائی، مہمان نوازی اور ہنگامی امداد جیسے شعبوں میں خدمات انجام دیتے ہیں۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nاتوار, مئی 31, 2026 - 09:45\n\nMain image:\n\n> <p>حج 2026 کے دوران سعودی وزارت میونسپلٹی اور ہاؤسنگ کے 17 ہزار سے زائد رضاکاروں نے حجاج کو سہولیات فراہم کیں (ایس پی اے)</p>\n\nمیری کہانی\n\njw id:\n\nO5LQ5ghT\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nخطبہ حج: امام کا ہم آہنگی، تعاون اور اتحاد پر زور\n\nمسجد الحرام میں ڈیجیٹل نظام متعارف: حجاج علما سے بات کر سکیں گے\n\nپاکستان نے عازمین حج کے لیے گائیڈز تعینات کر دیے\n\nخطبہ حج اس سال 35 زبانوں میں نشر کیا جائے گا\n\nSEO Title:\n\n’اللہ توانائی دیتا ہے‘: حجاج کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے والے رضاکار\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "’اللہ توانائی دیتا ہے‘: حجاج کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے والے رضاکار"
}