{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreidwdlszytfegkudfo3hqs3bzbwhen7cucxnxm45ghz4xpor5poemu",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mn6mwaylfma2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreiforqah5tyymuby3dr7plwrkeqphdvicreudpoizhiiueujdyojsu"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 68258
  },
  "path": "/node/186114",
  "publishedAt": "2026-05-31T11:40:03.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "انڈیا",
    "پاکستان فوج",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "ایشیا",
    "video"
  ],
  "textContent": "**پاکستان فوج کے ایک سینیئر افسر نے انڈیا کی بڑھتی ہوئی ملٹریزیشن اور اشتعال انگیز بیانات کو جنوبی ایشیا میں علاقائی استحکام کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جغرافیائی سیاسی رقابت کے باوجود ’مذاکرات کا سلسلہ کبھی منقطع نہیں ہونا چاہیے۔‘**\n\nگذشتہ سال مئی میں ہونے والی فوجی جھڑپوں کے بعد سے ایٹمی طاقت رکھنے والے پڑوسی ممالک پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے۔\n\nمئی کی جنگ میں دونوں ممالک نے کئی روز تک ایک دوسرے پر میزائل حملے، ڈرون کارروائیاں، جنگی طیاروں کے ذریعے حملے اور توپ خانے کا استعمال کیا، جس کے بعد جنگ بندی پر اتفاق ہوا۔\n\nدونوں ممالک ایک دوسرے پر اپنی سرزمین میں ہونے والی عسکریت پسندانہ کارروائیوں کی حمایت کا الزام بھی عائد کرتے رہتے ہیں۔\n\nانڈین آرمی چیف جنرل اوپیندر دویدی نے ہفتے کو خبردار کیا تھا کہ اگر حالات نے تقاضا کیا تو انڈین فوج پاکستان کے خلاف ایک اور فوجی کارروائی کے لیے تیار ہے۔\n\nسنگاپور میں ہفتے کو منعقد ہونے والے شنگریلا ڈائیلاگ سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان فوج کی فرسٹ کور کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل نعمان ذکریا نے کہا کہ انڈین ’ملٹریزیشن‘، جارحانہ بیانیہ اور دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان بحران سے نمٹنے کے مؤثر طریقہ کار کا فقدان علاقائی استحکام کو مسلسل کمزور کر رہا ہے۔\n\nانہوں نے کہا ’جغرافیائی سیاسی رقابت کے ادوار میں بھی مذاکرات کا سلسلہ کبھی منقطع نہیں ہونا چاہیے۔ تاریخ بارہا ثابت کر چکی ہے کہ تزویراتی استحکام صرف دفاعی صلاحیت ہی سے نہیں بلکہ باہمی رابطے اور مواصلت سے بھی برقرار رہتا ہے۔‘\n\nانہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں تزویراتی استحکام اب بھی جوہری دفاعی توازن، روایتی فوجی عدم مساوات، دیرینہ سیاسی کشیدگی اور پاکستان و انڈیا کے درمیان حل طلب علاقائی و نظریاتی تنازعات سے متاثر ہے۔\n\nجنرل ذکریا نے کہا کہ مئی 2025 میں انڈین حملوں کے جواب میں پاکستان کے ردِعمل نے ’جنوبی ایشیا میں جنگ کی گنجائش‘ کے تصور کو غلط ثابت کر دیا۔\n\nانہوں نے مزید کہا ’تنازعے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے روایتی جنگ کے امکانات کو مزید محدود کر دیا۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nان کا کہنا تھا کہ غلط فہمیوں کے خاتمے اور اسلحے کی دوڑ کو روکنے کے لیے اعتماد سازی کے اقدامات، شفافیت کے نظام اور ریاستوں کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات ناگزیر ہیں۔\n\nانہوں نے ادارہ جاتی سطح پر بحران سے نمٹنے کے طریقہ کار اور تزویراتی رابطوں کے ذرائع کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔\n\nجنرل ذکریا نے کہا ’ایسی دنیا میں جہاں فیصلے کرنے کے لیے وقت بہت محدود ہوتا جا رہا ہے، براہ راست رابطے کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔‘\n\nشنگری لا ڈائیلاگ ایک سالانہ سربراہی اجلاس ہے جس میں دنیا بھر سے اعلیٰ دفاعی حکام، سینیئر فوجی افسران، سفارت کار، اسلحہ ساز کمپنیاں اور سکیورٹی امور کے ماہرین شرکت کرتے ہیں۔\n\nاگرچہ دونوں ممالک اس وقت براہ راست مسلح تصادم سے گریز کر رہے ہیں، تاہم کشیدگی بدستور برقرار ہے۔\n\nپاکستان مسلسل انڈیا پر تنقید کرتا رہا ہے کہ اس نے دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں پرانے آبی معاہدے کو معطل کر رکھا ہے اور اسلام آباد نے خبردار کیا ہے کہ وہ اس اقدام کو ’اعلان جنگ‘ تصور کرتا ہے۔\n\nانڈیا\n\nپاکستان فوج\n\nپاکستان فوج کے ایک سینیئر افسر نے سنگاپور میں شنگری لا ڈائیلاگ اجلاس سے خطاب میں کہا کہ انڈیا کا جارحانہ بیانیہ علاقائی استحکام کو مسلسل کمزور کر رہا ہے۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nاتوار, مئی 31, 2026 - 16:30\n\nMain image:\n\n> <p>پاکستان فوج کی فرسٹ کور کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل نعمان ذکریا 30 مئی، 2026 کو سنگاپور میں  شنگری لا ڈائیلاگ سربراہی اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں (سکرین گریب)</p>\n\nایشیا\n\njw id:\n\nCZEzHAfV\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nآپریشن سندور 2 کی تیاری کر رہے ہیں:انڈین آرمی چیف\n\nانڈیا کے جوہری تجربات کا جواب دانش مندی سے دیا: پاکستان\n\nشراکت دار چننا امریکہ کا فیصلہ: پاکستانی ثالثی پر انڈیا کا ردعمل\n\nانڈیا کی سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ’قانونی و سیاسی جرم‘: پاکستان\n\nSEO Title:\n\nانڈیا کے اشتعال انگیز بیان علاقائی استحکام کے لیے نقصان دہ: پاکستان\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "انڈیا کے اشتعال انگیز بیان علاقائی استحکام کے لیے نقصان دہ: پاکستان"
}