{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreihj7allxljjdmawlmouj23qaubicwqyhj3w35okciato7rf2hhfvu",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mn3icuvddiu2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreigrzeervo2rkuvsv5kzyhh44kseikdvnmnrffeqkjozfxofrfz4xa"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 57011
},
"path": "/node/186103",
"publishedAt": "2026-05-30T15:07:16.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"ترکی",
"پاکستان",
"فلسطین",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"ایشیا",
"news"
],
"textContent": "**ترکی کے وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ اسرائیل 1967 کی سرحدی بنیادوں پر فلسطین کو تسلیم کرے تو سکیورٹی بلاک کا حصہ بن سکتا ہے۔**\n\nاس سے قبل پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے جمعے کو روز ابراہم اکارڈ میں شامل ہونے کے امکان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسلام آباد کی خارجہ پالیسی میں اس وقت تک کوئی تبدیلی نہیں آئے گی جب تک 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم نہیں ہو جاتی۔\n\nہاکان فیدان کے مجوزہ بلاک میں پاکستان، ترکی، سعودی عرب، مصر اور خلیجی ممالک بنیادی کردار ادا کریں گے، جبکہ مستقبل میں اس دائرہ کار کو مزید وسعت بھی دی جا سکتی ہے۔\n\nانہوں نے کہا کہ ’جب حالات معمول پر آ جائیں تو شاید ایران بھی اس کا حصہ بن سکتا ہے۔‘\n\nانہوں نے پاکستان سے خلیج فارس تک پھیلے ایک علاقائی سکیورٹی ڈھانچے کا تصور پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل بھی مستقبل میں اس کا حصہ بن سکتا ہے، بشرطیکہ وہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے۔\n\nنکئی ایشیا کو انقرہ میں دیے گئے ایک انٹرویو میں ہاکان فیدان نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے پاس باہمی تعاون اور ایک دوسرے کو تسلیم کرنے پر مبنی علاقائی نظام قائم کرنے کا ’سنہری موقع‘ موجود ہے۔\n\nانہوں نے کہا کہ ’خطے کے تمام ممالک کو ایک دوسرے کی علاقائی سالمیت، خودمختاری اور سلامتی کا احترام اور تحفظ یقینی بنانے کا عہد کرنا چاہیے۔‘\n\nیہ بیانات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مبینہ طور پر مئی کے آخر میں مشرقِ وسطیٰ کے رہنماؤں کے ساتھ ایک کال کے دوران کی جانے والی اس کوشش کے جواب میں سامنے آئے، جس میں انہوں نے ترکی پر زور دیا تھا کہ وہ ابراہم اکارڈ میں شامل ہو جائے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nانہوں نے کہا کہ غزہ پر اسرائیلی جارحیت سے پہلے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت 10 ارب ڈالر تک پہنچ چکی تھی، جسے اب روک دیا گیا ہے۔\n\nفیدان نے کہا، ’ہم نے تجارت روکتے وقت یہ بالکل واضح کر دیا تھا کہ اسرائیل کو فلسطینیوں کا قتل عام بند کرنا ہوگا، اور غزہ کے لوگوں کو بنیادی انسانی ضروریات جیسے کہ خوراک، پناہ گاہ، ادویات اور پانی تک رسائی حاصل کرنے سے روکنا بند کرنا ہو گا۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا، ’اگر یہ شرائط پوری ہو جاتی ہیں، تو ہم معمول کی زندگی کی طرف واپس لوٹ سکتے ہیں، کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ہم دو ریاستی حل حاصل کرنا چاہتے ہیں۔‘\n\nترکی کو ایک ممکنہ سٹریٹجک دشمن کے طور پر پیش کرنے والے اسرائیلی سیاست دانوں کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے فیدان نے کہا: ’بدقسمتی سے، اسرائیل کی اندرونی سیاست میں انہیں اپنے علاقائی عزائم کو پورا کرنے کے لیے ہر وقت ایک دشمن کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن ہر کوئی جانتا ہے کہ اسرائیل اپنی سکیورٹی کے پیچھے نہیں بلکہ مزید زمین حاصل کرنے کے پیچھے ہے،‘ انہوں نے غزہ، مغربی کنارے، شام اور لبنان میں اسرائیلی فوجی موجودگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا۔\n\nان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ ’اسرائیل کو نہ صرف علاقائی نظام بلکہ عالمی نظام کو بھی مزید غیر مستحکم کرنے سے روکے۔‘\n\nترکی\n\nپاکستان\n\nفلسطین\n\nہاکان فیدان کے مجوزہ بلاک میں پاکستان، ترکی، سعودی عرب، مصر اور خلیجی ممالک بنیادی کردار ادا کریں گے، جبکہ مستقبل میں اس دائرہ کار کو مزید وسعت بھی دی جا سکتی ہے۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nہفتہ, مئی 30, 2026 - 20:00\n\nMain image:\n\n> <p>ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں 19 مارچ 2026 کو پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں (کریم جعفر / اے ایف پی)</p>\n\nایشیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nفلسطین کو تسلیم کیے بغیر ابراہم معاہدے پر کوئی لچک نہیں: پاکستان\n\nبیشتر ملکوں میں آج عید الاضحیٰ، پاکستان کا فلسطین اور کشمیر سے اظہار یکجہتی\n\nغزہ: گڑیا بنا کر بچوں میں خوشیاں بانٹتی فلسطینی معلمہ\n\nاسرائیلی جارحیت کے بعد پہلی بار فلسطین میں بلدیاتی انتخابات\n\nSEO Title:\n\nاسرائیل 1967 کی سرحدی بنیادوں پر فلسطین کو تسلیم کرے تو سکیورٹی بلاک کا حصہ بن سکتا ہے: ترک وزیر خارجہ\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "اسرائیل 1967 کی سرحدی بنیادوں پر فلسطین کو تسلیم کرے تو سکیورٹی بلاک کا حصہ بن سکتا ہے: ترک وزیر خارجہ"
}