{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreidaxxxdfc3tw7jwuqq7wxmevbqkdwpwoavlseynxwx22qu2lvkomy",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mn32vopnrrj2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreidg2tizoouo3vfjno7pspypwhepxy6nbdi6zxkrrf7cgmgyyxcnlm"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 55104
  },
  "path": "/node/186100",
  "publishedAt": "2026-05-30T10:20:08.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "May 30, 2026",
    "ایران",
    "امریکہ",
    "اسلام آباد مذاکرات",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "ایشیا",
    "news",
    "@ir_rezaee"
  ],
  "textContent": "**ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضایی نے ہفتے کو کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حد سے زیادہ مطالبات تیسری مرتبہ ڈپلومیسی میں خیانت ہیں۔**\n\nاپنی ایکس پوسٹ میں انہوں نے امریکہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران پر عائد بحری ناکہ بندی کو جاری رکھے ہوئے ہے اور مذاکرات میں حد سے زیادہ مطالبات کر رہا ہے۔\n\nمحسن رضایی کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گذشتہ روز ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک طویل پوسٹ میں اجلاس کا اعلان کیا تھا، جس میں ان دیرینہ مطالبات کا اعادہ کیا گیا کہ ایران کبھی بھی ایٹمی ہتھیار نہ بنانے پر راضی ہو اور جہاز رانی کے اہم راستے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے۔\n\n> همانطور که پیش‌بینی می‌شد، رییس جمهور آمریکا برای سومین بار در حال خیانت به دیپلماسی است. او با ادامه محاصره دریایی و زیاده‌خواهی در مذاکرات، بیش از پیش ثابت کرد که اهل مذاکره نیست و اهداف دیگری را دنبال می‌کند.\n>\n> — محسن رضایی (@ir_rezaee) May 30, 2026\n\nاپنی پوسٹ میں، ٹرمپ نے کہا کہ تہران آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹائے اور ’بغیر کسی محصول‘ کے آبی راستے کی ناکہ بندی ختم کرے جب کہ امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی اپنی متوازی ناکہ بندی اٹھا لے گا۔\n\nجس کے بعد وائٹ ہاؤس نے عندیہ دیا تھا کہ ٹرمپ ایک ممکنہ معاہدے کے حوالے سے فیصلے کے قریب ہیں جب کہ تہران نے اس بات پر اصرار کیا کہ مشرق وسطی کے تنازعے کے خاتمے پر ابھی تک کوئی ’حتمی معاہدہ‘ نہیں ہوا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nایران کے سرکاری میڈیا کی ایک رپورٹ نے معاہدے کے حوالے سے ٹرمپ کی وضاحت کے کئی اہم پہلوؤں کو بھی مسترد کر دیا اور ٹرمپ کے ریمارکس کو ’سچ اور جھوٹ کا آمیزہ‘ قرار دیا۔\n\nایک امریکی عہدیدار نے اے ایف پی کو بتایا تھا کہ مشرق وسطی کو اپنی لپیٹ میں لینے اور عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دینے والے تنازعے پر کئی ہفتوں کے تعطل کا شکار مذاکرات کے بعد، معاہدہ ٹرمپ کی منظوری کا منتظر تھا۔\n\nٹرمپ نے جمعے کو وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں دو گھنٹے کے اجلاس میں شرکت کی لیکن وہ کسی فیصلے پر نہیں پہنچے۔\n\nخبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وائٹ ہاؤس کے اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’سچویشن روم کا اجلاس ختم ہو گیا ہے اور یہ تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہا۔ صدر ٹرمپ صرف ایسا معاہدہ کریں گے جو امریکہ کے لیے بہتر ہو اور ان کی طے شدہ حدود کو پورا کرتا ہو۔ ایران کبھی ایٹمی ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔‘\n\nایران\n\nامریکہ\n\nاسلام آباد مذاکرات\n\nاپنی ایکس پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ امریکہ ایران پر عائد بحری ناکہ بندی کو جاری رکھے ہوئے ہے اور مذاکرات میں حد سے زیادہ مطالبات کر رہا ہے۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nہفتہ, مئی 30, 2026 - 15:15\n\nMain image:\n\n> <p>محسن رضایی 12 جون 2021 کو تہران میں صدارتی انتخاب کے آخری مباحثے کے آغاز سے قبل صحافیوں سے گفتگو کر رہے ہیں (ایوب قادری / روئٹرز)</p>\n\nایشیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nایران نے شرائط پوری کیں تو ہی ٹرمپ معاہدہ کریں گے: عہدیدار وائٹ ہاؤس\n\nمعاہدے سے متعلق ٹرمپ کا بیان ’سچ اور جھوٹ کا مکسچر‘: ایران\n\nشہباز شریف کی ایرانی صدر سے گفتگو: امن کوششوں، پائیدار معاہدے پر زور\n\nSEO Title:\n\nٹرمپ کے حد سے زیادہ مطالبات تیسری مرتبہ ڈپلومیسی میں خیانت ہیں: محسن رضایی\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "ٹرمپ کے حد سے زیادہ مطالبات تیسری مرتبہ ڈپلومیسی میں خیانت ہیں: محسن رضایی"
}