{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreidysm7zjfvgvmv7fjtzwyh4osd7nxi5fnpi756gkbvnvyqaa6qpou",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mn2gq7ccqyi2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreifzaqav727rqqebbgkg6ztfpycu3craasi4tfyvrk3pjfyi3tym5e"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 63997
  },
  "path": "/node/186097",
  "publishedAt": "2026-05-30T04:55:55.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "سائنس دان",
    "تحقیق",
    "کافی",
    "نیند",
    "وشوام سنکرن",
    "news"
  ],
  "textContent": "**نئی تحقیق کے مطابق روزانہ کافی پینے سے کم گہری نیند آ سکتی ہے۔ تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ کیفین دماغی سرگرمی کو کمزور کر سکتی ہے جو بحالی اور تازگی سے جڑی ہوتی ہے۔**\n\nتحقیق کا بڑھتا ہوا دائرہ ظاہر کرتا ہے کہ نیند کا معیار دورانیے سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے، خاص طور پر دماغ کے لیے۔\n\nمطالعات یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ سست دماغی لہریں ’گہری نیند‘ کا ایک اہم جزو ہیں، وہ مرحلہ جو جسمانی بحالی اور درست ادراکی افعال کے لیے ذمہ دار ہوتا ہے۔ نئی تحقیق کے مطابق، کیفین گہری نیند پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔\n\nجرنل نیوٹرینٹس میں شائع ہونے والی تحقیق کی مصنفہ ڈوناتا کورپاس نے کہا کہ ’کیفین نیند کو کم کر سکتی ہے یا سونے کو مزید مشکل بنا سکتی ہے۔‘\n\n’تاہم، یہاں تک کہ جب نیند کا دورانیہ معمول کے مطابق نظر آئے، یہ سست لہری سرگرمی کو کم کر سکتی ہے اور EEG پیٹرن کو زیادہ جاگنے والی حالت کی طرف منتقل کر سکتی ہے۔‘\n\nاس کا مطلب ہے کہ یہاں تک کہ جب باقاعدگی سے کافی پینے والے آٹھ گھنٹے بستر پر گزارتے ہیں، ان کا دماغ مکمل طور پر دوبارہ بحال نہیں ہو پاتا۔\n\nوروتسواف میڈیکل یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر کورپاس نے کہا کہ ’ایک شخص بغیر کسی بڑی مشکل کے سو سکتا ہے اور جاگنے کے لمحات کو یاد نہ رکھے، جبکہ دماغ گہری نیند کی کم خصوصیات ظاہر کرتا ہے۔‘\n\nکافی کے اثرات افراد میں ان کی جینیات، میٹابولک رفتار، عمر، ذہنی دباؤ اور دائمی تھکن کی سطح کے مطابق نمایاں طور پر مختلف ہو سکتے ہیں۔\n\nاگرچہ یہ چوکسی میں اضافہ کر سکتی ہے اور تھکن کے احساس کو کم کر سکتی ہے، بعض اوقات اس کے اثرات ایسے ہو سکتے ہیں جیسے رات کی بحالی کی قیمت پر توانائی مستعار لی جا رہی ہو۔\n\nڈاکٹر کورپاس نے کہا کہ ’کچھ لوگوں کے لیے، دن کے دوران استعمال ہونے والی کیفین کی کل مقدار اور یہ کہ جسم کو رات سے پہلے اسے جزو بدن بنانے کے لیے کافی وقت ملتا ہے یا نہیں، اہم ہو سکتا ہے۔\n\n’اگر کیفین کسی شخص کو دن کے دوران کام کرنے میں مدد دیتی ہے اور ساتھ ہی رات کے وقت بحالی کے معیار کو خراب کرتی ہے، تو ایک شیطانی دائرہ بن سکتا ہے: زیادہ تھکن، زیادہ محرک کی ضرورت اور ناقص نیند۔‘\n\nمحققین نے دماغ کی برقی سرگرمی کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے EEG (دماغ میں برقی سرگرمی جانچنے کا ٹیسٹ) کا استعمال کیا۔ EEG سائنسدانوں کو یہ دیکھنے کی اجازت دیتا ہے کہ نہ صرف کوئی شخص سو رہا ہے بلکہ یہ بھی کہ دماغ کیسے سو رہا ہے۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nڈاکٹر کورپاس نے کہا کہ ’روایتی نیند کے جائزے نیند کے دورانیے اور اس کے مراحل کی پیمائش کرتے ہیں، جبکہ مقداری EEG تجزیہ زیادہ باریک تبدیلیوں کو ظاہر کرتا ہے، جیسے سست لہری سرگرمی میں کمی۔‘\n\nمحققین نے 1980 سے 2026 کے درمیان کیے گئے 32 مطالعات کے ڈیٹا کو جمع کیا اور جانچا تاکہ کیفین کے اثر یا استعمال اور شرکا کی نیند سے متعلق نتائج کے درمیان تعلق کو سمجھا جا سکے۔\n\nانہوں نے مسلسل پایا کہ کیفین کم فریکوئنسی والی گہری نیند کی سرگرمی، خاص طور پر سست دماغی لہروں کی سرگرمی کو دبا دیتی ہے۔\n\nتحقیق کے مطابق: اس سے ’ہلکی، زیادہ بیدار اور زیادہ جاگتی ہوئی جیسی نیند کا EEG پروفائل پیدا ہوتا ہے۔ یہ اثرات خاص طور پر رات کے ابتدائی NREM نیند کے دوران اور نیند کی کمی کے بعد بحالی کی نیند میں زیادہ نمایاں تھے۔‘\n\nتحقیق کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ باقاعدگی سے کافی پینا نیند کے نظام کو ’ایک زیادہ تحریکی غلبے والی حالت‘ کی طرف منتقل کر سکتا ہے۔‘\n\nمحققین امید کرتے ہیں کہ مزید مطالعات کیے جائیں، جن میں بڑے اور زیادہ متنوع شرکا کے نمونوں کو ترجیح دی جائے تاکہ کیفین کی وجہ سے ہونے والی EEG تبدیلیوں کے حقیقی دنیا کے عملی اثرات کو واضح کیا جا سکے۔\n\nسائنس دان\n\nتحقیق\n\nکافی\n\nنیند\n\nجرنل نیوٹرینٹس میں شائع ہونے والی تحقیق کی مصنفہ ڈوناتا کورپاس نے کہا کہ ’کیفین نیند کو کم کر سکتی ہے یا سونے کو مزید مشکل بنا سکتی ہے۔‘\n\nوشوام سنکرن\n\nہفتہ, مئی 30, 2026 - 10:00\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">محققین نے 1980 سے 2026 کے درمیان کیے گئے 32 مطالعات کے ڈیٹا کو جمع کیا اور جانچا تاکہ کیفین کے اثر یا استعمال اور شرکا کی نیند سے متعلق نتائج کے درمیان تعلق کو سمجھا جا سکے۔‘(تصویر: اینواتو)</p>\n\nتحقیق\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nروزانہ 3 سے 4 کپ کافی سے ذہنی مریضوں کے بڑھاپے میں تاخیر ممکن\n\nبڑی عمر میں کافی راس کیوں نہیں آتی؟\n\nچین میں امریکی کافی کی قیمت میں کمی کیوں؟\n\n2025 کے لیے دنیا کی بہترین کافی شاپ کون سی ہے؟\n\nSEO Title:\n\nآٹھ گھنٹے کی نیند کے بعد بھی ہم تھکا ہوا کیوں محسوس کرتے ہیں؟\n\ncopyright:\n\nIndependentEnglish\n\norigin url:\n\nhttps://www.independent.co.uk/news/science/coffee-sleep-quality-compromise-reason-b2984886.html\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "آٹھ گھنٹے کی نیند کے بعد بھی ہم تھکا ہوا کیوں محسوس کرتے ہیں؟"
}