{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreiev7z6c7eqwjg3x47hgpwogzipcvzauaf3effxyqcamqm3dvxcezq",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mmzsn7li6c42"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreibsuj45a2avp5ap6mg2lif2oonctib2drb2dpzyzf26q3f4fqjh7q"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 48086
  },
  "path": "/node/186081",
  "publishedAt": "2026-05-29T02:09:35.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "سوشل میڈیا",
    "سوشل میڈیا ایپ",
    "سوشل میڈیا مہم",
    "نوجوان",
    "خواتین کے خلاف تشدد",
    "ایستھر گھے",
    "نقطۂ نظر",
    "news"
  ],
  "textContent": "**جب لوگوں نے پہلی بار سگریٹ کے بارے میں خبردار کرنا شروع کیا، تو انہیں بلاوجہ خوف پھیلانے والے کہہ کر نظرانداز کر دیا گیا۔**\n\nسگریٹ نوشی ایک عام بات بن چکی تھی۔ یہ ہر جگہ موجود تھی، ایسی جگہوں پر بھی جن کے بارے میں سوچ کر اب ہم حیران ہوتے ہیں، جیسے ہسپتالوں اور ہوائی جہازوں میں۔\n\nکمپنیوں نے بے تحاشہ دولت کمائی۔ بچے اس کی لت میں مبتلا ہو گئے، اور معاشرے نے دہائیوں بعد اس کے نتائج کا سامنا کیا۔ سرطان، دل کی بیماریاں، ٹوٹے ہوئے خاندان اور صحت کی سہولیات پر حد سے زیادہ بوجھ پڑا۔\n\nآج، ہم سوشل میڈیا کے حوالے سے بھی وہی غلطی کر رہے ہیں۔\n\nبریانا گھے کی والدہ کی حیثیت سے، میں نے خود دیکھا ہے کہ سوشل میڈیا کسی بچے کی ذہنی صحت پر کس قدر تباہ کن اثرات مرتب کر سکتا ہے۔\n\nبریانا بے چینی، احساس کمتری، کھانے کی خرابی اور خود کو نقصان پہنچانے جیسے مسائل کا شکار تھیں۔\n\nبیانکا ناوارو نے 10 دسمبر 2025 کو مغربی سڈنی میں اپنے گھر پر عمر کی تصدیق کا پیغام موصول ہونے کے بعد سوشل میڈیا سائٹ کو غیر مقفل کرنے کی کوشش کی (اے ایف پی)\n\n\n\n\nبہت سے دوسرے نوجوانوں کی طرح، وہ ایک ایسی آن لائن دنیا میں بڑی ہو رہی تھیں جو انہیں مسلسل یہ بتاتی تھی کہ وہ کسی قابل نہیں۔\n\nاس دنیا نے امیروں کو مزید امیر بنانے کے لیے ان کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھایا۔\n\nبچے جذباتی طور پر ان حالات کا سامنا کرنے کے قابل ہونے سے پہلے ہی بڑوں کے دباؤ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔\n\nانہیں خود کو نقصان پہنچانے والے خوفناک مناظر، خودکشی سے متعلق مواد، پرتشدد فحش مواد، عورتوں سے نفرت اور ایسے الگورتھمز کا سامنا ہے جنہیں اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ انتہائی نوعیت کا مواد دیکھتے رہیں، کیوں کہ غصہ اور تکلیف لوگوں کو جوڑے رکھتے ہیں، اور اسی سے پیسہ بنتا ہے۔\n\nہم سگریٹ کمپنیوں کو کبھی اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ وہ سکولوں میں جا کر بچوں میں سگریٹ کی ڈبیاں بانٹیں۔\n\nپھر بھی ہم ٹیک کمپنیوں کو دن کے 24 گھنٹے نقصان دہ مواد براہ راست نوجوانوں کے نشوونما پاتے ذہنوں میں انڈیلنے کی اجازت دے رہے ہیں۔\n\nاور اس کا اثر صرف ایک بچے تک محدود نہیں رہتا۔ جس طرح سگریٹ کا دھواں سگریٹ پینے والوں کے آس پاس موجود لوگوں کو نقصان پہنچاتا ہے، اسی طرح اب سوشل میڈیا وسیع تر معاشرے کو نقصان پہنچا رہا ہے۔\n\nنوجوان اوسطاً ہفتے میں تقریباً 35 گھنٹے آن لائن گزار رہے ہیں۔ ان گھنٹوں کے دوران، بہت سے لڑکوں کے ذہنوں میں قطرہ قطرہ کر کے عورتوں سے نفرت پر مبنی ایسا مواد ڈالا جا رہا ہے جو انہیں سکھاتا ہے کہ عورتیں کنٹرول کرنے، ذلیل کرنے یا ان پر غلبہ پانے کی چیزیں ہیں۔ لڑکیاں خوبصورتی کے ناممکن معیار اور ایسے پیغامات کو قبول کر رہی ہیں جو انہیں بتاتے ہیں کہ ان کی قدر و قیمت کا انحصار مکمل طور پر ان کی ظاہری شکل و صورت پر ہے۔\n\nہم سکولوں میں ساتھی طلبہ کے درمیان تشدد کی بڑھتی ہوئی رپورٹس دیکھ رہے ہیں۔ خواتین اساتذہ کی تذلیل کی جا رہی ہے اور انہیں ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے۔\n\nنوجوان خواتین گلا دبائے جانے کے زخموں کے ساتھ ہسپتالوں میں پہنچ رہی ہیں کیوں کہ آن لائن مواد کے ذریعے خواتین پر تشدد معمول بن چکا ہے۔\n\nبچے رشتوں کے بارے میں فحش مواد اور ایسے انفلوئنسرز سے سیکھ رہے ہیں جو جسم فروشی، ظلم اور تذلیل سے پیسہ کماتے ہیں۔\n\nیہ کوئی اکا دکا واقعات نہیں ہیں۔ ایسا صرف میری بچی کے ساتھ نہیں ہوا۔ یہ ہماری پوری نسل، یعنی ہمارے مستقبل کا رخ متعین کر رہا ہے۔\n\nحال ہی میں، صحت کے ایک ماہر نے مجھے ایک کم عمر لڑکے کے بارے میں بتایا جس کا انہوں نے علاج کیا تھا، جو نقصان دہ آن لائن مواد کے خبط میں مبتلا ہو گیا تھا۔\n\nجس بات کا آغاز تجسس سے ہوا تھا، وہ آگے چل کر مسلسل انتہائی پریشان کن مواد دیکھنے کی لت میں بدل گئی۔ آخر کار، اس بچے نے اپنے ہی جسم کو کاٹنا اور نقصان پہنچانا شروع کر دیا۔\n\nجب میں نے یہ کہانی سنی، تو مجھے ان بچوں کا خیال آیا جنہوں نے بریانا کی جان لی تھی۔\n\nقتل کے حوالے سے ان کا تجسس کہاں سے پیدا ہوا؟ میں نہیں جانتی، لیکن مجھے شک ہے کہ یہ سب کچھ اسی طرح ہوا ہو گا جس طرح بریانا کو سوشل میڈیا پر نقصان دہ مواد دکھایا گیا تھا۔\n\nہم مسلسل یہ دکھاوا نہیں کر سکتے کہ یہ محض اکا دکا واقعات ہیں یا ٹیکنالوجی کے افسوس ناک نقصانات ہیں۔ یہ ایک ایسے نظام کے متوقع نتائج ہیں جسے بناتے وقت بچوں کی حفاظت کو بنیادی اہمیت نہیں دی گئی۔\n\n9 اپریل 2021 کو لی گئی اس تصویر میں بیجنگ میں ایک سوشل میڈیا انفلوئنسر ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم ’کوائشو‘ پر اپنے چینل کو سکرول کر رہی ہیں (گریگ بیکر / اے ایف پی)\n\n\n\n\nسگریٹ نوشی کے ساتھ موازنہ اس لیے اہم ہے کیوں کہ آخر کار سگریٹ نوشی کو محض ’ذاتی ذمہ داری‘ کا معاملہ سمجھنے کی بجائے صحت عامہ کا مسئلہ تسلیم کر لیا گیا تھا۔\n\nحکومتوں نے مداخلت کی۔ اشتہارات پر پابندی لگائی گئی۔ عمر کی حدیں مقرر کی گئیں۔ عوامی شعور بیدار کرنے کی مہمات شروع کی گئیں۔\n\nاب ہم اس مقام پر آ چکے ہیں جہاں عوامی مقامات پر بھی سگریٹ نوشی پر پابندی عائد ہے۔ ہم سب اس پر عمل کرتے ہیں کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ یہی درست اقدام ہے، اور بچوں کی زندگیاں اہمیت رکھتی ہیں۔\n\nاب ہمیں اسی ہمت اور قیادت کی ضرورت ہے۔\n\nگذشتہ کل، میں نمبر 10 پر سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑی تھی، اور ہم نے وزیر اعظم سے درج ذیل مطالبات مکمل طور پر پورے کرنے کا کہا۔\n\nنقصان دہ سوشل میڈیا کے لیے عمر کی حد بڑھا کر 16 سال کی جائے۔ جب تک ٹیک کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کو ایسا نہیں بناتیں جو لت لگانے اور خود بخود نقصان پہنچانے کے بجائے اپنے ڈیزائن کے لحاظ سے محفوظ ہوں، تب تک بچوں کو ان کے استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی۔\n\nاس بات کو یقینی بنایا جائے کہ تمام سکول فون سے پاک پالیسیوں پر مکمل عمل درآمد کریں۔\n\nقانونی رہنمائی سے ’نظروں سے دور‘ کے اختیار کا خاتمہ کیا جائے اور سکولوں کو فون سے پاک پالیسیوں پر مکمل عمل درآمد کے لیے فنڈنگ دی جائے۔\n\nآف کام کا فوری جائزہ لیا جائے۔ یہ انتہائی اہم ہے کہ اس کی قیادت کوئی ایسا شخص کرے جس پر سوگوار والدین کو بھروسہ ہو۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nای سیفٹی کمشنر کا عہدہ متعارف کرایا جائے۔ اس عہدے کے پاس ٹیک کمپنیوں اور آن لائن تحفظ کے ضوابط کی نگرانی کا اختیار ہو گا۔\n\nیہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اور بچوں کی حفاظت کے لیے اس پر ہمہ جہت انداز میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ ملاقات بہت مثبت رہی، اور مجھے واقعی اس معاملے کو فوری حل کرنے کی اشد ضرورت محسوس ہوئی۔\n\nمجھے لگا کہ سوگوار خاندانوں کی بات سنی گئی اور وزیروں اور وزیر اعظم نے ہمارے مطالبات کو تسلیم کیا، اگرچہ ہمیں اس مرحلے پر کوئی یقین دہانی نہیں کرائی گئی۔\n\nجن لوگوں نے خود ان حالات کا سامنا کیا ہو، ان کے لیے مہم چلانا مشکل ہوتا ہے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ جب ہم سب کمرے سے باہر نکلے تو آخر کار ہمیں یہ امید تھی کہ حالات بدلنے والے ہیں۔\n\nلوگ اکثر مجھ سے کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا پوری طرح برا نہیں ہے۔ یقیناً ایسا نہیں ہے۔ ان کروڑوں بالغ افراد کے لیے سگریٹ بھی برے نہیں تھے جو سگریٹ نوشی کا لطف اٹھاتے تھے۔\n\nلیکن جب کوئی چیز واضح طور پر بڑے پیمانے پر بچوں کو نقصان پہنچا رہی ہو، تو قیادت کا کام کمپنیوں کے منافع یا سہولت کا تحفظ کرنا نہیں، بلکہ نوجوانوں کی حفاظت کرنا ہوتا ہے۔\n\nمجھے یقین ہے کہ ایک دن معاشرہ اس بات پر حیرانی سے پیچھے مڑ کر دیکھے گا کہ ہم نے اپنے نوجوانوں کو کس طرح آن لائن دنیا میں بڑے ہونے کی اجازت دی۔\n\nہم حیران ہوں گے کہ ہمیں قدم اٹھانے میں اتنا وقت کیوں لگا، اور ہم اس بات پر خوفزدہ ہوں گے کہ ہماری تاخیر کے دوران کتنی ہی نوجوان جانیں ضائع ہو گئیں۔\n\n_نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔_\n\nسوشل میڈیا\n\nسوشل میڈیا ایپ\n\nسوشل میڈیا مہم\n\nنوجوان\n\nخواتین کے خلاف تشدد\n\nہم ٹیک کمپنیوں کو 24 گھنٹے نقصان دہ مواد براہ راست نوجوان ذہنوں میں انڈیلنے کی اجازت دے رہے ہیں۔\n\nایستھر گھے\n\nجمعہ, مئی 29, 2026 - 06:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">کوالالمپور میں 22 مارچ 2018 کو لی گئی تصویر میں ایک صارف فون پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز دیکھ رہی ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nنقطۂ نظر\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nآسٹریلیا: پابندی کے باوجود ’دو تہائی بچے سوشل میڈیا استعمال کر رہے ہیں‘\n\nنوجوانوں کے سوشل میڈیا پر پابندی ضروری\n\nیونان میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کا اعلان\n\nسوشل میڈیا سکرولنگ کی لت سے بچنے کے آسان اور مشکل حل\n\nSEO Title:\n\nسوشل میڈیا تمباکو نوشی سے کہیں زیادہ خطرناک؟\n\ncopyright:\n\nIndependentEnglish\n\norigin url:\n\nhttps://www.independent.co.uk/voices/social-media-esther-gey-brianna-smoking-b2984224.html\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "سوشل میڈیا تمباکو نوشی سے کہیں زیادہ خطرناک؟"
}