{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreigq4d6asgt62qtmbditvfk4a5r5wwu7pc66q6xoy63jzuluw7wokm",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mmzsmwsxbbr2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreif4idwbptzzl7czlr7werdhoqvrhph3gypyiunltylf3fywqdpu4y"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 104010
  },
  "path": "/node/186084",
  "publishedAt": "2026-05-29T07:15:33.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "آبنائے تائیوان",
    "تائیوان",
    "بیجنگ",
    "ایٹمی جنگ",
    "جوہری جنگ",
    "امریکہ",
    "شویتا شرما",
    "ایشیا",
    "news"
  ],
  "textContent": "**تائیوان کی حمایت پر بیجنگ کی جانب سے واشنگٹن کو سخت وارننگ جاری کیے جانے کے بعد، دفاع کے ایک نئے جائزے میں خبردار کیا گیا ہے کہ تائیوان کے معاملے پر امریکہ اور چین کے درمیان فوجی تنازع تیزی سے ایک ایٹمی بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔**\n\nلندن میں واقع دفاعی تحقیق کی تنظیم انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹجک سٹڈیز کی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ دنیا ایٹمی ہتھیاروں کی نئی دوڑ کے دہانے پر ہے ’جس کا مرکز ایشیا بحرالکاہل ہے۔‘\n\nیہ جائزہ ایشیا کی سب سے بڑی دفاعی کانفرنس، سالانہ شنگریلا ڈائیلاگ کے دوران جاری کیا گیا، جو اس ہفتے کے آخر میں سنگاپور میں ختم ہو رہی ہے۔\n\nرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’علاقائی ریاستیں اور سٹریٹجک مفادات رکھنے والے ممالک اپنے ایٹمی ہتھیاروں کے ذخیرے بڑھا رہے ہیں جبکہ ایٹمی ہتھیار نہ رکھنے والی ریاستیں طویل فاصلے تک مار کرنے والے روایتی حملے کی صلاحیتیں حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، اور یہ دونوں چیزیں سٹریٹجک استحکام کے لیے چیلنج ہیں۔‘\n\nچین تائیوان کو اپنا الگ ہونے والا صوبہ سمجھتا ہے اور اس جزیرے کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے طاقت کے استعمال کو خارج از امکان قرار نہیں دیتا، اگرچہ اس کا دعویٰ ہے کہ وہ ’پرامن انضمام‘ کو ترجیح دیتا ہے۔ تائیوان کی جمہوری طور پر منتخب حکومت بیجنگ کے حاکمیت کے دعووں کو مسترد کرتی ہے۔\n\nچین جزیرے کے ارد گرد اپنی فوجی موجودگی بڑھا کر تائیوان پر دباؤ میں اضافہ کر رہا ہے، جس نے تائی پے کو ہائی الرٹ پر رکھا ہوا ہے۔\n\nجمعرات کو چین کی وزارت خارجہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ خطے میں امن برقرار رکھنے کے لیے تائیوان کی آزادی کی سخت مخالفت ضروری ہے۔\n\nاس نے امریکہ پر بھی زور دیا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی باہمی مفاہمت کا احترام کرے اور اس پر عمل درآمد کرے۔\n\nنیا جائزہ انڈو پیسفک کے خطے میں بدلتی ہوئی فوجی حکمت عملیوں اور اس بات کا جائزہ لیتا ہے کہ تائیوان کے معاملے پر کوئی تنازع کس طرح آگے بڑھ سکتا ہے۔\n\nاس میں دلیل دی گئی ہے، ’بیجنگ کے لیے تائیوان کی سٹریٹجک اہمیت کے پیش نظر، چین کے ساتھ تنازع کے بڑھنے کا خطرہ ہو گا، جو ممکنہ طور پر ایٹمی سطح تک پہنچ سکتا ہے۔‘\n\n’فی الحال ایسے بہت کم عوامی شواہد موجود ہیں جن سے یہ ظاہر ہو کہ دونوں افواج ان ضروری حفاظتی اقدامات کو سمجھتی ہیں جو انہیں روک سکیں، یا جنگ کے ان اصولوں سے واقف ہیں جو دونوں فریقین کو ممکنہ طور پر ایک دوسرے کے اہم کمانڈ، کنٹرول، مواصلات، کمپیوٹرز، انٹیلی جنس، نگرانی اور جاسوسی کے مراکز کو نشانہ بنانے سے باز رکھیں۔‘\n\n10 جولائی 2025 کو شنچو میں تائیوان کے جدید ٹینکوں کے پہلے بیچ کے لائیو فائرنگ سیشن کے دوران موجود امریکی ساختہ ایم ون اے ٹو ٹی ابرامز ٹینک (اے ایف پی)\n\n\n\n\nجائزے کے آخر میں نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ ’اس طرح کا بڑے امریکہ چین تنازعے میں ایٹمی کشیدگی بڑھنے کا امکان بدستور منڈلاتا رہے گا۔‘\n\nشنگریلا ڈائیلاگ 19 سے 31 مئی تک جاری رہے گا، اور امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ ہفتے کو اس تقریب سے خطاب کریں گے۔\n\nچین نے ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے کہ آیا اس کے وزیر دفاع ڈونگ جون اس میں شریک ہو رہے ہیں یا نہیں۔\n\nکانفرنس میں ہونے والی بات چیت میں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے ساتھ ساتھ، تائیوان کے مستقبل اور خطے کے اہم کھلاڑیوں کے ساتھ امریکی وعدوں کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال کے نمایاں طور پر زیر بحث آنے کی توقع ہے۔\n\nیہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب رواں ماہ کے اوائل میں امریکی صدر کے اپنے ایشیائی حریف کے تاریخی دورے کے دوران، چینی رہنما شی جن پنگ نے ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے براہ راست تائیوان کے حوالے سے بیجنگ کی ریڈ لائنز کا اعادہ کیا۔\n\nدونوں رہنماؤں کی پہلی ہی ملاقات میں تائیوان کا معاملہ نمایاں رہا۔ شی جن پنگ نے خبردار کیا کہ تائی پے کے لیے امریکی حمایت کسی تصادم یا یہاں تک کہ جنگ کا باعث بن سکتی ہے۔\n\nاس ملاقات کے بعد، واشنگٹن نے تائیوان کو 14 ارب ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت معطل کر دی۔ یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اشارے کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ بیجنگ کے ساتھ مستقبل کی بات چیت میں تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت کو ’سودے بازی کے مہرے‘ کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nانٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹیجک سٹڈیز کے سینئر فیلو ڈینیل سیلسبری نے نشاندہی کی کہ ٹرمپ اور شی کے درمیان سربراہی ملاقات کے دوران ایٹمی ہتھیاروں پر کوئی خاص بات چیت نہیں ہوئی اور ایٹمی محاذ پر دونوں ممالک کے درمیان صورت حال 'کافی مشکل' تھی۔\n\nاس کے برعکس، انہوں نے کہا کہ سرد جنگ کے دوران امریکہ نے سوویت یونین کے ساتھ ہتھیاروں پر کنٹرول اور خطرات کم کرنے کے اقدامات کے بارے میں کئی بار بات چیت کی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ بیجنگ کے ساتھ کوئی بھی بات چیت زیادہ پیچیدہ ہو گی کیوں کہ اس کے ایٹمی ہتھیاروں کا ایک بڑا حصہ خفیہ رکھا گیا ہے۔\n\nانہوں نے کہا، ’اس وقت بات چیت کا وہ کلچر موجود نہیں ہے اس لیے ان تعلقات میں آگے بڑھنے کی گنجائش بہت کم ہے۔‘\n\nچین کے ایٹمی ہتھیاروں کا ذخیرہ امریکہ اور روس دونوں کے مقابلے میں بہت کم ہے لیکن وہ تیزی سے اس میں اضافہ کر رہا ہے اور اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنا رہا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کی ایک رپورٹ کا اندازہ ہے کہ 2030 تک چین کے پاس 1000 ایٹمی ہتھیار ہوں گے۔\n\nفیڈریشن آف امریکن سائنٹسٹس کے مطابق، روس اور امریکہ کے پاس بالترتیب 4400 اور 3700 فعال ایٹمی وار ہیڈز موجود ہیں، جب کہ چین کے ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد 620 ہے۔\n\nآبنائے تائیوان\n\nتائیوان\n\nبیجنگ\n\nایٹمی جنگ\n\nجوہری جنگ\n\nامریکہ\n\nانٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹجک سٹڈیز کے مطابق دنیا ایٹمی ہتھیاروں کی نئی دوڑ کے دہانے پر ہے ’جس کا مرکز ایشیا بحرالکاہل ہے۔‘\n\nشویتا شرما\n\nجمعہ, مئی 29, 2026 - 12:15\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">چینی فوجی دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے 80 سال مکمل ہونے پر تین ستمبر 2025 کو بیجنگ کے تیانن مین سکوائر میں پریڈ کی مشق کر رہے ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nایشیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nامریکی مہم جو نے تائیوان کی سب سے اونچی عمارت بغیر حفاظت سر کر لی\n\nوینزویلا پر امریکی حملے کی دیکھا دیکھی چین کی تائیوان پر ’کاری ضرب‘ کی دھمکی\n\nتائیوان: مرحوم ملازمہ سے کاغذات مانگنے پر فضائی کمپنی کی معذرت\n\nچین تائیوان کی آزادی کو ’بزور طاقت‘ روکنے کے لیے تیار ہے: چینی وزیر دفاع\n\nSEO Title:\n\nتائیوان پر امریکہ چین تنازع ایٹمی بحران کا سبب بن سکتا ہے: تحقیق\n\ncopyright:\n\nIndependentEnglish\n\norigin url:\n\nhttps://www.independent.co.uk/asia/china/us-china-taiwan-nuclear-war-arms-sale-b2985003.html\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "تائیوان پر امریکہ چین تنازع ایٹمی بحران کا سبب بن سکتا ہے: تحقیق"
}