{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreidywcjbnfu4iznvsoreafc7gvckl5ymzqaba4fyjoiwtngye3ujny",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mmzsmsuy5r22"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreifvsx4n4dbnbtqzvsg7znkc6skpa32dltgqburlfqenccqsfj7yyq"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 100765
},
"path": "/node/186088",
"publishedAt": "2026-05-29T13:18:41.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"لارنس بشنوئی",
"سدھو موسے والا",
"کینیڈا",
"انڈیا",
"گینگ",
"شویتا شرما",
"دنیا",
"news"
],
"textContent": "**انڈیا کے ایک گینگ نے کینیڈین پولیس کو خط لکھ کر خبردار کیا ہے کہ اس کے پاس ملک بھر میں حملے کرنے کے لیے ایک ہزار ارکان تیار ہیں۔**\n\nیہ بات ایک مقامی عدالت کو بتائی گئی کیونکہ اوٹاوا اس وقت بھتہ خوری کے بڑھتے ہوئے سنگین بحران سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔\n\nایک پولیس افسر نے جمعرات کو عدالت کو بتایا کہ لارنس بشنوئی گینگ نے، جسے گذشتہ سال کینیڈا میں ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا تھا اور جو امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا اور متحدہ عرب امارات میں بھی سرگرم ہے، اگست 2025 میں برٹش کولمبیا کے شہر ایبٹس فورڈ کے ایک پولیس سٹیشن کو یہ خط بھیجا تھا۔\n\nگروپ نے تحفظ کے بدلے رقم وصول کرنے کے دھندے (پروٹیکشن ریکیٹ) کو ’ٹیکس‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر کینیڈین کاروباری اداروں نے ادائیگی سے انکار کیا تو انہیں تشدد کا سامنا کرنا پڑے گا۔\n\nاس خط کے مندرجات کا کچھ حصہ کانسٹیبل کیون سینٹ لوئس نے ملک بدری کے ایک کیس کی سماعت کے دوران ’امیگریشن اینڈ ریفیوجی بورڈ‘ کے سامنے ظاہر کیا۔\n\nانہوں نے کہا ’اس مخصوص خط میں بنیادی طور پر ان کی مجرمانہ تنظیم کا خاکہ پیش کیا گیا تھا، جہاں انہوں نے بات کی تھی کہ ان کے پاس 1,000 سے زیادہ ایسے افراد موجود ہیں جو اس گروپ کے حصے کے طور پر ان فائرنگ کے واقعات کو انجام دینے کے لیے تیار ہیں۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا ’یہ اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ کس طرح ہر کاروباری ادارے کو اپنا ٹیکس ادا کرنے کی ضرورت ہے، جو میرے خیال میں واضح طور پر اس مالی فائدے کو ظاہر کرتا ہے جو یہ گروپ ان بھتہ خوریوں کے نتیجے میں حاصل کرنا چاہتا ہے۔‘\n\nسارجنٹ پال واکر نے کینیڈا کے ’گلوبل نیوز‘ کو بتایا کہ جاسوس خط کے ماخذ اور اس کے مندرجات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔\n\nانہوں نے مزید کہا ’خط کی تفصیلات کینیڈا بھر میں بھتہ خوری کے بحران سے نمٹنے میں مصروف ہمارے قانون نافذ کرنے والے شراکت داروں کے ساتھ شیئر کی گئی ہیں۔\n\n’میں اس خط میں موجود کسی بھی تفصیلات یا اس کے بعد کیے گئے تحقیقاتی اقدامات پر مزید تبصرہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں۔‘\n\nکینیڈا کے قانون نافذ کرنے والے ادارے منظم جرائم، فائرنگ کے واقعات اور بھتہ خوری کے نیٹ ورکس سے نمٹنے میں مصروف ہیں جن میں جنوبی ایشیائی کمیونٹی کے ارکان کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔\n\nکینیڈا میں انڈین نژاد یا انڈین شہریوں کی تعداد تقریباً 33.8 لاکھ ہے، جو ملک کی مجموعی آبادی کا تقریباً 8.3 فیصد بنتی ہے۔\n\nلارنس بشنوئی گینگ کا آغاز شمالی انڈیا سے ہوا تھا اور اس کا نام اس کے مبینہ سرغنہ کے نام پر رکھا گیا۔\n\nانڈیا میں 2015 سے جیل میں ہونے کے باوجود حکام کا الزام ہے کہ لارنس بشنوئی اپنے ساتھیوں اور خفیہ مواصلاتی ذرائع کے ذریعے سلاخوں کے پیچھے سے اپنی کارروائیاں چلا رہا ہے۔\n\nاس گینگ پر بھتہ خوری، سپاری دے کر قتل کروانے، فائرنگ، منشیات اور اسلحے کی سمگلنگ اور کاروباری مالکان و عوامی شخصیات کو ڈرانے دھمکانے میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔\n\nانڈین سکیورٹی ایجنسیوں نے اس گروپ کو کئی ہائی پروفائل قتل کے واقعات سے جوڑا ہے، جن میں 2022 میں پنجابی گلوکار سدھو موسے والا کا قتل شامل ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nجاسوس نے گواہی دی کہ یہ گینگ کینیڈا میں موجود ان انڈینز کو ملازمت دے کر رقم بٹورتا ہے جنہیں ٹارگٹڈ اموات اور فائرنگ کی کارروائیاں کرنے کے لیے ’معمولی‘ رقوم ادا کی جاتی ہیں۔\n\nانہوں نے کہا کہ جن مردوں کو ہائر کیا جاتا ہے وہ کمیونٹی میں ایک پہچان یا تعلق کا احساس بھی تلاش کر رہے ہوتے ہیں۔\n\nانہوں نے کہا ’میرے خیال میں ان میں سے بہت سے لوگ اسے ایک طرح سے کسی تنظیم یا گروپ کا حصہ بننے کے طور پر دیکھتے ہیں۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا ’ان میں سے بہت سے لوگوں کو سکولوں میں نشانہ (بھرتی) بنایا جا رہا ہے۔‘\n\nمبینہ طور پر بھتہ خور گینگ جنوبی ایشیائی کاروباری مالکان اور رہائشیوں کو نشانہ بناتے ہیں اور ان سے خطیر رقم کا مطالبہ کرتے ہیں۔\n\nافسر کے مطابق جو لوگ ادائیگی سے انکار کرتے ہیں انہیں اپنے گھروں اور کاروباری مقامات پر انتقامی فائرنگ کے خدشات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔\n\nانہوں نے مزید کہا ’اس تفتیش کے دوران ہم نے جس بھی فرد کی شناخت کی وہ ایک عارضی غیر ملکی کارکن (ٹیمپریری فارن ورکر) ہے یا سٹوڈنٹ ویزا پر ہے اور کینیڈا میں نسبتاً نیا ہے۔‘\n\nپولیس افسر نے بتایا کہ بھتہ خوری کے مطالبات عام طور پر وٹس ایپ پر کیے جاتے تھے اور ان میں اکثر لارنس بشنوئی یا اس کے سابق قریبی ساتھی گولڈی برار کے ناموں کا سہارا لیا جاتا تھا۔\n\nلارنس بشنوئی\n\nسدھو موسے والا\n\nکینیڈا\n\nانڈیا\n\nگینگ\n\nکینیڈا میں بھتہ خوری بڑھنے لگی۔ لارنس بشنوئی گینگ کی کینیڈین پولیس کو خط لکھ کر حملوں کی دھمکی۔\n\nشویتا شرما\n\nجمعہ, مئی 29, 2026 - 17:45\n\nMain image:\n\n> <p>اے این آئی کی روئٹرز کو فراہم کردہ اس تصویر میں لارنس بھشنوئی 18 اپریل، 2023 کو نئی دہلی کی ایک عدالت میں پیشی کے بعد باہر آ رہے ہیں (اے این آئی)</p>\n\nدنیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nسلمان خان نے بلینک چیک آفر کیا تو خون کھول اٹھا: کزن بشنوئی\n\nانڈیا اور کینیڈا میں کشیدگی کی وجہ بننے والے لارنس بشنوئی کون ہیں؟\n\nسدھو موسے والا قتل کیس میں پہلی گرفتاری\n\nسدھو موسے والا کے مبینہ قاتل گولڈی برار کون؟\n\nSEO Title:\n\nہمارے ایک ہزار سپاہی کینیڈا میں حملوں کے لیے تیار ہیں: انڈین گینگ\n\ncopyright:\n\nIndependentEnglish\n\norigin url:\n\nhttps://www.independent.co.uk/asia/india/canada-india-lawrence-bishnoi-gang-letter-b2985754.html\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "ہمارے ایک ہزار سپاہی کینیڈا میں حملوں کے لیے تیار ہیں: انڈین گینگ"
}