{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreigh5tql5tkm6h4dg6am5b45ihhavmulpowlwhbtuv3wyzvr6bqepq",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mmzslrwiopr2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreif7n7exo4dprazgjmpsybfpebp2zwldkiemrvxvsklaztkc65pfsa"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 59129
  },
  "path": "/node/186093",
  "publishedAt": "2026-05-29T17:46:19.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "View this post on Instagram",
    "A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)",
    "فلسطین",
    "فلسطینی ریاست",
    "اسرائیل",
    "ابراہیمی معاہدہ",
    "اسحاق ڈار",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "پاکستان",
    "video"
  ],
  "textContent": "**پاکستان نے جمعے کو ایک بار پھر کہا ہے کہ جب تک فلسطین کو تسلیم نہیں کیا جاتا، تب تک وہ ابراہم معاہدے کا حصہ نہیں بنے گا۔**\n\nیہ بات پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے واشنگٹن میں امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کے بعد ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہی۔\n\nاسحاق ڈار کا کہنا تھا: ’افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ پاکستان کو کہا گیا ہے کہ وہ معاہدہ ابراہیمی کا حصہ بنے۔ پاکستان کی اس حوالے سے ہمیشہ بہت واضح پالیسی رہی ہے کہ جب تک فلسطین کو تسلیم نہیں کیا جاتا، وہ سنہ 1967 سے پہلے والے ماڈل پر واپس نہیں جاتا اور قدس الشریف (یروشلم) اس کا دارالحکومت نہیں بن جاتا، تب تک اس معاملے پر کوئی لچک نہیں آ سکتی۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nابراہم معاہدے کے تحت مسلم اکثریتی ممالک اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرتے ہیں۔\n\nیہ معاہدہ 2020 میں صدر ٹرمپ کے پہلے دور صدارت میں سامنے آیا تھا، جب متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کو تسلیم کیا۔\n\nبعد میں مراکش اور سوڈان نے بھی تعلقات معمول پر لانے کی جانب پیش رفت کی۔ تب سے واشنگٹن مزید ممالک کو اس معاہدے کا حصہ بنانا چاہتا ہے۔\n\nامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند روز قبل ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا تھا کہ انہوں نے پاکستان، سعودی عرب، قطر، ترکی، مصر اور اردن سمیت کئی مسلم اور عرب ممالک سے کہا ہے کہ وہ اس معاہدے میں شامل ہوں۔\n\nانہوں نے اس پورے عمل کو ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے اور خطے میں امن کی کوششوں سے جوڑنے کی کوشش کی۔\n\nاس پر پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا تھا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے پیش کیا گیا ابراہم معاہدہ قابل قبول نہیں کیوں کہ ’یہ ہمارے بنیادی نظریات سے متصادم ہے۔‘\n\n> View this post on Instagram\n>\n> A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)\n\nنجی نیوز چینل سما سے گفتگو میں انہوں نے کہا ’میرا نہیں خیال کہ ہم کسی ایسے معاہدے میں شامل ہوں گے جو ہمارے بنیادی نظریات سے متصادم ہوں۔\n\n’میرے ذاتی خیال میں اس وقت ہم نے کوئی اقدام لیا ہے نہ کسی نے ہمیں (باضابطہ اس میں شامل ہونے کو) کہا ہے۔ اس وقت بھی غزہ (فائر بندی) معاہدے کی خلاف ورزی ہو رہی ہے تو ان لوگوں کے ساتھ کیسے بیٹھا جا سکتا ہے جن پر ایک دن کا بھی اعتبار نہ ہو۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا تھا ’ہمارا واضح موقف ہے کہ یہ (ابراہم معاہدہ) ہمارے لیے قابل قبول نہیں اور ہم واحد ملک ہیں جس کے پاسپورٹ پر اسرائیل کا نام ہی شامل نہیں (اسرائیل کے لیے کارآمد نہیں)۔‘\n\nپاکستانی دفتر خارجہ بھی ماضی میں کئی بار واضح کر چکا ہے کہ اسلام آباد ابراہم معاہدےکا حصہ نہیں بنے گا اور وہ القدس شریف کو دارالحکومت بنانے والی آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت جاری رکھے گا۔\n\nفلسطین\n\nفلسطینی ریاست\n\nاسرائیل\n\nابراہیمی معاہدہ\n\nاسحاق ڈار\n\nپاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس میں کہا کہ پاکستان کی اس حوالے سے ہمیشہ بہت واضح پالیسی رہی ہے۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nجمعہ, مئی 29, 2026 - 22:45\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">18 نومبر، 2025 کو پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار ماسکو میں روس کے وزیرخارجہ کے ساتھ ایک ملاقات کے موقعے پر (اے ایف پی)</p>\n\nپاکستان\n\njw id:\n\nGIIkwwam\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nابراہم معاہدہ قابل قبول نہیں: پاکستان\n\nکیا ابراہیمی معاہدے کے پیچھے اسرائیلی بالادستی کا خواب ہے؟\n\nمعاہدہ ابراہیمی کی قربانی\n\nغزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کا مطلب ابراہم معاہدے کا حصہ بننا نہیں: پاکستان\n\nSEO Title:\n\nفلسطین کو تسلیم کیے بغیر ابراہم معاہدے پر کوئی لچک نہیں: پاکستان\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "فلسطین کو تسلیم کیے بغیر ابراہم معاہدے پر کوئی لچک نہیں: پاکستان"
}